لمحہ شکر
مصنف قیصر خان پتافی بتاریخ 30 جون 2009 – 1:00 پی ایم ۔
اﷲ پاک کی ذات باری تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے ہم پاکستانیوں کو ٹی 20 کرکٹ ورلڈ کپ جتوا کر ایک بہت بڑی خوشی عطا کی۔ میرے خیال کے مطابق یہ صرف ایک کپ جیتنے کی خوشی نہیں بلکہ اندھیروں اور پریشانیوں کے ایک گھمبیر دور کے خاتمہ کی نوید ہے۔ جس طرح اگر کوئی اندھیری رات میں گھنے جنگل میں راستہ بھٹک جائے اور مارے خوف کے اس رات کا ہر لمحہ اس کے لئے ایک سال کی مانند ہو تو آنے والی صبح کی پہلی کرن اسے اپنی زندگی واپس ملنے کی مانند نظر آئے گی۔ اسی طرح یہ ورلڈ کپ بھی ہم پاکستانیوں کے لئے غم اور مصائب کے لمبے دور کے بعد ایک خوشی کی کرن بن کر آیا ہے۔ کئی برسوں کے بعد سڑکوں اور چوراہوں پر نوجوانوں کے یک آواز دل سے نکلے گرجدار نعرے ’’پاکستان زندہ باد‘‘ سننے کو ملے اور دل میں ٹھنڈک محسوس ہوئی کہ ابھی بھی ہم پاکستانی ایک قوم ہیں اور اب بھی ہم میں خودداری موجود ہے۔ یہی وہ جوش ہے جو کسی بھی قوم کی سلامتی اور بقاء کی علامت ہوتا ہے۔ یہی وہ نعرہ ہے جو کئی برسوں سے سننے کو کان ترس گئے تھے اور اگر ڈری مری آواز میں کبھی یہ سننے میں آتا بھی تو ایسا محسوس ہوتا کہ شاید نعرہ لگانے والے کے سر پر بندوق رکھ کر یہ نعرہ لگوایا گیا ہو یا پھر پیسہ کے عوض کیونکہ ماضی قریب کے آمرانہ دور میں اتنی پریشانیاں گزریں کہ یہ سننے کو ملتا کہ اب یہ ملک ہمارا نہیں بلکہ ہمیں اس ملک میں غلام بنایا جا رہا ہے۔ اسی طرح جیسے کسی شخص کے گھر کو اس کا قیدخانہ بنا دیا جائے تو وہ اپنے ہی گھر کو مصیبت سمجھنے لگے گا۔ ویسے ہی عوام کے دل بھی اس ملک کے لئے تنگ ہوتے جا رہے تھے مگر اس ایک ورلڈ کپ کی فتح نے پوری قوم کو ایک کر دیا اور وہ جوش و ولولہ دیکھنے میں آیا جو کئی برسوں سے معدوم ہو چکا تھا۔ اب یوں محسوس ہونے لگا ہے کہ گزرا ہوا تاریکی کا دور اگر اس قوم کے لئے اﷲ کی طرف سے سزا تھا تو یہ سزا شاید اب معاف ہوتی نظر آتی ہے اور اگر آزمائش تھی تو یقیناً آزمائش کے خاتمہ کا وقت شروع ہو چکا ہے۔ اب ہمیں ان خوشیوں کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہئیے بلکہ اﷲ سے امید کرنا ہے کہ وہ اس قوم پر مزید خوشیوں کی برسات کرے بلکہ میں تو یہ کہتا ہوں کہ ہم لوگوں کو اب اﷲ پاک کے در پر شکرانے کا وہ سجدہ ادا کرنا ہے جس میں وہی خلوص اور گرمجوشی ہو جو ورلڈ کپ جیتنے والے نعروں میں تھی تاکہ اﷲ تعالیٰ ہم پاکستانیوں پر خوشیوں کا دروازہ بند نہ کرے۔
سوچنا یہ ہے کہ آخرکار کیا وجہ ہے کہ ہم پاکستانیوں پر ایسی آزمائش آئی کہ خوشیاں ہمارے گھر کا راستہ ہی بھول گئیں۔ میرے علم کے مطابق اﷲ پاک اپنے شکرگزار بندوں کو پسند فرماتا ہے اور ناشکرے کو ناپسند۔ ہم لوگوں کو جب بھی کوئی نعمت ملی ہم نے اس میں برائیاں نکالیں اور اس ذات پاک نے وہ خوشی ہم سے واپس لے لی اور ہمیں مشکل میں ڈال دیا۔ مثال کے طور پر جب بھی ہمیں جمہوریت نصیب ہوئی ہم نے اس میں کیڑے نکالے اور بجائے اس کے کہ ہم آمرانہ دور کی اندھیرنگری کے خاتمہ کا شکر ادا کرتے ہم اس جمہوریت کو اس سے بھی برا سمجھنے لگے مگر اب ہمیں پچھلی باتوں کو فراموش کرتے ہوئے جمہوریت کو مضبوط کرنا ہے۔ خواہ جمہوریت کتنی ہی بگڑی ہوئی کیوں نہ ہو۔ آمریت سے ہر حال میں بہتر ہو گی۔ اس کے علاوہ ہم پاکستانیوں کو جانوں کی قدر و قیمت کا بھی پوری طرح سے احساس نہیں۔ آپس میں محبت اور ایثار کا بھی فقدان ہے لیکن اب وہ وقت آن پہنچا ہے جب ہمیں یہ عہد کرنا ہو گا کہ ہم دوسرے کی جان کو بھی اتنا ہی قیمتی جانیں جیسا کہ ہماری اپنی۔
مختصراً یہ کہ ہم پاکستانیوں کو اتحاد کی ضرورت ہے۔ فی الوقت دشمن نے ہم میں وہ فضاء پیدا کر رکھی ہے کہ ہم متحد نہ ہونے پائیں۔ بچپن میں پڑھا وہ قصہ مجھے آج تک نہیں بھولا جس میں ایک بوڑھا شخص مرنے سے پہلے اپنے بیٹوں کو بلا کر کہتا ہے کہ چند لکڑیاں لے آٶ۔ جب لکڑیاں لائی جاتی ہیں تو اس بوڑھے نے ہر بیٹے کو ایک ایک لکڑی دے کر کہا کہ اسے توڑو۔ سب نے اپنی اپنی لکڑی باآسانی توڑ دی۔ تب اس نے کچھ لکڑیوں کو اکٹھا کر کے باندھا اور ایک گٹھا بنا کر انہیں دیا کہ اب اسے توڑ کر دکھاٶ۔ ہر ایک نے زور آزمائی کی مگر لکڑیوں کے اس گٹھے کو کوئی نہ توڑ پایا۔ تب اس بوڑھے نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ دیکھو میں نے تمہیں یہ ثابت کر دکھایا کہ اتحاد میں کتنی طاقت اور مضبوطی ہے۔ الگ الگ کر کے تم نے لکڑیوں کو باآسانی توڑ دیا مگر جب ان کو اکٹھا کر دیا گیا تو تم میں سے کوئی بھی انہیں نہیں توڑ پایا۔ بالکل اسی طرح اگر تم بھائی بھی متحد ہو کر رہو گے تو کوئی بھی تمہارا بال بھی بیکا نہ کر پائے گا۔ اس بوڑھے دانشمند باپ کی نصیحت دراصل ہم سب پاکستانیوں کے لئے مشعل راہ ہے۔ پس ہم پاکستانیوں کو بھی یک جان ہو کر متحد رہنا ہے اور آپس کے اختلافات کو نظرانداز کرنا بھی سیکھنا ہو گا۔ پھر دشمن ہمارا کچھ نہیں بگاڑ پائے گا۔(نوٹ:1جولائی 2009 کو نواۓ وقت ملتان میں شاۓ ھوا )مستقل نام کالم “کچھ کھنا ھے”![]()
زمرہ متفرق کے تحت شائع ہوا | تبصرہ میں پہل کیجیے »
غلط فہمیاں
16 جون 2009 – 12:40 پی ایممجھے آج تک یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ ...
تبصرہ میں پہل کیجیے »ایک رخ یہ بھی ہے
10 جون 2009 – 11:28 اے ایمqaisar-11.jpg افواج پاکستان پر بہت سے الزامات لگتے آئے ہیں جن ...
تبصرہ میں پہل کیجیے »پانچویں پاس…؟
1 جون 2009 – 11:39 اے ایمآج کل ایک غیرملکی انگریزی زبان کے چینل پر لگنے ...
تبصرہ میں پہل کیجیے »راہ راست
22 مئی 2009 – 11:21 اے ایمہمارے محدود علم کے مطابق کافر اور گناہگار میں ایک ...
تبصرہ میں پہل کیجیے »خوشخبری
19 مئی 2009 – 2:01 اے ایماب سمجھ میں آیا کہ جنرل ضیاء الحق نے اپنے ...
تبصرہ میں پہل کیجیے »خوشی اور خوشحالی
8 مئی 2009 – 1:48 پی ایمہم پاکستانیوں کو جو خوشیاں نصیب ہوتی ہیں وہ کچھ ...
تبصرہ میں پہل کیجیے »ایشیاء 2025ء
1 مئی 2009 – 11:21 اے ایمجیسا کہ آجکل موبائل فون پر بذریعہ SMS لطیفوں‘ چٹکلوں ...
تبصرہ میں پہل کیجیے »تب کچھ نہ ہو پائے گا
5 فروری 2009 – 12:13 پی ایمایک شخص کو قتل کے الزام میں جیل ہو گئی ...
تبصرہ میں پہل کیجیے »خوش گمانیاں
29 جنوری 2009 – 3:29 پی ایمبالآخر بش حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی آٹھ سالہ ...
تبصرہ میں پہل کیجیے »