Welcome to قیصر خان پتافی کے کالم
Learn more about me about page..
Posted by قیصر خان پتافی on جولائی 24 2008 |
متفرق
اس وقت پوری دنیا میں مسلمان تنزلی کا شکار ہیں۔ دیکھا جاءے تو کسی مسلمان ملک کے پاس تیل کی دولت موجود ہے اور کسی کے پاس ایٹمی طاقت اور افرادی قوت کے لحاظ سے بھی مسلمان ممالک خود کفیل ہیں۔پر پھر بھی مسلمان آج دنیا میں کمزور قوت جانے جاتے ہیں۔ علماء کی نظر میں اس وقت مسلمانوں کی تنزلی کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان اپنے مذہبی عقیدوں کو ترک کر چکے ہیں ۔ جیسا کہ وہ نماز نہیں پڑھتے،زکوۃ ادا نہیں کرتے، سچ بولنا چھوڑ بیٹھے ہیں، ملاوٹ اور ذخیرہ اندوزی کو اپنا کاروبار بنا بیٹھے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ میری نظر میں یہ باتیں تو درست ہیں لیکن میں ان باتوں میں اضافہ کرنا چاہوں گا۔ ہم مسلمان جب بھی کوٴی کام کرتے ہیں خواہ وہ کاروبار ہو یا جنگ تو اس میں مکمل وساءل و تیاری کو ملحوظ خاطر نہیں رکھتے کیونکہ ہم سوچتے ہیں کہ ہم تو مسلمان ہیں۔ کام کی کمی بیشی اللہ تعالی پوری کر دیں گے اور ہم کامیاب ہو جاٴیں گے لیکن نتاءج اس کے برعکس ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلے تو ہم تیاری اور وساءل کے مکمل انتظام کو ملحوظ خاطر نہیں رکھتے۔ دوسرا ہمارے اعمال مسلمانوں جیسے تو رہے نہیں کہ اللہ کی مدد ہمارے پاس آ جاءے اور ہم کامیاب ہو جاءیں۔ جیسا کہ غزوہ بدر وساءل کی کمی کے باوجود ایمان کی دولت ہونے کی وجہ سے اللہ کی مدد آن پہنچی اور مسلمانوں نے یہ جنگ جیت لی۔ مولانا ابو الکلام آزاد نے اپنی کتاب ’’غبار خاطر‘‘ میں ایک خط میں لکھا کہ جب صلیبی جنگیں لڑی جا رہی تھیں تو مسلمان اس دور کے بہترین جنگی سامان سے لیس ہوتے تھے ۔ جیسا کہ ان کے پاس پٹراری( منجنیق) ہوتے تھے ۔ جب وہ عیساءیوں پر گولا پھینکتے تھے تو اس گولے کو دیکھ کر عیساٴی گھٹنوں پر بیٹھ کر اور ہاتھوں کو جوڑ کر عیسیٰ مسیح کو مدد کے لیے پکارتے تھے ، پر فیصلہ وہی ہونا ہوتا تھا جس کی امید ہوتی تھی یعنی مسلمان فتح یاب ہوتے تھے۔
اس کے برعکس جب مصر پر نپولین حملہ آور ہوا تو وہاں کے حکمرانوں نے علماء کو حکم دیا کہ ’’الاظہر‘‘ میں جا بیٹھو اور ’’ ختم خواجگان‘‘ کرو۔ پھر مولانا فرماتے ہیں کہ ’’ختم‘‘ ابھی ختم نہیں ہوا تھا کہ مصر میں مسلمانوں کی حکومت کا خاتمہ ہو چکا تھا۔ آگے وہ لکھتے ہیں کہ دعاءیں ضرور قبول ہوتی ہیں پر عقل اور قوت ارادی کا بھرپور استعمال کرنے والوں کعے لیے اور نکمے لوگوں کے لیے تو فقط ’’تعطل قوۃ‘‘ کا باعث۔ گویا دعا کے ساتھ قبولیت کی اہم ضرروت عقل کا بھرپور استعمال بھی ہے ۔ آج ہم پوچھتے ہیں کہ طالبان میں کس چیز کی کمی تھی اور ذہن میں فوراً خیال آتا ہے کہ ’’اجتہاد‘‘ کی ۔ اس سے پہلے کہ آپ کسی نتیجے پر خوامخواہ پہنچیں تو میں بتانا چاہتا ہوں کہ اجتہاد کیا ہے ۔ اسلام کو اس دنیا میں آءے چودہ سو سال سے زیادہ بیت چکے۔ ان چودہ صدیوں میں انسانیت نے بے شمار تکنیکی انقلابات برپا کیے۔ اب یا تو آپ نظام کو وہیں چھوڑ دیجیے جہاں اسلام کی تکمیل ہوٴی تھی یا پھر نبی کریمؐ کے احکامات کے مطابق عقل استعمال کرتے ہوءے ان تکنیکی جدتوں کو اپنا لیجیے۔
طالبان نے اس دوسرے طریقے کو اپنانے سے انکار کر دیا جس کی وجہ اسلام نہیں بلکہ قباءلی نظام ہے جو لوگ طالبان کے دور میں کابل گٔے ہوں گے انہیں یاد ہو گا کہ کابل کے داخلی چیک پوسٹ پر ڈش انٹینا محض سجاوٹ کے لیے رکھا گیا تھا گویا اس کا استعمال تو نہ کیا گیا مگر اسے لوہے کی ظروف کے طور پر رکھا گیا ۔ آب آپ ہی بتاٴیے کہ اس طریقے سے کیا آپ حملہ آور کی جدید ترین اور انتہاٴی سازشی طاقت کس طرح پسپا کر پاءیں گے؟ طالبان کے وہ دعوے کہ ہم یورینیم کے بغیر ایٹم بم تیار کر لیں گے دھرے کے دھرے رہ گٔے اور جب دشمن ان پر جدید جہازوں کے ذریعے سے حملہ آور ہوا تو ان کے پاس چند ہی جہاز تھے پر ان جہازوں نے ناقص ہونے کی وجہ سے اڑنے سے انکار کر دیا۔ ایک محفل میں ایک ریٹایرڈ جج صاحب نے مجھے ایک واقعہ سنایا جو انتہاٴی قابل غور ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مجھے ایک دفعہ ایک دعوت میں مدعو کیا گیا جس میں کافی سیاستدان اور علماء بھی شامل تھے۔ جب کھانے کا وقت ہوا تو میرے ساتھ والی کرسی پر ایک مفتی صاحب براجمان ہوءے اور کھانا شروع ہو گیا، میں نے معمول کے مطابق کھانا چھری اور کانٹے سے کھایا۔کھانے کے اختتام پر وہ مفتی صاحب جو میرے ساتھ والی کرسی پر بیٹھے تھے نے مجھے کہا کہ کیا ہی اچھا ہوتا کہ آپ ہاتھ سے کھانا کھاتے اور سنت پوری کرتے نہ کہ چھری کانٹے سے کھاتے۔ ان کی بات سن کر جج صاحب نے کہا آپ درست فرماتے ہیں کہ مجھے واقعی ہاتھ سے کھانا چاہیے تھا تا کہ سنت پوری ہوتی۔ چند منٹ بعد ہی جب جج صاحب اپنی گاڑی میں بیٹھنے کے لیے عمارت سے باہر نکلے تو مفتی صاحب بھی وہاں اپنی گاڑی کے منتظر تھے ۔ چند ہی لمحوں میں ان کی بڑی لینڈ کروزر سامنے آ کر رکی۔ جب مفتی صاحب اس میں بیٹھنے لگے تو جج صاحب نے ان کا بازو پکڑا اور کہا کہ ’’ مفتی صاحب کیا ہی اچھا ہوتا کہ آپ اونٹ پر سواری کرتے اور سنت پوری کرتے نہ کہ لینڈ کروزر پر‘‘۔ اگر ہم دیکھیں کہ لاٴوڈ سپیکر کی دریافت اسلام کے لیے کتنی فاءدہ مند ثابت ہوٴی کہ اذان کی آواز اس دریافت کے ذریعے دور دور تک پہنچ جاتی ہے اور اگر ہم دوسرے مذاہب کی عبادت کے طریقہ پکار کو دیکھیں تو ہم یہ جانیں گے کہ لاءوڈ سپیکر کے استعمال کی بدولت ہمارا نظام ان سب سے بہتر ثابت ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتے ہیں کہ انہوں نے چاند سورج غرض کہ تمام فطرت کو انسان کے لیے مسخر کر دیا تا کہ وہ بشر خدا کو پہچان سکے لیکن چونکہ ہم نے علم کو دینی اور دنیاوی اقسام میں بانٹ دیا ہے اور اس بات سے مکمل رخصت حاصل کر لی ہے کہ ہم دنیاوی علوم میں پڑیں۔ ظاہر ہے اس سے علم کی بساط ان لوگوں کے ہاتھ میں چلی گءی ہے جو کہ فطرت کو خدا کی ذات کے انکار کے لیے استعمال کرتے ہیں اور اس سے حاصل طاقت کو ہمارے اوپر ہی حملے اور ہمارے نقصان کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اگر ہم نے آج آنکھیں نہ کھولیں اور ان علوم کو واپس نہ لیا تو شاید خدا اسلام کی نشاط ثانیہ کا بیڑا کسی اور قوم کو دے دے گا۔
ہم مسلمان ہر بات پر جنگ کے لیے تیار ہو جاتے ہیں ۔ پر اس نظام کو اپنے خون کی بوند بوند میں شامل کر چکے ہیں ۔ جس نظام کو اپنانے والے کے خلاف اللہ اور اس کے رسول ؐ نے اعلان جنگ کر رکھا ہے اور وہ نظام ہے ’’سود کی لعنت‘‘۔ ہارے پاس اس نظام کے خاتمے کے لیے کوٴی دوسرا نظام موجود نہیں اور نہ ہی دوسرا نظام بنانے کی کوشش کی گءی ہے۔ اگر کوٴی برأے نام نظام اسلام کے نام پر بنایا گیا ہے تو وہ اس سے بھی ظالمانہ ہے ۔ اگر سودی نظام میں سود دس فیصد لیا جاتا ہے تو اس دوسرے نظام میں اس سے بھی دوگنا۔ اب مسلمانوں کو بند آنکھیں کھولنی ہیں اور اسلام کی روح کو سمجھتے ہوءے دینی اور دنیاوی تعلیم کے تضاد کو مٹانا ہے تا کہ مسلمانوں کی ترقی کا سورج پھر سے طلوع ہو اور ہم ایسے نظام پیدا کر سکیں جو اس ظالمانہ سودی نظام اور اس جیسے دیگر غیر انسانی نظاموں کا خاتمہ کر سکیں اور یہی ضرورت رفتہ ہے۔
no comments for now
Posted by قیصر خان پتافی on جولائی 23 2008 |
متفرق
سب دم سادھے ہوءے تھے سب کو یہ ڈر تھا کہ کہیں یہ سلسلہ دوبارہ شروع نہ ہو جاءے۔ پر آخر کار لال مسجد کی برسی گزرنے پر خود کش حملہ ہو گیا اور وہ فاءر بندی جو الیکشن کے بعد قاءم ہو گءی تھی اس کے برقرار رہنے کا خواب چکنا چور ہو گیا۔ اس بار بھی غریب ہی مرا۔ اسلام آباد کے بم دھماکے میں جو پولیس اہلکار شہید ہوٴے ان میں سے کسی ایک کا تعلق بھی افسران بالا سے نہ تھا اور نہ ہی جو غیرسرکاری لوگ شہید ہوٴے ان کا تعلق وزارت کے عہدے سے تھا۔ سب غریب و عام افراد شہید ہوٴے۔ پہلے تو صرف بڑے لوگ ہی عام افراد کے جان و مال و عزت کو سستا سمجھتے تھے جیسا کہ الیکشن سے پہلے ٹیلی ویژن کے تقریباً ہر چینل پر بیگم عابدہ حسین کی مرادانہ قوت کا مظاہرہ دکھایا جا رہا تھا کہ وہ کچہری میں گھومتے ہوٴے سرعام آمر حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتی ہوٴی وہاں کینٹین میں چلی گءیں اور وہاں پولیس کا ایک عام سپاہی کھانا جا رہا تھا کہ بیگم عابدہ حسین نے اس کے آگے سے پلیٹ کو ہاتھ مار کر پلٹ ڈالا اور کہا دیکھو یہ حلوہ کھا رہا ہے ، ٹیکس میں دیتی ہوں اور یہ پولیس والے میرے پیسوں سے حلوے کھاتے ہیں اور ظلم کرتے ہیں۔ کسی نے بیگم عابدہ حسین سے یہ نہ کہا کہ بیگم صاحبہ اگر جواں مردی دکھانی ہے تو کسی آٴی جی یا ڈی آٴی جی کے دفتر یا گھر میں گھس کر اس افسر کے آگے سے کھانے کی پلیٹ کو پلٹ کر دکھاءیں تو ہم مانیں۔ ایک بے ضرر سے سپاہی کے کھانے کی پلیٹ کو تو کوٴی بھی ہاتھ مار کر گرا سکتا ہے ۔
پر اب خود کش حملہ آور جو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ حق کی لڑاٴی لڑ رہے ہیں وہ بھی صرف غریبوں کو ہی مارتے ہیں شاید اسی دور کو فتنہ کا دور کہا گیا ہے ۔ جس دور میں میں وہ گروہ شدت کے ساتھ لڑیں اور دونوں گروہ عقل کے تالے بند کر دیں۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ ایک دفعہ ملا دو پیازہ سفر کے دوران ایک بستی سے گزر رہے تھے کہ دیکھا کہ ایک بارات ایک گھر کے دروازے کے باہر کھڑی ہے اور باراتی آپس میں بحث میں لگے ہیں۔ ملا دوپیازہ ان لوگوں کے پاس پہنچے اور پوچھا کہ کیا ماجرا ہے ۔ ان لوگوں نے بتایا کہ دولہا گھوڑے پر بیٹھا ہے اور گھر جس میں دولہا نے داخل ہوناہے اس کا دروازہ چھوٹا ہے۔ تو اب بحث یہ ہو رہی ہے کہ دولہا اندر کیسے داخل ہو کوٴی مشورہ دیتا ہے کہ دولہا کا سر کاٹ دو اور کوٴی کہتا ہے دروازہ اور دیوار توڑ دو اب حل نہیں مل رہا ۔ تو ملا دو پیازہ نے کہا یہ کون سا مشکل کام ہے تم لوگ تو سارے بیوقوف ہو ایسا کرو کہ نہ ہی دولہے کا سر کاٹو اور نہ ہی دروازہ دیوار توڑو بلکہ ایسا کرو کہ گھوڑے کی ٹانگیں کاٹ دو اور اسے اندر گھسیٹ لو۔ اس بات پر سب لوگوں نے ملا دوپیازہ کی عقل کی داد دی اور اسی فارمول ےپر عمل کرنے لگے ۔ اس وقت بھی یہی حالت ہے کہ جو بھی فیصلے کرنے والے ہیں وہ اسی قسم کے فیصلے کر رہے ہیں پہلے تو ہماری حکومت نے امریکہ کی جنگ کو اپنے اوپر مسلط کر لیا ہے اور دوسری طرف امریکہ کے خلاف لڑنے والے ہیں وہ بھی معصوم عوام وہ ایسے سرکاری اہلکاروں کو شہید کر رہے ہیں جن کا تعلق دور دور تک کسی بھی اہم فیصلے کرنے سے نہیں وہ تو بے چارے اپنے ماں باپ و بیوی بچوں کے پیٹ بھرنے کے لیے روزگار کی تلاش کے چکر میں ہیں۔ جب 9/11 ہوا اور ہمارے ملک کو امریکہ نے مدد کے لیے پکارا تو جنرل پرویز مشرف صاحب نے امریکہ کی مدد کرنے کی حامی تو بھر لی پر اس بات سے انکار کر دیا کہ ہماری فوج افغانستان میں جنگ لڑنے کے لیے داخل ہو گی ۔ پھر ہم نے اس بات کی بھی مخالفت شروع کر دی کہ شمالی اتحاد کی افغان فوجوں کی مدد لی جاٴے ۔ طالبان کی حکومت کے خاتمے کے لیے یہی فیصلے ہمارے لیے انتہاٴی غلط ثابت ہوٴے تھے ۔ پہلے تو ہمیں اس جنگ میں گھسنےکی ضرورت ہی نہیں تھی کیونکہ امریکہ کی پاکستان کے ساتھ دوستی کا ریکارڈ کوءی اتنا اچھا نہیں تھا کہ پاکستان یہ جنگ اپنے سر لیتا اور اگر کوٴی ایسی مجبوری تھی کہ پاکستان انکار نہ کر سکتا تھا تو پاکستان کو اپنی فوج افغانستان بھیجنے پر بھی کوٴی اعتراض نہیں ہونا چاہیے تھا کیونکہ کسی کو قتل کرنے یا کسی کے ذریعے قتل کروانے میں کوٴی فرق نہیں۔ پر اگر ہماری فوج افغانستان میں داخل ہوتی تو وہاں آج ہماری رٹ قاٴم ہوتی اور امریکہ ہماری فوج کی مدد حاصل کرنے کے عوض اس سے بھی زیادہ پیسے ہمیں دیتا اور بھارت کے کان بھی پکڑتا کہ اس وقت پاکستان میری مدد کے لیے اپنی فوجیں استعمال کر رہا ہے اس لیے پاکستان کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھنا اور ہماری فوج کو میدان جنگ کا تجربہ بھی حاصل ہو جاتا اور ہمیں دنیا کے سامنے اپنے آپ کو دہشت گردی کے خلاف اور آزاد خیال ثابت کرنے کے لیے لال مسجد اور وانا جیسے ظالمانہ آپریشنز بھی نہ کرنا پڑتے اور یہ جنگ جسے دہشت گردی کا نام دیا گیا ہمارے ملک کی بجاءے اس ملک سے باہر لڑی جاتی اگر یہ بھی ممکن نہ تھا تو کم سے کم شمالی اتحاد کی مخالفت نہ کر کے ان کی دشمنی سے بچایا جا سکتا تھا۔ بعض دفعہ حیرت ہوتی ہے کہ کیا وجہ ہے کہ افغانستان میں امن قاءم ہی نہیں ہوتا اور ایک کے بعد ایک مصیبت اس ملک کو آن لپیٹتی ہے اس بات کا جواب مجھے مذہبی کتاب سے ملا جس میں لکھا تھا کہ ’’دجال‘‘ جو کاءنات کا سب سے بڑا فتنہ ہو گا اس دجال نامی ہستی کا خروج خراسان کی سرزمین سے ہو گا اور یہ خراسان کی سرزمین افغانستان میں واقع ہے جو ایران اور افغانستان کے بارڈر پر ہے شاید اسی فتنہ نحوست کی وجہ سے یہاں امن قاءم ہی نہیں ہو رہا یا پھر پدرت کی طرف سے افغانستان کے لوگوں کو اس فتنہ کا سامنا کرنے کے لیے ایسی مشکلات دے کر مضبوط کیا جا رہا ہے ۔
پر اس وقت تو ہمیں افغانستان کی چھوڑ کرر اپنی فکر ہے کہ ہم کن مساءل میں گھر گءے ہیں وہ دولت جو ہم نے اتنی مصیبتیں جھیل کر امریکہ سے کماٴی تھی وہ بھی ختم ہونے کو آ گءی اور یہ دہشت گردی کی جنگ بھی صرف ہمارے ملک میں ہی رچ بس گءی۔ اب ایک تو پیٹ خالی اوپر سے جانوں کا ڈر اور اب تو ہماری گلی میں پلے کتے بھی ہم پر بھونکنا شروع ہو گءے ہیں۔
بہرحال اب گزرے پر رونے سے مساءل حل تو نہیں ہو سکتے جب بھی کوٴی مسٔلہ ہمارے ملک میں اٹھتا ہے تو ہم لوگوں کے پاس کہنے کو ایک ہی بات ہوتی ہے کہ یہ امریکہ کروا رہا ہے سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم دوسروں سے یہ توقع کیوں کرتے ہیں کہ وہ اپنے مفاد کی ہمارے لیے ترک کر دیں۔ یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ امریکہ یا کسی اور ملک کے مفاد ہمارے ملک میں بے چینی یا انتشار پیدا کر دیں تو وہ اس کام کو کرنے سے باز آ جاءیں گے۔ یہ تو ہم نے سوچنا ہے کہ ہمارے مفاد کن چیزوں میں ہیں اور کہیں اس وقت ہم اپنے مفاد کو پیچھے رکھ کر صرف دوستی کی خاطر تو اپنے ملک کو غیر مستحکم نہیں کر رہے ؟
no comments for now
Posted by قیصر خان پتافی on جون 29 2008 |
متفرق
سندھ کا ایک راجہ اپنے پڑوسی ملک کے راجہ کے پاس مہمان ہوا۔ ایک دن دونوں بیٹھ کر شطرنج کھیل رہے تھے کہ میزبان راجہ کا ہاتھ ایک مہرے سے ٹکرایا اور وہ مہرہ مہمان راجہ کی گود میں جاگرا ۔میزبان راجہ نے کہا کہ یہ مہرہ واپس کر دیں تاکہ کھیل دوبارہ کھیلا جا سکے۔ پر مہمان راجہ نے انکار کر دیا اور کہا یہ مہرہ میں کبھی واپس نہیں کروں گا چاہے آپ میری جان ہی کیوں نہ لے لیں ۔میزبان راجہ نے کہا ،آپ کیوں اتنے سنجیدا ہو رہے ہیں یہ تو صرف کھیل کا ایک بےجان مہرہ ہے۔تب مہمان راجہ نے کہا چاہے بےجان مہرہ ہو پر اب اس نے میرے پاس سام لے لی ہے ۔ اب میں اسے ہر گز واپس نہیں کروں گا۔ میزبان راجہ نے اس مہمان راجہ کی ضد کو میزبانی کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے مان لی ۔ کھیل ختم ہو گیا۔اور چند روز بعد مہمان راجہ اپنی سلطنت میں واپس لوٹ گیا۔ کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ اس میزبان راجہ کی سلطنت پر حملہ ہو گیا اور دشمن اس کے محل تک پہنچ گیا ۔ تب اس راجہ نے اپنے وفادار ملازمین کو حکم دیا کے میری بیوی بچوں کو فوراً اس مہمان راجہ کے پاس لے جاؤ اور کہو کہ یہ سام لینے آئے ہیں ۔اس نے اپنے بیوی بچوں سے کہا کہ تم لوگ بےفکر ہو کر اس راجہ کہ پاس جاؤ کیونکہ وہ راجہ جو ایک مہرہ مجھے نہیں دیتا تھا، کیونکہ بقول اس کے اس مہرہ نے اس راجہ سے سام لی تھی تو اب وہ راجہ تم لوگوں کو کیسے میرے دشمنوں کے حوالے ہونے دے گا۔ سام کے معنی پناہ لینے کے ہیں ۔اور یہ روایت صدیوں سے سندھ کی سرزمین پر قائم اور دائم ہے۔
کہاں ایسی شاندار روایتوں کی سرزمین ہے یہ پاکستان اور اب ہم کن غلط روایات کو اپنا بیٹھے ہیں۔ اب ہم انکل سام یعنی امریکا کی پھینکی گئی دولت کے عوض اپنے لوگ مارتے ہیں اور بعض اٹھا کر ان کے حوالے کر دیتے ہیں۔ یہ وہ امریکا ہے ۔ جب اس کا مفاد ہوتا ہے تو یہ ہمارا دوست بن کر دوڑا چلا آتا ہے اور اپنا کام نکلوا کر دور کھڑا ہو جاتا ہے۔ اور ہمارے مشکل وقت میں ہماری طرف مڑ کربھی نہیںدیکھتا ۔ جیسا کہ 1971 کی جنگ میں پاکستانی عوام اور حکومت کی نظریں امریکی مدد کی منتظر تھیں تو ان نظروں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ۔
پاکستان جب ہندوستان کے ایٹمی دھماکوں کے بعد اپنی سالمیت کی خاطر ایٹمی دھماکے کرتا ہے تو ہم پر کڑی پابند یاں لگا دی جاتی ہیں ۔ اورامریکا کا اس وقت کا صدر، بھارت کا تو خوش مزاجی کے ساتھ دورا کرتا ہے اور پاکستان میں چند گھنٹوں کے لئے اترتا ہے اورپاکستان میں اس وقت کی موجود جمہوری حکومت سے بغیر بات چیت کیے، بڑی بےرخی دکھا کر چلا جاتا ہے۔ پھر جب 911 کے بعد اس امریکا کو دوبارہ ہماری ضرورت محسوس ہوتی ہے تو ہمارے دشمن بھارت کی فوجیں بارڈر پر لا کر ہم پر دباؤ ڈ لواتا ہے اور اپنے مقصد کی تکمیل کی خاطرہمارے پاس دوڑا چلا آتا ہے۔ پھر ایسے امریکا کی خاطر ہمارے ملک نے اپنے پیر پر کلہاڑہ مارا اور اپنی بنائی گئی طاقت طالبان کو افغانستان سے اکھاڑ پھینکا ۔اور اس ملک کی ایک اور سرحد کو غیر محفوظ کر لیا۔پر ایسی خدمت کے باوجود امریکا نے نیوکلیئر ڈیل ہمارے دشمن ملک بھارت کو آفر کر دی اور ہمیں صرف باتوں سے خوش کر دیا ۔ ہماری مدد صرف چند ڈالروں سے کی گئی ۔جن کے ساتھ وقت تو گزارا جا سکتا تھا پر اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہوا جاسکتا تھا۔
جب روس نے افغانستان میں اپنی فوجیں اتاریں تب پاکستان کو اپنی سالمیت خطرے میں نظر آئی ۔ اس وقت بھی ہمارے ملک پر فوج کے سربراہ کی حکمرانی تھی اور اس نے پاکستان کو بچانے کی خاطر جہاد کا نعرہ لگایا اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو مدد کے لئے پکارہ۔ اور اس کی آواز پر دنیا بھر کے مسلمان جن کے دل ایمان کی دولت سے سرشار تھے نے لبیک کہا اور یہاں آن پہنچے۔اور محدود وسائل کے ساتھ لڑی گئی یہ جنگ ،جزبہ ایمان سے جیت لی گئی۔ چونکہ یہ جنگ بہت طویل دورانئے کی تھی اور اس وجہ سے جہاد میں آئے دوسرے ممالک کے مجاہدین افغانستان اور پاکستان کی سرزمین پر رچ بس گئے اور انھوں نے یہیں شادیاں کر لیں اور یہیں رہائش پزیر ہو گئے۔ دیکھا جائے تو یہ وہی لوگ ہیں جو ہماری مدد کی خاطر اس ملک میں آئے ۔
جب پھر ہمارے ملک پاکستان کو لگا کہ چند گروہ افغانستان میں پاکستان کے لئے خطرہ بن رہے ہیں تو پھر ہمارے ملک کی فوج نے انھی مجاہدین کی مدد لی اور طالبان نام کی جماعت کو پیدا کر دیا ۔جس کی تصدیق جنرل حمید گل کر چکے ہیں۔ اس دفع بھی کامیابی حاصل ہوئی اور طالبان نامی جماعت نے پوری طرح سے افغانستان کی حکومت سمبھال لی اور ہماری افانستان کی سرحد محفوظ ہوگئ۔
جہاد کرنے والا دوسرا گروہ ہمارے صوبہ سرحد کے بہادر قبائلی تھے ۔یہ وہ ہمدرد قوم ہے جس نے 1947 میں ،جب پاکستان وجود میں آیا اور مسلمان آبادی والی ریاست کشمیر پاکستان کو نہ دی گئی اور اس وقت کی فوج نے کشمیر پر قبضہ کرنے سے انکار کر دیا ۔ تب یہی پاکستانی بہادر قبائلی تھے جنھوں نے کشمیر پر چڑھائی کی اور کشمیر کا وہ حصہ جو آج پاکستان کے پاس ہے کو آزاد کروایا .
اب ہم یہ بھول چکے ہیں کہ ہم لوگ ہی وہ لوگ ہیں جو سام جیسی روایات کے مؤجد ہیں۔ اور اس وقت ہماری حکومت انھی محسنوں کو امریکا جیسے مطلبی دوست کے کہنے پر چن چن کر مار رہی ہے ۔جنہوں نے ہمارے ملک کی سالمیت کی خاطر اپنی جان کی قربانیاں دیں۔ ہماری حکومتیں ان سے مفاد تو حاصل کرتی رہیں پر ان قبائلی علاقوں کو سنوارنے کی کبھی کوشش نہیں کی۔ہم نے نا صرف ان محسنوں کو اپنا دشمن بنا لیا ہے جو اپنے گھر بار چھوڑ کر ہمارے ملک ہماری مدد کے لئے آۓ تھے۔ بلکے اپنے ملک کے عوام کو بھی امریکا کے حکم پر غلط پالیسیوں کی وجہ سے دشمن بنا لیا ہے۔
اب تک تو یہ پالیسیاں ایک آمر کے حکم پر بنتی اور لاگو ہوتی رہیں پر اب جب سیاسی حکومت بھی اسی نقش قدم پر چلنے لگی ہے توآنے والے دنوں میں دور دور تک امن کی فاختہ ہمارے ملک میں گھونسلا بناتے نظر نہیں آتی۔ بلکے اس سبق کے بعد آنے والے دنوں میں کبھی دوبارہ ہمیں کسی کی مدد حاصل کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو امریکہ جیسا مطلبی ملک تو ویسے ہی نظریں پھیرے کھڑا ہو گا اور اس کے علاوہ ہماری مدد کو شاید ہمارے محسن بھی نہ آیں۔ بالکل اس شخص کی پکار کی طرح جو روز شور مچاتا تھا کہ شیر آیا شیر آیا۔ اور جب لوگ پہنچتے تو کہتا مزاق تھا۔ اور جس روز اصل شیر آیا تو اس کی پکار پر آنے والا کوئی نہ تھا۔
ابھی بھی کچھ وقت باقی ہے کہ ہم فیصلہ کریں کہ ہم نے کس سام کے پیچھے چلنا ہے ۔ اپنی مضبوط قدیمی روایت “سام” کے پیچھے یا مطلبی انکل سام”امریکا” کے پیچھے۔
no comments for now
Posted by قیصر خان پتافی on جون 16 2008 |
متفرق
بوڑھے باپ نے کوے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے جوان بیٹے سے پوچھا ، وہ کیا ہے ۔بیٹے نے جواب دیا ابو کوا ہے۔ پھر سے باپ نے کوے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بیٹے سے پوچھا وہ کیا ہے ۔ بیٹے نے باپ سے کہا ابو ابھی آپ کو بتایا ہے کہ وہ کوا ہے۔پھر سے باپ نےکوے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بیٹے سے پوچھا وہ کیا ہے۔ تب بیٹا ناراض ہو گیا ۔ کہا ابو آپ کو کتنی دفعہ بتاؤں کےیہ کوا ہے ، کوا ہے ،کوا ہے۔تب باپ نے بیٹے سے کہا ،ناراض مت ہو اور ادھر میرے ساتھ آکر بیٹھو۔ جب بیٹا باپ کے پاس آکر بیٹھا تو باپ نے بیٹے کو ایک ڈائری پکڑائی اور اس کے ایک صفحہ کو پڑھنے کو کہا۔ وہ ڈائری اس باپ کی تھی ۔جس میں وہ اپنی یاداشتیں لکھتا تھا۔ جب اس صفحہ کو بیٹے نے پڑھا تو اس پر لکھا تھا ، آج میرا بیٹا چار سال کا ہو گیا ہے اور آج اس نے کوے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بیس دفعہ مجھ سے پوچھا ، ابو یہ کیا ہے ؟۔ اور میں نے بیس دفعہ اسے جواب دیا کہ بیٹا یہ کوا ہے۔ اور مجھے ہر دفعہ اسے بتاتے ہوئے بہت خوشی ہوئی ۔
آجکل کے بدلتے حالات میں نوجوان نسل جہاں اپنے مذہب سے دور ہوتی جارہی ہے ۔ وہاں مغربیت کی تقلید میں اپنے اسلاف سے بھی انحراف کر رہی ہے۔نئی نسل ہماری مضبوط مذہبی و ثقافتی اصولوں کو پرانا اور ناقابل عمل فعل قرار دیتی ہے۔ اس نسل کا سوچنا ہے کہ یہ خیالات اب قابل عمل نہیں اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔جبکہ وہ یہ نہیں سمجھ سکتے کے جلد ترقی کرنے اور مشکلات سے بچنے اور ان کے حل کے لئے جتنی اہمیت تجربہ کی ہے ۔ اتنی اہم شاید کوئی اور شئے نہ ہو گی۔ اور والد جو اپنے بچوں کی پرورش کے لئے ہر روز معاش کی تلاش میں گھر سے نکلتا ہے ، روزانہ تجربات سے گزرتا ہے۔ اور جب اس کی اولاد جوان ہو جاتی ہے ۔ تو وہ والد اپنی اولاد کو راہ ترقی پر ڈالنے والے تمام تجربے اپنے سینے میں محفوظ رکھتا ہے۔ اور گاہے بگاہے ان کی رہنمائی کرتا ہے۔ پر آجکل کی اولاد ان تجربات کی نصیحت پر ذرا کان نہیں دھرتی ، اور ان باتوں کو سننا وقت کا ضیاع سمجھتی ہے ۔ اسی طرح وقت گزرتے پتہ نہیں چلتا اور وہ اولاد خود والدین بن جاتے ہیں۔ایک مفکر کا قول ہے کہ “وہ بہت بےوقوف انسان ہے ،جس کے پاس کوئی تجربہ کار اپنے تجربے کی روشنی میں مشورہ دینے کے لئے موجود ہو ۔ پر وہ اس پر کان نہ دھرے اور خود تجربہ کر کے اس سبق کو سیکھے”۔ یہ بات بالکل اسی طرح ہے جیسے کوئی حساب کا طالب علم کہے کہ میں تو آئنسٹائن کے حل شدہ فارمولوں کو نہیں مانتا اب وہ پرانے ہو چکے ۔ میں خود وہ سوال دوبارہ حل کروں گا اور پھر آگے چلوں گا۔تو کیا یہ عقلمندی ہو گی؟ وقت کا کتنا ضیاع ہو گا۔ پر اگر وہ آئنسٹائن کے فارمولوں کو صحیح تصور کرتے ہوئے آگے چلے گا تو اسے کتنی آسانی محسوس ہو گی۔اور وہ ان فارمولوں کو بنیاد بنا کر ایک قدم آگے بڑھ جائے گا۔اسی طرح اگر اولاد اپنے والد کے تجربات سے فائدے حاصل کرے تو وہ اولاد اپنے والد کی زندگی بھر کی ترقی سے ایک قدم آگے سے اپنی زندگی شروع کر سکتی ہے۔
اولاد کے وجود کو دنیا میں لانے اور اس کو مکمل شخصیت کے ساتھ پروان چڑھا کر ایک پر اعتماد انسان بنانے میں ماں اور باپ دونوں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ ماں اگر اپنے لہو سے سیچ کر اولاد کو جنم دیتی ہے تو باپ دن رات ایک کرکے فکر معاش میں مصروف رہ کر اولاد کا پیٹ بھرنے اور اسے تمام آسائش حیات مہیا کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ اور اپنے خون پسینے کی کمائی سے اپنے بچوں کو پھلتا پھولتا دیکھ کر اس کی ساری تھکن دور ہو جاتی ہے ۔ زمانے کی تپتی دھوپ میں باپ کا کردار ایک سائباں کا سا ہے۔ جو چلچلاتی دھوپ میں اپنی اولاد کو سایہ دیتا ہے اور خود ہر آندھی اور طوفان کا مقابلہ کرکے اپنے بچوں کو مصائب سے بچاتا ۔ باپ اپنے بچوں کو انگلی پکڑ کر چلنا سکھاتا ہے۔ انھیں اپنے قدموں پر کھڑا ہونا اور زمانے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر زندہ رہنا سکھاتا ہے۔
والد یک ایسی شخصیت ہوتی ہے ، جو بظاہر ایک سخت مزاج نظر آتا ہے پر اس کی یہ نظر آنے والی سخت مزاجی دراصل اس اولاد کی حفاظت کے لیے ہوتی ہے۔ بالکل اس سیکورٹی گارڈ کی طرح جس کے ہاتھ میں اسلحہ بھی ہوتا ہے اور وہ بھیانک بھی نظر آتا ہے۔ پر اس کی یہ سخت مزاجی گھر کی حفاظت کے لیے نہایت اہم ہوتی ہے۔
جو بچے والد جیسی نعمت سے محروم ہوتے ہیں ، ان سے پوچھے کوئی اس رشتہ کی قدر۔ زندگی میں جب کبھی مصائب کا سامنا ہو جائے تو جہاں ماں اپنے آنچل میں چھپاتی ہے اور تسلی دیتی ہے وہاں باپ ان مصائب کے خاتمے کے لیے ،ان مصائب کی جڑ کاٹنے کے لیے اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ جہاں سب رشتےدار اور دوست ساتھ چھوڑ جاتے ہیں وہاں باپ اپنی اولاد پر آنے والی مصیبتوں کو روکنے کے لیے ڈھال بن جاتا ہے۔
والد کی سخت شخصیت کی وجہ سے عموماً اولاد والد سے ذرا دور رہتی ہے ۔پر جب وہ اولاد خود اس رتبے پر پہنچتی ہے تب اسے پتہ چلتا ہے کہ وہ سخت مزاجی تو صرف ظاہری ہوتی ہے ۔ جبکہ باپ کا دل بھی اپنی اولاد کے لیے اتنا ہی نرم ہوتا ہے جیسا کہ ماں کا۔پر فرق اتنا کہ باپ اپنے جزبات کو چھپا کر رکھتا ہے تاکہ اس کی اولاد ہر بات کا انحصار باپ پر نہ کرے تاکہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکے۔باکل اسی طرح جیسے اگر کسی بچے کو والدین لگاتار اٹھائے رکھیں اور زمین پر قدم نہ رکھنے دیں کہ کہیں یہ گر نہ جائے تو وہ بچہ شاید ساری زندگی چلنا نہ سیکھے۔
عجیب سی بات ہے کہ ممتا تو اللہ تعالٰی نے انسانوں کے علاوہ دوسری مخلوقات یعنی جانوروں اور پرندوں میں رکھی ہے پر والد کا کردار بلخصوص انسانوں میں نظر آتا ہے ۔
اولاد کوبھی اپنے والد سے اسی شفقت اور محبت سے پیش آنا چاہیے جسطرح اس نے بچپن میں اپنے بچوں کو پیار اور لاڈ دیا ہے۔ہمارے مذہب میں والد کے رتبہ کو بہت اہمیت حاصل ہے ۔ حدیث ہے کہ” اللہ کی رضا باپ کی رضا میں ہے۔ یعنی والد خوش تو اللہ خوش اور اللہ خوش تو دونوں جہانوں میں کامیابی۔
باپ کی محبت اور شفقت کو سلام کرنے کے لۓ پوری دنیا میں یوم والد منایا جاتا ہے ۔ اگر یوم والد کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو پہلی دفع یہ دن 19 جون کو امریکہ میں منایا گیا اور 1972 میں امریکی صدر نکسن نے جون کے تیسرے اتوار کو یہ تہوار منانے کا قانون پاس کر دیا۔ اور اس دفع پاکستان میں یہ دن 15 جون کو منایا گیا۔ پر یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اس رتبہ کے لیے ایک دن ناکافی ہے۔ اور اسلام کے اصولوں کے مطابق ہر دن یوم والد ہے ۔کیونکے شفقت پدری اولاد کے لئےانمول متاع حیات ہے۔
no comments for now
Posted by قیصر خان پتافی on جون 08 2008 |
متفرق
شہباز شریف نے جیسے ہی پنجاب کے وزیراعلٰی کا حلف اٹھایا تو میرے موبائل فون پر گھنٹی بجی ۔ جب کال سنی تو میرے گاؤں سے چند دیہاتیوں کا فون تھا ۔ انھوں نے مجھے مبارکباد دینا شروع کر دی ۔ایک فون پر مبارک دیتا اور فوراً دوسرے کے ہاتھ میں فون چلا جاتا اور وہ مبارکباد دیتا۔ آخر کار میں نے ایک سے پوچھا ، مبارک کس بات کی دے رہے ہو ۔ اس نے کہا آپ کے دوست کا چھوٹا بھائی پھر سے پنجاب کا وزیر اعلٰی بن گیا ہے۔ پھر مجھے سمجھ آیا کہ یہ لوگ مجھے مبارکباد کیوں دے رہے ہیں ۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب نوازشریف کی حکومت کا دور تھا اور میں نے انھی دنوں اپنی عملی زندگی میں قدم رکھا تھا ۔ اور کاشتکاری شروع کی تھی ۔ تو ان دیہاتیوں نے مجھے اپنے چند ایسے مسائل کے حل کی درخواست کی جو کہ بہت مشکل کام تھے ۔بلکہ یہ کہنا درست ہو گا کہ مجھے تو ان مسائل کے حل نا ممکن نظر آتے تھے ۔ادھر اُدھر ہاتھ پاؤں مارنے پر مسائل حل نہ ہوئے ۔اور آخر کار میں نے ہاتھ سے درخواستیں لکھیں اور ڈاک کے لفافے میں ڈال کر اس وقت کے وزیراعظم نوازشریف کو بھیج دیں ۔اور حیرانی کی بات ہے کے تینوں درخواستوں پر فلفور عملدرآمد ہوا اور ان دیہاتیوں کے وہ مسائل فوراً حل ہو گئے۔اس وقت سے یہ لوگ نوازشریف کو میرا دوست سمجھ بیٹھے۔
یہ واقعات ذہن میں آتے ہی میں نے ان فون کر کے مبارکباد دینے والے دیہاتیوں سے کہا کہ یہ صرف میرے دوست کے چھوٹے بھائی کی نہیں بلکہ آپ سب کے دوست کے چھوٹے بھائی کی حکومت ہے ۔اسے عوام کی حکومت کہتے ہیں ۔ دیکھو شہباز شریف نے اپنی پہلی ہی تقریر میں عوام کے مسائل کی نشاندہی اور ان کے مسائل کے حل کے وعدے کئے ہیں۔ان کو عوامی مسائل کا بہت اچھی طرح علم ہے۔ان لوگوں کو اپنی کارکردگی بتانی یا گنوانی نہیں پڑتی جیسا کہ پرویزمشرف کے دور حکومت میں عوام کو پتہ ہی نہ چلا کہ ترقی کدھر ہوئی۔حکمرانوں کو بتانا پڑا کہ بھائی ترقی ہو رہی ہے ۔دیکھو موٹرسائیکلیں ،گاڑیاں ،ٹی وی بک رہے ہیں ۔اگر ترقی نہ ہو رہی ہوتی تو یہ چیزیں کیسے بکتیں۔
عوامی حکومتیں عوامی مرضی سے آتی ہیں نہ کہ زبردستی۔ اور عوام کے کام کرتی ہیں نہ کہ اپنی مرضی کے کام اور کہتے ہیں کے ہم کو معلوم ہے عوام یہی چاہتی ہے جو ہم کر رہے ہیں۔اور عوام کڑھتی رہی کہ ہم تو ہرگز یہ نہیں چاہتے کہ ہمارے لوگوں کا قتل عام کیا جائے اور وہ بھی غیرملکی طاقتوں کے کہنے پر۔
ایک طرف تو ایسے عوامی دوست ساستدان جن کے کاموں کو عوام سالوں نہیں بھولی۔ اور دوسری طرف وہ دوست جو اچھے وقت کے ساتھی تھے اور مشکل وقت میں آپس میں ہی دوست نہیں رہے۔ میں شیخ رشید کی بات کر رہا ہوں۔شیخ صاحب نے ق لیگ کی حکومت میں وزارت کے مزے اڑائے اور جب اس ق لیگ کا دور ختم ہو گیا تو اپنی علیحدہ جماعت بنا لی۔ اور حیرانگی کی بات ہے کہ جب پاکستان ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے ، ان دنوں میں شیخ صاحب نے اس جماعت کے نام پر اپنی جماعت کا نام رکھ لیا ہے ۔ جس جماعت نے پاکستان کو توڑا اور بنگلہ دیش بنا دیا۔ جس کا نام عوامی مسلم لیگ تھا اور بعد میں عوامی لیگ کے نام سے پہچانی جانے لگی۔ اس سے بھی حیرت کی بات یہ ہے جب شیخ رشید اپنی عوامی مسلم لیگ کے تعارفی دورے کے لئے ملتان پریس کلب میں پریس کانفرنس کر رہے تھے تو اسی وقت ایک مظلوم لڑکی ،جس کے ساتھ ذیادتی ہوئی تھی نے انصاف نہ ملنے پر احتجاجاً اپنے آپ کو آگ لگا کر خود سوزی کرنے کی کوشش کی ۔ تو جب چند صحافیوں نے یہ واقعہ شیخ صاحب کو بتایا تو انھوں نے جواب دیا “تو میں کیا کروں”۔ ایسا جواب ایک عوامی پارٹی بنانے والے کے منہ سے بہت عجیب محسوس ہوا۔ اگر وہ سوچتے تو قدرت نے ان کو ایک سنہرہ موقع دیا تھا اپنی پارٹی کی تشہیر کے لئے۔ وہ باہر جاتے ،اس بچی کے سر پر ہاتھ پھیرتے اور سڑک کے درمیان چند لمحوں کے لئے علامتی بھوک ہڑتال کر دیتے اور حکومت وقت سے اس لڑکی کو انصاف دلانے کی ڈیمانڈ کرتے۔اگر صرف اتنا ہی کر دیتے تو عوام ایک بار یہ ضرور سوچتے کہ شاید اب شیخ رشید واقعی عوامی ہمدرد بن گیا ہے۔ جبکہ اس عوامی دوست کے امیدوار نے اپنے آرام کو ترجیح دی اور اپنے ہوٹل روانہ ہو گئے۔
اگر ہمارے ملک میں ایسے سیاستدان نہ ہوتے جو آمروں کا ساتھ دیتے تو میں دعوے کے ساتھ کہتا ہوں ہمارے ملک میں عامریت کینسر کی بیماری کی طرح ہر گز نہ پھیلتی ۔برصغیر میں جب انگریز سامراج پوری طرح سے قابو ہو گیا تو تین طاقتوں نے ملکر برصغیر کو انگریز سامراج سے خالی کروایا اور انھی تین طاقتوں نے اس ملک پاکستان کو بھی بنانے میں اصل کردار ادا کیا۔ اور وہ تین طاقتیں ہیں قانوندان ، سیاستدان اور عوام۔
کسی بھی ملک میں اگر نظام کی تبدیلی بار بار ہو تو ترقی ناممکن ہو جاتی ہے ۔اور وہی حال ہو جاتا ہے جو اس آدمی کا ہوا جسے کسی غلطی کی سزا پر ایک بادشاہ وقت نے سزا سنائی اور دو سزاؤں میں سے ایک چننے کو کہا ۔ ایک سزا تو تھی کہ سو تربوز کھاؤ اور ایک سزا تھی کہ سو کوڑے کھاؤ ۔ اس نے تربوز کھانے کو ترجیح دی ۔ جب چند تربوز کھائے تو پیٹ پھٹنے لگا پھر کہا کہ چلو کوڑے کھاتا ہوں ۔جب کوڑے کھانے شروع کئے تو تکلیف ہوئی تو پھر کہا کہ وہی تربوز ٹھیک ہیں ۔ اسی طرح سزا کو بار بار تبدیل کرتا رہا اور آخر کار جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ اسی طریقہ سے سیاسی حکومت اور آمریت کے درمیان ہم بار بار گھوم رہے ہیں۔جب سیاسی حکومت آتی ہے تو ہم مارشل لاء کیطرف بھاگتے ہیں اور جب مارشل لاء آتا ہے تو جمہوری حکومت کو یاد کرتے ہیں۔اب وقت آگیا ہے کہ ہم یہ فیصلہ کریں کے ہمیں کیا چاہیئے آمریت یا جمہوریت ۔ وہ حکومت جو اپنے ناجائز قبضے کو بچانے کی خاطر اپنی عوام کو دوسرے ملکوں کے کہنے پر مارتی ہیں یا ایسے جمہوری حکومتیں جس کی خاطر ہمارے سیاستدان اپنی جانوں کے نزرانے اس ملک اور عوام کی حفاظت کی خاطر دیتے ہیں جیسا کہ ذوالفقار علی بھٹو اور بےنظیر بھٹو نے اپنے جان کے نزرانے اس ملک و عوام کی بقاء و آزادی کے لئے دیئے۔
اس وقت جب ہمارا ملک پھر سے مشکل میں ہے ۔ تو اللہ تعالٰی نے پھر سے ایسے حالات پیدا کر دیے کہ پہلے وکلاء حق کی آواز بن کر کھڑے ہو گئے ۔اور ان کے نعرہ تکبیر پر دوسری طاقتیں بھی ان کے ساتھ ملنا شروع ہو گئیں۔ آمریت کے کینسر کو جڑ سے نکالنے کے لئے اور انصاف کو آزاد کروانےکے لیے لانگ مارچ کی تحریک کی ابتداء کر رہے ہیں۔ اگر آمر طاقت اب بھی عوام کی آواز کو سنتے ہوئے اپنے مؤقف سے دستبردار ہو جاتی تو شاید اس کو بھی پاکستان کی معصوم قوم عوامی دوست سمجھ کر معاف کر دیتی۔
no comments for now
Posted by قیصر خان پتافی on جون 02 2008 |
متفرق
موت کو ہر نفس نے چکھنا ہے ۔ اور اکثر مزاہب کے لوگ یہ مانتے ہیں کہ مرنے کہ بعد ایک دن وہ آئے گا جب ان سے ان کے اچھے اور برے اعمال کا حساب کتاب لیا جائے گا۔ پر اگر نہیں مانتا تو وہ شخص جو طاقت اور غرور کے نشے میں مدہوش ہوتا ہے۔ اگر تاریخ پر نظر ڈالیں تو بڑے بڑے ظالم جابر طاقت اور غرور کے نشے میں کامیابیاں دیکھتے ہوئے آخر کار انجام کو جا پہنچے۔ وہ سمجھتے رہے کے ہم جو کام بھی کرتے ہیں وہی فیصلہ درست ہوتا ہے ۔ پر وہ یہ نہیں جانتے کہ کائنات کا مالک ان کی رسی دراز کرتا ہے اور آخر کار اس زور سے رسی کھینچتا ہے کہ وہ ظالم اپنے ہی فیصلوں کی بدولت ہر شعے کھو بیٹھتا ہے ۔موٹی موٹی مثال ہی لے لیں ، فرعون اور صدام حسین ۔ کیا انجام ہوا ان لوگوں کا؟ ان لوگوں کی زندگیاں کامیابیوں سے بھری ہوئی تھیں۔ اور ان کے مظالم کے شکار ساری زندگی تڑپتے رہے ۔ پر ان ظالموں کا انجام ایسا ہوا کہ کوئی سوچ بھی نہ سکے۔پر حیرانی کی بات ہے کہ ایسے ظالم بار بار پیدا ہوتے رہے ، وہی غلطیاں دہراتے رہے اور انجام کو پہنچتے رہے۔
آخر کار پرویز مشرف کے سابقہ ساتھی نے وہ سب باتیں کھل کر بتا دیں جو سب جانتے تھے۔پر ڈر کے مارے منہ سے کہتے نہ تھے۔ بالکل اسی طرح جیسے ہیری پوٹر کی کہانی میں اس کہانی کے ولن وولڈی مورٹ کا نام لینے سے لوگ گھبراتے تھے۔ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل جمشید گلزار کیانی نے ایک نجی ڑیلیویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ کارگل آپریشن پرویز مشرف کی مرضی سے ہوا اور اس آپریشن کو ختم بھی پرویز مشرف کے حکم پر کیا گیا۔ اور الزام بے چارے نوازشریف پر لگایا گیا۔ دنیا بھر میں بدنامی نوازشریف کی ہوئی یا یہ کہنا بہتر ہو گا کہ بدنامی سیاست دانوں کی ہوئی کہ ایک طرف تو بھارت کے ساتھ معاہدہ لاہور دستخط کیا جا رہا ہے اور دوسری طرف اس کے برخلاف کارگل آپریشن کیا جا رہا ہے۔
اسی طرح جمشید گلزار کیانی نے بتایا کہ نوازشریف کے خلاف طیارہ اغواء کیس بھی ایک” کہانی” تھی۔
یہ بھی سب جانتے ہیں کہ پرویز مشرف کے جہاز کو اگر کراچی کے علاوہ کسی اور ایئر پوٹ پر اترنے کا حکم ملا تھا تو اس جہاز کو اس ایئرپورٹ پر کس نے نہیں اترنے دیا اور صرف کراچی کے ایئرپورٹ پر ہی اترنے کے لئے پائلٹ کو مجبور کیا اور جہاز میں اسی چکر کی وجہ سے ایندھن کی قلت ہو گئی اور تمام مسافر جو اس جہاز پر موجود تھے ان سب کی جان خطرے میں ڈالی۔ تو ہائی جیکر وہ ہوا جس نے دوسرے ایئرپورٹ پر اترنے کا حکم دیا یا وہ جس نے لوگوں کی جان کی پرواہ کئے بغیر یہ جانتے ہوئے کہ جہاز میں ایندھن کم ہے پائلٹ کو مجبور کیا کہ صرف کراچی لینڈ کرے؟
اس دفع بھی نواز شریف پر الزامات لگا کر پھر اقتدار کو حاصل کرنے کے لئے وہی کہانی دہرائی گئی جو مشرقی پاکستان کے وقت لکھی گئی تھی ۔ مغربی پاکستان میں اپنی حکومت قائم کھنے کے لئے مشرقی پاکستان میں ایک بے چارے شخص جنرل نیازی پر مشرقی پاکستان کی شکست کا الزام لگا دیا گیا ۔جبکے جنرل نیازی نے اپنی کتاب Betrayal of East Pakistan میں لکھا کہ انھوں نے مکتی باہنی کو مشرقی پاکسان میں صاف کر دیا تھا اور حکومت سے اجازت مانگی تھی کہ بھارت میں موجود مکتی باہنی کے اڈوں کو ختم کرنے کے لئے انھیں بھارت پر حملے کی اجازت دی جائے ۔ پر اجازت نہ ی گئی اور کہا گیا کہ مشرقی پاکستان کی لڑائی مغربی سرحد پر لڑی جائیگی ۔ پر وہ بھی نہ کیا گیا۔ اور آخر کار حکمرانوں نے ہتھیار ڈالنے کا حکم دے دیا۔ اور جب ہتھیار ڈال دیئے گئے تو الزام جنرل نیازی پر ڈال دیا گیا اور اس بےچارے جنرل کو پنشن تک نہ دی گئی اور انھوں نے اپنی ندگی کے آخری ایام بہت کسم پرسی کی حالت میں گزارے۔
اور جمشید گلزار کیانی نے بتایا کہ لال مسجد آپریشن میں کیمیائی ہتھیار استعمال کئے گئے ۔ جو کے انسان کو جلا دیتا ہے اور اس تکلیف سے انسان تڑپ تڑپ کر اپنی جان دے دیتا ہے ۔ عجیب بات یہ ہے کہ یہ ہتھیار اپنے ہی ملک کے شہری اور وہ بھی یتیم اور مظلوم بچے اور عوتوں پر استعمال کر کے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا گیا۔
پھر جمشید کیانی نے یہ بھی بتایا کہ 911 کے بعد ہمارے پاس اور کئی آپشنز موجود تھیں اور کئی کورکمانڈرز نے امریکا کی غیر مشروت حمایت سے پرویز مشرف کو روکا تھا۔ اور امریکا نے یہ دھمکی نہ دی تھی کہ ہم پاکستان کو بم مار کر پتھروں کے زمانے میں پہنچا دیں گے ۔ اس بات کی تصدیق تو امریکن صدر بش، پرویز مشرف کے منہ پر دنیا کے سامنے کر چکے ہیں کہ انھوں نے اس قسم کی کوئی دھمکی نہ دی تھی۔ اور پرویز مشرف سے جب میڈیا نے اسی جگہ پر پوچھا کہ آپ نے تو کہا تھا کہ امریکہ نے یہ کہا تھا، پر بش تو انکاری ہے تو انھوں نے ٹالنے کے لئے کہا کہ میرا معاہدہ اس کتاب کی کمپنی سے ہے جس نے میری کتاب چھاپنی ہے ۔ اور اس کمپنی نے ان معاملات کی تفصیل بتانے سے روک رکھا ہے ۔ جو اس کتاب میں لکھے گئے ہیں ۔ اور یہ معاملہ میں نے اس کتاب میں لکھا ہے۔ اس لئے وضاحت نہیں کروں گا۔ اس جواب پر وہاں موجود سب ہنس پڑے۔ اور پرویز مشرف کو ذرا خیال نہ آیا کہ وہ اس وقت پاکستان کے سربراہ کے طور پر وہاں موجود تھے ۔اور ان پر ہنسنا پاکستانی قوم پر ہنسنے کے مترادف تھا۔
پاکستانی عوام ، چاہے وہ امیر ہو یا غریب ، پڑھا لکھا ہو یا انپڑھ ، چھوٹا ہو یا بڑا سب یہ جانتے ہیں کہ ہمارے ملک کے ہیرو کون ہیں ۔ کسی راہ چلتے سے بھی پوچھیں گے تو کہے گا وہ جن کو اللہ تعالٰی نے اس ملک کو بنانے اور اس ملک کو طاقتور بنانے کے لئے چنا ۔ یعنی قائد اعظم اور ملک کو ایٹمی طاقت بنانے والے تین اہم افراد ، ذوالفقار علی بھٹو ، ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور نوازشریف۔ اور افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان تینوں کو اس ملک کے غداروں کی شکل دے ی گئی۔
یہ بات ہر فرد سوچتا ہے کہ آخر کار اگر ڈاکٹر عبدالقدیر خان اگر پیسے کے لالچی ہوتے تو وہ ہمارے دشمنوں کو ہمارے راز بیچ کر مالامال ہو جاتے۔پر انھوں نے تو ہمارے ایٹمی پروگرام کو تکمیل تک پہنچایا۔ اور پرویز مشرف کے دباؤ پر میڈیا کے سامنے آکر جھوٹا اقبال جرم کیا اور ملک کی سلامتی کی خاطر تمام الزام اپنے سر لے لئے ۔اپنے مقام کو اور بلند کر لیا ۔
اب سب یہ جانتے ہیں کہ پرویز مشرف کے ساتھ دینے والے سیاستدانوں کا کیا انجام کیا عوام نے۔ اسلئے اب ہمارے ملک کے سیاستدانوں کو پرویز مشرف کے ساتھ دینے سے پہلے اپنے انجام کے بارے میں اچھی طرح سوچ لینا چاہیئے۔
no comments for now
Posted by قیصر خان پتافی on مئی 26 2008 |
متفرق
چند ہی دن روز قبل میں صبح صبح ڈیرہ غازی خان جانے کے لئے گھر سے نکلا تو مجھے خیال آیا کہ میرے ڈرائیونگ لائسنس کی سالانہ فیس کی ادائیگی کی آج آخری تاریخ ہے تو کیوں نہ اس فرض کی ادائیگی کرتا جاؤں۔ جب میں اس کام کی خاطر ڈاکخانے پہنچا تو ابھی اس کو کھلنے میں دس منٹ باقی تھے ۔ میں نے یہ دس منٹ گاڑی میں بیٹھ کر گزارے اور جیسے ہی ڈاکخانے کھلنے کا وقت ہوا تو میں اندر داخل ہو گیا ۔میں نے اس مختصر سے ڈاکخانے کے انچارج سے گزارش کی کہ میرا لائسنس رنیو کر دیں ۔ تو اس نے جھٹ سے کہا بھائی آپ اتنے صبح صبح آگئے ہیں ۔ ابھی تو ہم نے اپنی چیزیں ہی نہیں سنبھالیں ۔ آپ آدھے گھنٹے بعد تشریف لائیں ۔ میں نے کہا کہ بھائی میں نے پہلے دس پندرہ منٹ ڈاکخانے کے کھلنے کا انتظار کیا ہے ۔ اب آپ آدھا گھنٹہ اور انتظار کرنے کا کہہ رہے ہیں ۔ میں نے لمبا سفر کرنا ہے ابھی ڈیرہ غازی خان جانا ہے پھر آج ہی واپس بھی آنا ہے ۔ اور ویسے بھی ڈاکخانے کے کھلنے کا وقت تو ہو گیا ہے ۔ آپ مہربانی فرما کر میرا کام ابھی کر دیں ۔ تو اس نے کہا بھائی میرا وقت بحث کر کہ ضائع مت کرو بس آدھے گھنٹے بعد آنا۔خیر میں ڈاکخانے سے نکلا اور ڈیرہ غازی خان کی طرف سفر شروع کر دیا ۔ اور سوچا شام تک تو یہ ڈاکخانا کھلا رہتا ہے اور شام تک تو میں لوٹ آؤں گا ۔چلو واپس آکر یہ کام کر لوں گا۔ کیونکہ میرے لائسنس کا اندراج اسی ڈاکخانے میں تھا ۔اسلئے کسی اور ڈاکخانے میں اس کام کی تکمیل ممکن نہ تھی۔
خیر شام کو جب میں واپس آیا تو سیدھا دوبارہ ڈاکخانے پہنچا ۔ جب میں ڈاکخانے کے اندر داخل ہوا تو اس کے بند ہونے کے آخری لمحات تھے۔ میں نے پھر اسی انچارج کو وہی گزارش کی تو اس نے جواب دیا کہ اب ہم سب کچھ بند کر بیٹھے ہیں ، اب آپ صبح تشریف لائیں ۔ میں نے کہا بھائی ابھی دو چار منٹ باقی ہیں ۔ اور میرے ائسنس کی رنیول کی آج آخری تاریخ ہے ۔ آپ مہربانی فرما کر یہ کام کریں۔ تو اس نے کہا بھائی ہم نے سارا دن کام کیا ہے ، اب آخر ہم بھی انسان ہیں ۔ ہمیں بھی آرام کرنا ہے۔ تو میں نے کہا صبح تو ڈاکخانے کھلنے کے آدھے گھنٹے بعد آپ نے کام شروع کیا پر بند ہونے کے دوچار منٹ پہلے ہی آپ نے اپنا کام بند کر دیا۔ آپ کو فرض شناس ہونا چاہیے اور اس طرح نہیں کرنا چاہیے ۔ تو اس نے مجھے غصے سے دیکھا اور کہا ہمیں فرض شناسی مت سیکھاؤ اور اب جاؤ ڈاکخانہ بند ہو گیا ہے۔خیر میں نے اور بحث نہ کی اور باہر آگیا ۔ کیونکہ میرے ذہن میں چند برس پہلے کا واقعہ یاد آگیا جو میرے لئے انتہائی خوفناک تجربہ تھا۔
واقعہ کچھ یوں تھا کہ میں ٹیلیفون کے نئے کنکشن کے حصول کی خاطر ، پی ٹی سی کے دفتر سے ملنے والے ڈیمانڈ نوٹس کی ادائیگی کی خاطر بینک پہنچا تو بینک کے بند ہونے کے آخری لمحات تھے ۔ میں نے بینک کے اندر داخل ہونے والے درازے کو جیسے ہی کھولا تو اندر دروازے کے ساتھ کھڑے گارڈ نے مجھے بغیر کچھ بولے باہر کی طرف دھکا دیا۔ میں حیران و پریشان رہ گیا ۔ مجھے بہت غصہ آیا اور میں نے دوبارہ دروازہ کھولا اور گارڈ سے کہا یہ کیا تماشہ ہے ۔ اس نے کہا بینک بند ہو گیا ہے ۔ میں نے کہا کہ یہ تو کوئی طریقہ نہیں ۔ تمھارا منیجر کدھر ہے ۔ میں ابھی تمھاری شکایت کرتا ہوں۔ اس نے ایک شور مچاتے آدمی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جاؤ تم بھی شکایت کر لو۔ میں اس منیجر کے پاس پہنچا تو وہ کسی شخص سے لڑ رہا تھا ۔ میں نے منیجر کی بات کو ٹوکتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں نے کس قسم کا گارڈ رکھا ہے جو بینک بند ہونے کی اطلاع زبان کی بجائے لوگوں کو دھکے دے کر بتاتا ہے۔ تو اس منیجر نے فوراً اپنی لڑائی کا رخ میری طرف موڑ دیا اور کہا مجھے مت بتاؤ کہ میرا سٹاف کیسا ہے میری پہلے بھی اسی بات پر دوسرے کسٹمر سے لڑائی ہو رہی ہے۔میں نے کہا یہ تو کوئی طریقہ نہیں ایک تو تم میری شکایت نہیں سن رہے دوسرا تم خود میرے ساتھ لڑ رہے ہو۔ میں نے ابھی اتنا ہی کہا تھا کہ منیجر نے اپنے سٹاف کی طرف منہ کرتے ہوئے چند نام پکارے اور کہا کہ کیش نکالو اور اسے بکھیر دو اور پولیس کو فون کرو کہ بینک میں دو ڈاکو گھس آئے ہیں۔ اس کا اشارہ میری اور دوسرے کسٹمر کی طرف تھا۔ اتنا سننا تھا کہ میرے ہوش اڑ گئے اور میں بغیر کچھ اور بحث کئے وہاں سے نکل آیا۔ اور عزت کے بچنے پر اللہ تعالٰی کا شکر ادا کیا۔
اسی طرح ایک دفع میں اپنی جیپ پر ملتان شہر کے اندر گھوم رہا تھا کہ ایک لوکل بس نے میری جیپ کو ایک چوک پر پیچھے سے ٹکر مار دی۔ کافی نقصان ہوا ۔ ساتھ ہی ایلیٹ فورس کے سپاہی ڈیوٹی پر کھڑے تھے۔ میرے ڈرائیور نے جب اس بس کے ڈرائیور کو روکا تو اس بس کے کلینر نے میرے ڈائیور کو مکا رسید کر دیا۔ یہ دیکھ کر میں اس ایلیٹ فورس کے پاس پہنچا اور کہا کہ آپ تو یہ سب کچھ دیکھ رہے ہو ، مدد کے لئے آگے بڑھو۔ تو انھوں نے کہا کہ آپ ایسے کریں کہ 15 پر فون کریں، تب ہم کاروائی کریں گے ۔ اسی اثناء وہ بس والا یہ گیا وہ گیا۔ اورپولیس کی طرف سے کچھ نہ ہوا۔ جب میں نے اس ایلیٹ فورس سے گلے شکوے کئے تو انھوں نے کہا، ہم بہت فرض شناس ہیں ہمیں جب تک اوپر سے حکم نہیں ملتا ۔ ہم کاروائی نہیں کر سکتے۔
ہمارے ملک کے لوگ شاید فرض شناسی کا مطلب بھلا بیٹھے ہیں ۔ وہ یہ بھول بیٹھے ہیں کہ اس ملک کو بنانے کی خاطر جانوں کے نظرانے پیش کئے گئے تھے۔ اس کے بعد 65 اور 71 کی جنگوں میں ہماری افواج پاکستان نے اس ملک کو بچانے کی خاطر اپنی جانوں کی قربانیاں دیں۔ جان دینا کہنے کو تو یہ بہت آسان لگتا ہے پر اصل میں جان دینا کوئی بچوں کا کھیل نہیں۔ اگر ایک انگلی پر ذرا سی چوٹ لگ جائے تو چیخ نکل جاتی ہے اور جان دینا کیا آسان ہو گا ۔ جب عزیز بھٹی شہید اپنی جان دشمن کے آگے تان کر کھڑے ہونگے تو کیا ان کے ذہن میں اپنے بچوں کے بارے میں خیال نہیں آئے ہونگے کیا؟ راشد منہاس جب اپنے ملک کے راز دشمن کے پاس جانے سے روکنے کے لئے جب اپنی جان کو قربان کر رہے ہوں گے تو کیا ان کو یہ خیال نہ آیا ہو گا کہ میرے والدین میری راہ تک رہے ہوں گے۔ تو کیا آج یہ ہمارا ملک آج سلامت ہوتا اگر یہ جانثار کہتے کہ بھائی جتنی تنخواہ ہم لیتے ہیں اس میں جان نہیں دی جاسکتی اور کہتے کہ اب تو دو بج گئے ہیں ہماری چھٹی کا وقت ہو گیا ہے ۔ اب جنگ لڑنے کے لئے کسی اور کو بھیجیں۔
حال ہی میں سپاہی فوج کے ادارے آئی ایس پی آر نے ایک پاکستان کے بہادر سپاہی کے بارے میں حقیقت پر مبنی ڈرامہ بنایا ۔ جس سپاہی کا نام مقبول حسین ہے۔ مقبول حسین جو پاکستان کی خاطر جنگ لڑنے ہندوستان کی سرزمین پر گیا اور شدید زخمی ہونے کی وجہ سے گرفتار ہو گیا اور چالیس سال تک ہندوستان کی جیلوں میں ازیتیں برداشت کرتا رہا ۔ تکلیف کا ایک لمحہ گزارنا مشکل ہوتا ہے وہاں چالیس سال ازیتیں برداشت کرنا کیا آسان ہو گا۔ کیا اس نے کہا تھا کہ میری ڈیوٹی کا وقت ختم ہو چکا اور میں بھی انسان ہوں مجھے بھی آرام کرنا ہے۔ آج اگر ان فرض شناسوں نے ملک کی بجائے اپنے آرام کو دیکھا ہوتا تو کیا تو شاید یہ ملک دشمن کے ہتھے لگ چکا ہوتا۔
no comments for now
Posted by قیصر خان پتافی on مئی 19 2008 |
متفرق
ہمارے گاؤں میں ٹیوب ویلوں کا ایک مستری ہے ، جس کا نام شائد کوئی نہیں جانتا ۔ سب اسے ہتھوڑا مار کہتے ہیں ۔ اس کا یہ نام اس لئے رکھا گیا ہے کہ جب بھی اسے کسی ٹیوب ویل کی موٹر یا انجن کی مرمت کے لئے بلاتے ہیں تو یہ انجن پر یا موٹر پر الٹے سیدھے وار ہتھوڑے سے کرتا ہے اور عارضی کام کر دیتا ہے ۔ اور کہتا ہے کہ جب وقت گزر رہا ہے اس عارضی کام سے تو کیوں مرمت پر زیادہ اخراجات کئے جائیں ۔
اب اگر دیکھا جائے تو پاکستان ہمارے پیارے ملک کی پالیسیاں بنانے والوں نے ساٹھ سال اسی ہتھوڑا مار کی طرح گزار دئے۔کبھی بھی دور اندیشی سے کام نہیں لیا ، بس وقت گزارا گیا۔ پر اب ہمارے ملک پر خراب معیشت کا اتنا ذیادہ بوجھ ہے کہ ہمیں چشم پوشی کی بجائے حقا ئق کو تسلیم کر کہ آنے والے وقت کی بہتری کی منصوبہ بندی کرنا ہو گی ۔ ہمیں معلوم ہونا چاہیئے کہ صرف ہمارے کہہ دینے سے پٹرول کی قیمتیں کم نہیں ہو سکتی ۔جب عالمی منڈی میں پٹرول کی قیمتیں اتنی ذیادہ ہو گئی ہیں اور ہم خود بھی تیل پیدا کرنے والے ملک نہیں ہیں تو ہمیں اپنی غریب و مقروض حکومت سے ایسی توقع نہیں کرنی چاہیئے کہ وہ تیل کی قیمتوں میں کمی کر ے گی اور سارا بوجھ خود اٹھا لے گی۔ اسی طرح خوراک کی قلت کے معاملے پر دنیا پریشان ہے اور آنے والے دنوں کی منصوبہ بندیاں کی جا رہی ہیں ۔ ہمیں بھی گزرے پر رونے کی بجائے آگے کی منصوبہ بندی کرنی ہے۔
بجٹ آنے والا ہے ۔ اور کسی بھی ملک کی ترقی کی بنیاد اچھا بجٹ ہوتا ہے۔ اور اچھا بجٹ وہ ہوتا ہے جسے میں چار نقاط کو ذہن میں رکھ کر بنایا جائے۔ جس سے ہی تمام بجٹ کی شاخیں نکلتی ہیں۔ 1۔ عوام کی فلاح کو مدنظر رکھا جائے ،یعنی جس میں روٹی ، کپڑا ، مکان وصحت وغیرہ ، مختصراً عوام کی معاشی حالت کو بہتر بنانا مدنظر رکھا جائے۔ 2۔ حکومتی فلاح یعنی مختصراً کہا جا سکتا ہے کہ ملکی خزانا بڑھانے کی کوشش۔ 3۔آنے والے کل کو مدنظر رکھا جائے۔ 4۔ ملکی سالمیت یعنی ملکی دفاع کی مضبوتی کو مدنظر رکھا جائے۔
اگر دیکھا جائے تو ہمارے ملک میں ہر آنے والے حکمران نے یہی کہا کہ ملک کو ترقی دینے کے لئے صنعتوں پر خصوصی توجہ دی جائےگی ۔ پر یہ وعدہ کبھی پورا نہ ہو سکا۔ اور ہوتا بھی کیسے کیونکہ جس ملک میں صنعتوں کو چلانے کے لئے بنیادی چیز بجلی ہی نہ ہو تو صنعت کیسے چل سکتی ہے ۔ اس کے علاوہ اور کئی مسائل درپیش رہے۔ اور جو صنعت پچھلے آٹھ سال میں بڑھی تو اس کا کچھ خاص فائدہ ملک کو نہ ہو سکا کیونکہ اس صنعت کے خریدار پاکستان کے عوام ہی تھے۔ مثلاً گاڑیاں، موٹرسائیکل اور ٹیلیویژن کی صنعت۔ اور ان صنعتوں سے کوئی زرمبادلہ حاصل نہ ہو سکا۔
اب وقت آگیا ہے کہ ہم جان لیں کہ ہمارا مستقبل ایک ایسی چیز میں چھپا ہے جو قدرت کی عطاکردہ ہے ۔ اور وہ ہے زراعت۔ ہمارے ملک کی پچاس فیصد سے ذیادہ ، ایک محتاط اندازے کے مطابق ستر فیصد عوام کا انحصار زراعت کے کاروبار پر ہے۔ اور یہی دیہات میں رہنے والے لوگ غربت کی حد سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ اگر ہم اپنے بجٹ میں بہت بڑا حصہ زراعت کی ترقی وفروغ کے لئے رکھیں ، جس میں سائنسی ریسرچ کے لئے فنڈز مختص کئے جائیں اور نئی ریسرچ کے طریقہ کاشتکاری کی تعلیم ہر کاشتکار تک پہنچانے کے لئے ادارے قائم کئے جائیں۔ اور زراعت کے شعبہ کو خصوصی سبسڈ یز دی جائیں۔ ہم اگر اپنی اوسط پیداوار بڑھانے میں کامیاب ہو گئے تو نہ صرف ہم زرعی اجناس درآمد کرنے کی بجائے برآمد کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔ اور جو زرمبادلہ ہم درآمد پر ضائع کر دیتے ہیں ۔وہ بھی بچ جائے گا بلکہ ہم ان اجناس کو برآمد کرنے کے قابل ہو جائیں گے جس سے ذرمبادلہ کمائیا جا سکے گا ۔ اور زراعت کی ترقی سے نہ صرف ملکی خزانے میں اضافہ ہو گا بلکہ زراعت کے کاروبار پر انحصار کرنے والے ستر فیصد پاکستانی عوام بھی معاشی ترقی کر جائیں گے۔ اور اگر جیب میں دولت ہو تو کوئی مشکل درپیش نہیں آتی ۔ بیماری میں علاج کی ضرورت ہو، روٹی ہو ، کپڑا ہو یا مکان ، کسی بھی چیز کے حصول کے لئے دولت آسانی سے راستہ بنا دیتی ہے۔ اسی طرح حکومت کے خزانے میں پیسا ہو تو بجلی پیدا کرنے کے پلانٹ لگانا بائیں ہاتھ کا کھیل بن جاتا ہے۔ ان سب باتوں کی مثال اس طرح دی جا سکتی ہے جیسا کہ ایک دفعہ ایک دکاندار سیب بیچ رہا تھا کہ ایک راہ چلتے غریب آدمی نے دکاندار سے سیب کا ریٹ پوچھا تو اس نے کہا پچاس روپے کلو تو اس غریب آدمی نے کہا ، توبہ توبہ اتنے مہنگے اور بغیر خریدے چلا گیا ۔ کچھ ہی دیر میں ایک کار والے دولتمند آدمی نے اس دکان دار کے پاس بریک لگائی اور پوچھا سیب کس ریٹ بیچ رہے ہو ؟ اس نے کہا ستر روپے کلو تو اس کار والے نے کہا اتنے سستے ، دس کلو تول دو۔
اسی مثال کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں بجٹ میں زراعت کو سب سے زیادہ اہمیت دینی ہے کیونکہ عوام اور حکومت دونوں کی فلاح اسی میں ہے۔
اور اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے مستقبل کو سنوارنے کے لئے تعلیم کے شعبے میں خصوصی توجہ دینی ہوگی ۔ خاص طور پر ہنر سکھانے کی تعلیم پر خصوصی توجہ دینی ہو گی ۔ اور ایسے تعلیمی اداروں کو دیہاتوں تک پھیلانا ہو گا ۔ کیونکہ ہمارے ملک کے نوجوان ہمت اور طاقت رکھنے کے باوجود ہنر نہ ہونے کے باعث بےروزگار رہتے ہیں۔ اگر تعلیم کو ہم عام کرنے میں کامیاب ہو گئے تو آج ہمارا جیسا بھی ہو ۔کل ضرور ہمارا سنہرہ ہو گا۔
اب ملکی سالمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اس وقت ہمارے ملک کو پہلے سے کہیں زیادہ خطرات کا سامنا ہے۔اس لئے ہم اپنے دفاعی بجٹ میں اگر اضافہ نہیں کر سکتے تو کمی کرنا بھی درست نہ ہو گا ۔پر ہم اپنی دفاع کو چند تبدیلیوں سے بہتر بنا سکتے ہیں۔ جیسا کہ ہم روائیتی فوج میں کچھ کمی کر سکتے ہیں کیونکہ روائیتی فوج کی دیکھ بھال پر اخراجات ذیادہ اٹھتے ہیں۔ جبکہ ادھر سے کچھ بچت کر کے ہم اپنے میزائل پروگرام پر ذیادہ توجہ دے سکتے ہیں۔ کیونکہ آنے والے دنوں میں غیر روائتی طریقہ جنگ اہمیت کا حامل ہو گا۔ اور نفری کی جگہ میزائل پروگرام جنگوں کی جیت کا باعث بنے گا۔
اس کالم کے اختتام پر ایک لطیفہ لکھنے کو دل کر رہا ہے۔ لطیفہ کچھ یوں ہے کے جنگل میں الیکشن ہوئے اور بادشاہت کی کرسی کے لئے شیر کے مقابلے میں بندر کھڑا ہو گیا۔ جنگل کے جانوروں نے تبدیلی کی خاطر بندر کو ووٹ دے کر جیتا دیا۔ ایک دن لومڑی کو کچھ کام پڑا تو وہ اپنے بادشاہ بندر کے پاس آئی اور اپنا مسئلہ بیان کیا ۔ اور حل کی درخواست کی ۔ بندر نے کہا ابھی کرتا ہوں ۔ اور درختوں پر چھلانگیں لگا کر واپس آگیا۔ لومڑی نے پھر اپنے کام کی درخواست کی تو وہ پھر یہی کچھ کر کے واپس آگیا۔ جب یہ سلسلہ کافی دفع ہو چکا تو لومڑی ناراض ہو گئی اور کہا کہ میرے مسئلے کے حل کی بجائے تم یہ اچھل کود کر کے آجاتے ہو ۔ تم کیسے بادشاہ ہو ؟ تب بندر نے کہا کہ میں اپنی طاقت کے مطابق بھاگ دوڑ تو کر رہا ہوں۔ اور کیا کروں۔
اب ہمیں یہ غور کرنا ہے کے اب ہمیں اس قسم کی بھاگدوڑ کی بجائے حقا ئق کو مدنظر رکھتے ہوئے ان فیلڈز میں کام کرنا اور ترقی کرنا ہے جو ہمارے پاس موجود ہیں۔
no comments for now
Posted by قیصر خان پتافی on مئی 12 2008 |
متفرق
ابھی کچھ ہی روز قبل دنیا بھر میں “یوم ماں ” منایا گیا ۔اسی طرح ہمارے میڈیا نے بھی پاکستانی عوام کی توجہ ان کی ماؤں کی طرف موڑنے کی کوشش کی۔ اسی روز گاڑی میں سفر کے دوران میں ایف ایم ریڈیو سن رہا تھا ۔ اس میں بھی یوم ماں کے بارے میں پروگرام کئے جا رہے تھے۔ اور ٹیلیفون کالیں وصول کی جا رہی تھیں ۔ مختلف قسم کی آراء سننے کو مل رہی تھیں ۔ پر ہر دو چار کالوں میں ایک کال ایسی سننے کو ملی جس میں فون کرنے والے نے کہا کہ یہ دن مسلمانوں کو نہیں منانا چاہئے کیونکہ شریعت میں ایسے کسی دن کو منانے کا حکم نہیں ہے۔ مجھے حیرت ہوئی کہ ایسی سوچ رکھنے والے کیا سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے کہ شریعت اچھے کام کا حکم دیتی ہے ۔ اور دین اسلام نے جو اہمیت ماں کے رتبے کو دی ہے شاید ہی کسی اور مذہب نے دی ہو۔ اسلام کے مطابق تو ہر روز یوم ماں ہے۔اور اس دن کو منانے کا مقصد ایسے افراد کی توجہ ان کی والدہ کی طرف کروانا ہے جو شاید اس اہم فریضہ کو بھلا چکے ہیں ۔ تو کیا یہ ایک اچھا کام نہیں ہے۔ اور اگر ہے تو کیا شریعت ایسے کام کو کرنے سے روکے گی؟۔
اور ہم لوگ اللہ تعالٰی کی رحمت کو محدود کیوں تصور کرتے ہیں؟ اللہ تعالٰی کی رحمت کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہو گی کہ جیسے ہی انسان پیدا ہوتا ہے اور شاید اس کے لئے وہ بہت ہی عجیب و غریب تجربہ ہوتا ہے ۔ ایسے میں اللہ تعالٰی نے اس بچہ کو سمبھالنے کے لئے ماں کی ممتا فراہم کی ہوتی ہے۔جب بچہ اپنی دیکھ بھال کرنے کے قابل نہیں ہوتا نہ وہ اپنی خوراک کا بندوبست کر سکتا ہے اور نہ ہی کسی خطرہ سے اپنے آپ کو بچا سکتا ہے ۔ ایسے میں ماں اس کی مدد کے لئے موجود ہوتی ہے۔اللہ تعالٰی نے انسان کے ساتھ اپنی محبت کو بتانے کے لئے ماں کی محبت سے مشابہت دی ہے ۔ فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالٰی انسان سے ستر ماؤں کے برابر محبت کرتا ہے۔
یوم ماں کو مناتے ہوئے کئی ٹی وی چینلز نے بھی پروگرام نشر کئے ۔ جس میں ذیادہ توجہ اس انٹریو کو دی گئی جو صدر پرویز مشرف کی والدہ سے لیا گیا ۔ اس پروگرام کو بہت جزباتی بنایا گیا۔ یہ تو ایک ایسی ماں کی کہانی تھی جس کو کچھ ذیادہ مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا جیسی مشکلات کا سامنا غریب کی ماں کو کرنا پڑتا ہے ۔ جیسا کہ میں نے ایک ایسی غریب خاتون کو بھی دیکھا جس کا شوہر ایک ٹرک ڈرائیور تھا اور ایک حادثہ میں اللہ کو پیارا ہو گیا اب یہ خاتون اپنے دوسرے بچے جو خود بھی دس سال سے کم عمر تھے کے حوالے اپنے آٹھ ماں کے بچے کو کر کے خود روزگار کمانے روز گھر سے نکلتی اور صبح سے شام تک لوگوں کے برتن اور کپڑے دھوتی اور لوگوں کی ڈانٹیں برداشت کرتی ۔ اور اس کے عوذ اس کو صرف پندرہ سو روپے ماہوار ملتا۔ اب وہ اس پیے میں خود فاقے کاٹتی اور اپنے بچوں کا پیٹ بھرتی ۔ اس عورت کے دل پر کیا گزرتی ہو گی جب وہ اپنے نومولود کو گھر اپنے چھوٹے بچوں کے حوالے کر کے آتی ہو گی جو خود بھی ابھی توجہ کے مستحق تھے۔
اسی طرح ایک کپڑے بیچنے والی پٹھانی ہمارے گھر آتی ہے ۔ اس نے کہا کہ میری ماں سے اچھی ماں شاید ہی کسی اور کی ہو ۔ اس نے بتایا کہ میری ماں افغانستان کی تھی اور جب روس کی فوجیں افغانستان داخل ہوئیں تو ایک دن ہماری بستی پر بمباری ہوئی اور میرا والد شہید ہو گیا اور میری ماں اپنی ایک ٹانگ کھو بیٹھی ، پر وہ ہمت نہ ہاری اور ہم چھے بہن بھائیوں کو لے کر پاکستان ہجرت کر آئی اور معذور ہونے کے باوجود وہ محنت مزدوری کرتی رہی اور ہمیں پالتی رہی ۔ اور یہ واقع بتاتے بتاتے وہ رونے لگی اور بتایا کہ میری ماں ہمارے لئے گھر سے باہر ایک دن مزدوری کرنے گئی اور واپس گھر اس کی لاش آئی ۔ اس کو سڑک پار کرتے ہوئے ایک ویگن نے ٹکر مار دی۔ اور اس نے صرف ہم لوگوں کو پالنے کی خاطر محنت مزدوری کرنے کی غرض میں اپنی جان دے دی۔
ایسی مثالیں سننے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ ماں واقعی اللہ کی عطا کردہ ایک بہت بڑی نعمت ہے ۔ اور یہ رشتہ ایسا ہے کہ اس میں فائدے نقصان کو نہیں دیکھا جاتا ، ورنہ آجکل جو دور چل رہا ہے ہر فرد ایک دوسرے سے تعلق اپنے فائدے کی بنیاد پر بناتا ہے۔ پر ماں کے اندر اللہ نے کچھ ایسا لازوال انس پیدا کر دیا ہے جو نفع نقصان کو نہیں بھانپتا صرف خدمت اور محبت پر یقین رکھتا ہے۔
اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ ماں تو اپنا سب کچھ اپنی اولاد پر قربان کر دیتی ہے پر اس کے لئے کیا کیا جاتا ہے ۔دیکھو تو کچھ نہیں ۔اکثرجب بچے بڑے ہو جاتے ہیں تو وہ اپنی ماں کے پاس چند منٹ بھی بیٹھنے کو وقت کا ضیاع قرار دیتے ہیں۔ وہ بہوئیں جو گھر میں بیاہ کر آتی ہیں اس گھر کی ماں کو اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتی ہیں ۔ اور یہ بھول جاتی ہیں کہ وہ خود بھی آنے والے دنوں کی مائیں ہیں۔ ایک ماں کے لئے اس سے ذیادہ خوشی کی اور کوئی بات نہیں ہوتی کے اس کی اولاد کامیابیاں حاصل کرے اور ہنستے ہوئے چہرے کے ساتھ چند گھڑیاں اس کے ساتھ گزارے۔
دنیا بھر کے فلاحی مملکتوں میں ماؤں کی مائیں حکومتیں ہوتی ہیں ۔ جب کسی خاتون کو اپنی اولاد کو پالنے میں دشواری کا سامنا ہو تو حکومتیں ان کی بھرپور مدد کرتی ہیں۔ پر افسوس کہ جو کام ہم مسلمانوں کے کرنے کے ہیں وہ غیر مسلم ممالک کر رہے ہیں اور ہمیں ابھی احساس ہی نہیں۔
ہمارے معاشرے نے تو ماؤں کو تیار کرنے کے شعبے سے بھی ہاتھ کھینچ لیا ہے ۔ پہلے ہوم اکنامکس جیسے مضمون سکولوں میں پڑھائے جاتے تھے۔ جن سے لڑکیاں بڑی ہو کر اپنے فرائض اچھی طرح نبھانے میں بہت آسانیاں محسوس کرتی تھیں۔
جس معاشرے کی ماں بہادر اور محنتی ہو اور یہی دو گن وہ اپنی الاد میں ڈال دے تو ایسے معاشرے کو نہ تو کوئی ترقی کرنے سے روک سکتا ہے ۔ اور نہ ہی کوئی ایسے معاشرے کو شکست دے سکتا ہے۔ اس لئے ہمیں اپنی ماؤں کو ان کی خدمات کے بدلے ان کی عزت کرنا اور ہمیں اپنی بچیوں کو آنے والے دور کے لئے اچھی ماؤں کے طور پر تیار کرنا ہے ۔ کیونکہ ماں کا جذبہ تو اللہ نے جانوروں میں بھی رکھا ہے ۔ انسان اور جانور میں یہی فرق ہے کہ جانور اپنی ماں سے خدمات حاصل کرتا ہے اور چلا جاتا ہے ۔ پر انسان ماں کی خدمات کا بدلہ اچھائی کے ساتھ دے سکتا ہے۔
1 comment for now
Posted by قیصر خان پتافی on مئی 07 2008 |
متفرق
“وزیر اعظم کے حلقے میں بجلی فراہمی کا ہدف ‘میپکو کارکن جان گنوا بیٹھا ،نعش 2گھنٹے تاروں پر لٹکتی رہی”۔ جتوئی شمالی کے نائب ناظم ڈاکٹر صفدر قاتلانہ حملے میں جاںبحق ‘ آپریشن سے فارغ ہو کر اپنے کمرے میں پہنچے ہی تھے کہ قاتل نے تین گولیاں ان کے سینے میں اتار دیں، قاتل فرار”۔16 “گھنٹے لوڈشیڈنگ “۔”بجلی کے نرخوں اور ریل کرایوں میں ضافے کا فیصلہ، واپڈا خسارہ 120 ارب سے تجاوز کر گیا ، ریلوے کا خسارہ بھی بڑھ رہا ہے”۔”فنڈز اور ادویہ کی عدم فراہمی ہیپاٹائٹس کے 450 مریض موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا”۔ “ٹریفک حادثے میں متعدد افراد ہلاک”۔ پی آئی اے بھی خسارے میں”۔یہ تمام خبریں اخبار میں پڑھ کر دماغ میں سوالیہ نشان پیدا ہو جاتے ہیں ۔ ذہن کہتا ہے کہ ملک میں کوئی حکومت نامی شئے کا وجود ہے کہ نہیں ؟۔ یا تھا کہ نہیں ؟۔
اتنی وزارتیں ، اتنے محکمے اور ان میں ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں ملازمین حکومت کو چلاتے نظر آتے ہیں اور حالت یہ کہ ہر خاص محکمہ خسارے میں ۔ بدنظامی اتنی کہ جانوں کی کوئی حیثیت ہی نہیں ۔ دو گھنٹوں تک ایک میپکو ملازم کی نعش بجلی کی تاروں پر لٹکتی رہی اور ریسکیو والے ادارے وزیراعظم کے پیچھے بھاگتے رہے ۔ کیا وزیراعظم کا دورہ کسی کی جان سے بھی زیادہ قیمتی ہے؟ ۔ اگر کوئی بھی سربراہ پنے آپ کو یا اپنی اولاد کو اسی میپکو ملازم کی جگہ رکھ کر سوچ لے تو کیا وہ اپنی جان کو بھی اتنا سستا پائے گا؟۔
ایک ڈاکٹر جو کسی کی جان بچا کر آبیٹھا تھا کہ قاتل نے اس کی بیچ بازار میں اور تھانے کےبالکل قریب جان لے لی اور دندناتا ہوا شہر سے بھاگ نکلا اور پولیس سوتی رہی؟۔
واپڈا خسارے میں، ریلوے خسارے میں پی آئی اے خسارے میں ، دیکھو تو پی آئی اے کی ہر فلائٹ فل، ٹرین پر مسافروں کو سیٹیں نہیں ملتیں ، یعنی ٹرینیں فل ۔ پر جہازوں کی حالت دیکھیں تو چھتوں سے بارش کا پانی رستا ہے۔ اور جہازوں کی آمد رفت میں تاخیر کا سلسلہ عام ہے۔ یہی حالت ٹرینوں کی ہے ، تاخیر تو معمول ہے ۔ اور ٹرین میں اگرسفر کریں تو لگتا ہے کباڑخانے میں بیٹھے ہیں۔ اس کے بعد واپڈا جو بھی بجلی کے نرخ نکالتی ہے ، اس پر بھی اس کا خریدار اتنا کہ اس کے پاس بیچنے کو بجلی نہیں۔
ایک زرعی ملک ہوتے ہوئے ،گندم ، چینی اور دیگر اجناس ہم درآمد کرتے ہیں ۔ عام سڑکیں تباہی کا شکار ہیں۔ محکمہ سیاحت کو ابھی جاگنے کا خیال ہی نہیں آیا ۔بلکہ اس کو تو کام کرنے کے قابل نہیں چھوڑا گیا۔ بعض علاقوں میں قدرتی آفات اور بعض علاقوں میں فوجی آپریشنوں نے سیاحوں کو آنے سے روک رکھا ہے ۔ اس لئے سیاحت کے محکمہ کے پاس بہانہ موجود ہے۔ پر اگر ایسا محکمہ جسے کام کرنے کے مواقع نہیں تو ایسے محکمہ پر سرمایہ کیوں خرچ کیا جا رہا ہے ؟۔ اور اس جیسے کئی اور محکمے اسی کی مانند ہیں۔
چند ماہ قبل میرے ایک پرانے دوست جو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کے ایک افسر ہیں ، نے مجھے بتایا کہ پی ٹی سی ایل ہزاروں کی تعداد میں اپنے ملازمین کو بزریعہ گولڈن ہینڈ شیک نوکریوں سے ریٹائر کر رہی ہے ۔ اور بعض ملازمین کو جبری طور پر بھی اس سکیم میں ڈالا جا رہا ہے۔ یہ سن کر مجھے تھوڑی حیرانی ہوئی اور میں نے کہا یہ تو ذیادتی ہے ۔ جو ادارہ اربوں کما رہا تھا اور پرائیویٹائز ہونے کے بعد بھی کما رہا ہے ۔ یہ کیوں اپنے ملازمین کم کر رہا ہے؟ ۔ تو انھوں نے بتایا کہ آپ خود ہی بتائیں ابھی تک حکومت پاکستان نے وہ افراد پی ٹی سی ایل میں بھرتی کر رکھے تھے جو پرانے زمانے والے نظام “تار” کے لئے بھرتی کر رکھے تھے ، اور یہ نظام برسوں ہو گئے ختم ہو چکا۔ اسی طرح جو آپریٹرز کال ملانے کے لئے بھرتی کئے گئے تھے ۔ ان کی اب ضرورت ختم ہو چکی تھی پر وہ بھی ابھی تک موجود ہیں۔ اس کے بعد انھوں نے بتایا کہ یہ افراد صرف صبح آکر حاضری لگاتے ہیں اور پھر دفتر سے غائب ہو جاتے ہیں۔ ان لوگوں نے اپنے ذاتی کاروبار شروع کر رکھے ۔ وہ حاضری کے بعد ان میں مشغول ہو جاتے ہیں اور ہر ماہ تنخواہ مفت میں حاصل کرتے ہیں ۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ جو چپڑاسی میرے دفتر میں کام کر رہا ہے اس کی تنخواہ دس ہزار سے ذیادہ ہے اور اس کو اور اس کے بچوں کو علاج کی سہولیات بھی مفت پی ٹی سی ایل فراہم کرتی ہے ۔ اور اس مفت سہولت سے نہ صرف خود اور اپنے بچوں کے لئے فائدہ حاصل کرتا ہے بلکہ اپنے خاندان کے تمام بچوں کو بھی اپنے بچے بنا کر ان کا بھی مفت علاج کرواتا ہے۔ اور اس چپڑاسی کی کام کرنے کی کارکردگی دیکھو تو جیسے ہی چھٹی کا وقت ہوتا ہے گھر چلا جاتا ہے ۔جبکہ مجھے کام کرنے کے لئے رات تک یہاں رہنا پڑ جاتا ہے۔ اور انھوں نے بتایا کہ مجھے جو درجن بھر افراد اس محکمہ نے کام کے لئے دے رکھے ہیں ، اس کے بدلہ کنٹریکٹ پر بھرتی کئے گئے دو ملازمین اس درجن بھر سے ذیادہ اچھا کام کر رہےہیں۔
اسی طرح پولیس کی نجانے کتنی قسمیں بنا دی گئی ہیں موٹروے پولیس ، سٹی پولیس ، ٹریفک پولیس ، ایلیٹ فورس، ریگولر پولیس ، کانسٹیبلری اور پتہ نہیں کیا کیا۔ اور کارکردگی دیکھیں تو شہر میں ٹریفک بلاک ، سڑکوں پر حادثات میں کثرت ، قتل وغارت و چوری و ڈکیتی معمول کی کاروائیاں ،بھلا اتنی قسم کی پولیس کا کیا فائدہ؟
بہر حال کیا کیا لکھوں لکھتے لکھتے اخبار کے صفحات ختم ہو جائینگے پر اعتراضات ختم نہیں ہوں گے ۔ جب کسی سیاسی شخصیت سے ملاقات ہو تو ان کا ایک ہی جواب ہوتا ہے کہ مسئلے تو سب بیان کرتے ہیں پر حل کوئی نہیں بتاتا۔ تو ان مسائل حل یہ ہے کہ جو جس محکمہ کا وزیر ہے اگر وہ اپنی وزارت کے محکمہ کو اس سنجیدگی سے چلائے جس سنجیدگی کے ساتھ وہ اپنا کاروبار چلاتا ہے تو تمام محکمے درست ہو جائیں ۔ بھلا سوچنے کی بات ہے ، نجی ایئرلائنیں آدھے کرایوں پر اور ایک ایک، دو دو جہازوں کے ساتھ منافع کما رہی ہیں اور پی آئی اے جہازوں کے بیڑے کے ساتھ خسارے میں۔ اور اگر واقعی ایسے ادارے خسارے سے باہر نہیں نکل سکتے اور پرائیویٹائز نہیں ہو سکتے تو ان اداروں کو بند کر دینا چاہئے اور خسارے کی رقم کو بچا کر ایسی اشیاء مثلاً کسی الیکٹرونکس وغیرہ جس کی مانگ دنیا میں ہو ،ان کی چھوٹی چھوٹی فیکٹریاں پورے ملک میں لگا لینی چاہیئیں اور ان اداروں کے ملازمین کو ان میں ملازم بھرتی کر لینا چاہئے تاکہ ملازمین کا کام بھی چلتا رہے اور حکومت کے پاس زرمبادلہ آتا رہے ۔ اور جہاز اور ٹرینوں کو نجی کمپنیوں کے حوالے کرائیوں پر کر دینے چاہیئیں ۔
اور نگرانی کرنے والے سخت ادارے تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ تاکہ پولیس کو اپنی کمائی کی بجائے اپنا اصل کام کرنے پر مجبور کیا جاسکے۔ابھی بھی تھانے خاص طور پر دیہی تھانے ، ایک اچھی فیکٹری کی کمائی کے برابر کما رہے ہیں۔
اگر حکومتی ارکان میرے مشورے کو صرف مفروضہ سمجھیں تو ان کے لئے ایک آفر ہے کہ اگر وہ چاہیں تو میں مفت میں اور بغیر کوئی کریڈٹ لئے ان کے لئے فزیبلٹی بنانے کو تیار ہوں۔
1 comment for now
Next »