دستاویز برائے زمرہ 'متفرق'
خبر کی زیر زبر
مصنف قیصر خان پتافی بتاریخ 4 اگست 2010 – 3:08 پی ایم ۔
خبر:… بھارت کو افغانستان سے تجارت کے لئے راہداری کی سہولت نہیں دی جائے گی: وزیراعظم
وضاحت:… یہ اجازت اس لئے نہیں دی جائے گی کیونکہ یہ اجازت پہلے سے ہی دی جا چکی ہے۔
خبر:… اسامہ پاکستان میں نہیں۔ امریکہ کے پاس معلومات ہیں تو فراہم کرے: وزیراعظم۔
وضاحت:… دراصل وزیراعظم صاحب نے یہ بیان ہیلری کلنٹن کے اس دعوے کے جواب میں دیا جس میں ہیلری نے کہا تھا کہ اسامہ پاکستان ہی میں ہے اور ہمارے وزیراعظم جو کہنا چاہتے تھے وہ امریکہ کے ڈر سے نہیں کہہ پائے۔ اس لئے فقرہ شروع تو کر بیٹھے لیکن پھر ڈر کر اس میں دو لفظ اضافی لگا گئے اور وہ ’’دو لفظ‘‘ ہیں ’’معلومات‘‘ اور ’’تو‘‘ یعنی وہ دراصل کہنا چاہتے تھے کہ اسامہ پاکستان میں نہیں امریکہ کے پاس ہے فراہم کریں۔
خبر:… نواز شریف اپنے کارکنوں کو سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں: شہباز شریف۔
وضاحت:… یہ واقعی سچ ہے کہ نواز شریف صاحب اپنے کارکنوں کو سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور وہ اس لئے کیونکہ نواز شریف صاحب اپنے کارکنوں کو سوائے اہمیت کے کچھ نہیں دیتے اور اہمیت بھی ڈانٹنے کے لئے دیتے ہیں۔
خبر:… امریکہ ڈالر کی قیمت پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں گر گئی۔
وضاحت:… پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ ڈالر کی صرف قیمت گری ہے ڈالر نظروں سے ابھی نہیں گرا جن کے پاس ہے سنبھال کر رکھیں۔ قیمت آخر بڑھتی گھٹتی ہے۔
خبر:… رحیم یار خان میں مسافر کوچ اور ٹریکٹر ٹرالی میں تصادم‘ دو افراد زخمی۔
وضاحت:… دراصل بس کے کنڈیکٹر نے کوچ کے ریڈی ایٹر میں پانی ڈالنے کی جگہ غلطی سے ڈرائیور کے نشے کی بوتل ڈال دی تھی جس کی وجہ سے کوچ مدہوش ہو گئی اور ٹریکٹر ٹرالی کو اپنا چچازاد سمجھ کر گلے ملنے دوڑ پڑی۔
خبر:… ضرورت پڑنے پر مزید ٹرینیں بند کی جا سکتی ہیں۔ چین سے لئے گئے تمام انجن خراب ہو چکے ہیں۔ چار سو انجنوں کی فوری ضرورت ہے: وزیر ریلوے غلام احمد بلور۔
وضاحت:… بلور صاحب نے ٹرینیں جیل میں بند کرنے کا اشارہ نہیں کیا۔ دراصل وہ وسائل کی قلت کی وجہ سے ٹرینیں روکنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ اب ظاہری بات ہے جب چین سے لئے سارے انجن خراب ہو چکے اور دو چار نہیں بلکہ چار سو انجنوں کی ضرورت ہے تو اس قلت کو گدھوں یا بیلوں سے تو پورا کیا نہیں جا سکتا۔ ہاں اگر ہمارے ملک میں ہاتھی پائے جاتے تو انجن کی جگہ ان کے استعمال کا سوچا جا سکتا تھا۔
خبر:… ڈیوڈ ہیڈلے نے ممبئی حملہ آوروں کی پاکستان نیوی سے تربیت کا اعتراف کر لیا۔ بھارتی حکام کی شکاگو جیل میں ہیڈلے سے تفتیش‘ آئی ایس آئی کے ملوث ہونے کا بھی اقرار: بھارتی دعویٰ۔
وضاحت:… دراصل ممبئی حملہ آوروں نے پاکستان نیوی سے تربیت تو ضرور لی تھی لیکن صرف مچھلیاں پکڑنے کی اور جس آئی ایس آئی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ ان ممبئی حملوں میں ملوث تھی تو یہاں یہ بات بہت شدت سے وضاحت طلب ہے کہ یہ آئی ایس آئی پاکستان کا جاسوسی ادارہ انٹر سروسز انٹیلی جنس نہیں بلکہ یہاں آئی ایس آئی سے مراد انڈین سپانسرڈ انسٹی ٹیوٹ ہے۔
خبر:… وہاڑی میں بجلی کی صورتحال بہتر نہ ہوئی تو احتجاج کریں گے: تہمینہ دولتانہ۔
وضاحت:… مسلم لیگ (ن) کی مرکزی نائب صدر و رکن قومی اسمبلی تہمینہ دولتانہ دراصل یہ کہنا چاہ رہی تھیں کہ اگر وہاڑی میں موجود ان کے گھر کی بجلی کی صورتحال بہتر نہ ہوئی تو احتجاج کیا جائے گا کیونکہ اگر انہیں عوام کی بات کرنی ہوتی تو وہ وفاقی جماعت کی لیڈروں میں سے ہیں اس لئے وہ پورے ملک میں بجلی کی صورتحال کو بہتر بنانے کا کہتیں۔ اس لئے واپڈا والے زیادہ پریشان نہ ہوں اور ان کے گھر کی بجلی کی صورتحال بہتر بنا دیں اور ہاں صورتحال بہتر بنانے سے کہیں واپڈا والے یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ تہمینہ دولتانہ صاحبہ خاتون ہیں تو ان کے صورتحال کہنے کا مقصد بجلی کے تاروں اور کھمبوں کو لپ اسٹک پاٶڈر لگانا ہے بلکہ ان کے کہنے کا مطلب بجلی کی فراہمی کو بہتر بنانا ہے۔
خبر:… فیصل آباد میں پاور لومز مزدوروں کے مظاہرے‘ دو فیکٹریاں نذر آتش۔
وضاحت:… فیصل آباد میں پاور لومز کے مزدوروں نے مظاہرہ کرنے کے دوران جو دو فیکٹریاں نذر آتش کر دی ہیں ان کا ہرگز یہ مطلب نہیں تھا کہ انہوں نے ان فیکٹریوں کو آگ لگا کر کسی دیوتا کی ’’بلی‘‘ کی ڈیمانڈ کو پورا کیا ہے بلکہ ان غریب مزدوروں کو کسی نے اقبال کا شعر سنا دیا جس کے نتیجہ میں انہوں نے فیکٹریوں کو آگ لگا دی اور وہ شعر کچھ یوں ہے کہ…
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو
(نوٹ:24جولائی2010 کو نواۓ وقت ملتان میں شاۓ ھوا )مستقل نام کالم “ادھر ادھر کی
![]()
زمرہ متفرق کے تحت شائع ہوا | تبصرہ میں پہل کیجیے »
اف یہ بابے اور فلسفہ
مصنف قیصر خان پتافی بتاریخ 4 اگست 2010 – 3:05 پی ایم ۔
مشہور دانشور مرحوم اشفاق احمد نے اپنی کتاب میں لکھا کہ بابا اسے کہتے ہیں جو کسی کا بوجھ بانٹ لے۔ اب اس بوجھ بانٹنے والی بات کا بظاہر تو مطلب یہی بنتا ہے کہ کسی کا دکھ درد یا تکلیف اپنے سر لے کر اس کی تکلیف کو ہلکا کرنے والا بابا ہوتا لیکن مفاد پرست اس کو یوں بھی سمجھ سکتے ہیں کہ اگر کسی کے پاس دولت کے انبار ہیں تو اس کے مال کو چھین لو اور اس بے چارے کا بوجھ ہلکا کر دو۔ خیر اس وضاحت کو لکھنے کا مقصد یہ تھا کہ اتنے دن کالم نہ لکھنے کی وجہ کچھ یوں تھی کہ ہم اس دوران ’’بابوں‘‘ کو تلاش کرتے رہے اور ریسرچ کرتے رہے۔ اس دوران دونوں قسم کے بابوں سے ملاقات ہوئی جن میں عبدالستار ایدھی جیسے بابے بھی نظر سے گزرے جنہیں ہم حقیقی یا اشفاق احمد کی وضاحت والے ’’بابے‘‘ کہیں گے اور دوسری قسم کے مفاد پرست بابوں سے تو ہمارا ملک بھرا پڑا ہے جو روز دوسروں کی دولت کا بوجھ بانٹنے کی کوشش میں لگے ہیں۔ ایسوں نے ہم سے بھی ہمارا بچہ کھچہ بانٹنے کی پیشکش کی۔ پر ایسی پیشکش سن کر ہم وہاں سے فوراً نو دو گیارہ ہو گئے۔ خیر اسی اثناء ہماری ملاقات دوایسے بابوں سے ہوئی جو ان دونوں قسموں میں سے نہیں تھے۔ یہ صرف دیتے تھے اور وہ بھی صرف پریشانیاں۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ بابوں کی ریسرچ کے دوران دو ایسے بابوں سے ملاقات ہوئی جو ننگ دھڑنگ ایک ایسی جگہ پر اکٹھے بیٹھے تھے جس جگہ پر ایک جانب افواج پاکستان کے رقبہ کی سرحد شروع ہوتی تھی اور دوسری طرف سیاستدانوں کی۔ یہ بابے ننگ دھڑنگ تو تھے ہی اس کے ساتھ ساتھ ان کے بال اور داڑھیاں بھی بڑھی ہوئی تھیں۔ خیر عوام الناس کا بھی ان کے پاس آنا جانا لگا ہوا تھا۔ جب ہم نے وہاں بیٹھے لوگوں سے پوچھا کہ یہ دو بابے کیوں اکٹھے بیٹھے ہیں تو انہوں نے بتایا کہ یہ دونوں بابے بڑے کراماتی ہیں۔ جب سے یہ اس سیاستدانوں اور فوجی علاقے کی سرحد پر بیٹھے ہیں تو یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ جب یہ دونوں بابے فوجی سرحدی علاقے میں بیٹھ جاتے ہیں تو ملک میں فوجی حکومت آ جاتی ہے اور جب یہ دونوں سیاستدانوں کے علاقہ میں بیٹھ جاتے ہیں تو پھر سیاسی حکومت آ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ان دو بابوں میں سے جو زیادہ بوڑھا ہے وہ جو کچھ بولتا ہے کسی کو سمجھ نہیں آتا لیکن چھوٹا بابا پڑھا لکھا ہے اور وہ بڑے بابے کی باتوں کا ترجمہ کرتا ہے جب ہم نے ان علاقے کے لوگوں سے پوچھا کہ اگر ایک بابا سیاستدان علاقہ میں اور دوسرا فوجی علاقہ میں چلا جائے تب کون سی حکومت بنے گی ملک میں۔ تو یہ بات کہتے ہوئے ہمیں چھوٹے بابے نے سن لیا اور بولا اوے بشر۔ لے سن اپنا جواب کہ اگر ایک بابا ادھر اور دوسرا ادھر ہوا تب آئے گی جمہوری حکومت کیونکہ تب توازن برابر ہو گا۔ ہم نے چھوٹے بابے سے کہا کہ بابا جی پھر آپ دونوں ایسا کیوں نہیں کرتے کہ ایک ادھر بیٹھ جاتے اور دوسرا ادھر۔ تاکہ سیاسی حکومت یا فوجی حکومت کی بجائے جمہوری حکومت قائم ہو سکے کیونکہ فوجی حکومت تو فوجیوں کے فائدے کے لئے اور سیاسی حکومت سیاستدانوں کے فائدے کے لئے ہوتی ہے اور جمہوری حکومت ہی تو وہ حکومت ہوتی ہے جو صحیح معنوں میں صرف اور صرف عوام کی ہوتی ہے۔ تب چھوٹے بابے نے کہا کہ اور بندہ بشر سن۔ ہم تو یہاں ننگ دھڑنگ اس لئے بیٹھے ہیں تاکہ دونوں قسم کی حکومتوں میں سے چاہے کوئی آئے تو ہمارا کچھ بگاڑ ہی نہ سکے۔ ہمارے پاس نہ کچھ ہو نہ ہم سے یہ کچھ چھین سکیں۔ بس ان دو لکیروں میں جس طرف والا ہمارے لئے کھانا بنا کر رکھ دیتا ہے۔ ہم اسی طرف چلے جاتے ہیں جس دن دونوں طرف کھانا رکھ دیا جائے گا تو ایک بابا ادھر اور دوسرا ادھر۔ ہم نے پوچھا بابا تو یہ ایسا کیوں نہیں کرتے تو بابے نے کہا کہ پھر تو دونوں کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا اور فائدہ عوام لے اڑے گی۔ اس لئے جب بھی کوئی ایک تنگ آ کر اپنی حکومت کو قائم کرنے کے لئے ہمارے لئے کھانا اپنی سرحد پر لے آتا ہے تو پھر دوسری طرف والا فوراً وہاں سے ہمارا کھانا اٹھا لے جاتا ہے تاکہ کہیں ہم بابے تقسیم ہو گئے تو پھر ان دونوں کا نقصان اور عوام کا فائدہ ہو جائے گا اور جمہوری حکومت وجود میں آ جائے گی۔ ابھی ہم اس فلسفہ کو سمجھنے کی کوشش ہی کر رہے تھے کہ اچانک بڑا بابا پنجابی میں بول اٹھا اور کہا…
’’ہل جیند اوڈا دل اے کھائیں گاتوں تے تتر جیسدے پیر وچ نئیں کوئی لتر تے ایس نوں کھاوے گا میڈا پرا‘‘
یہ سن کر ہماری سمجھ میں تو کچھ نہ آیا اور ہم نے چھوٹے بابے کو وضاحت کی گزارش کی تو چھوٹے بابے نے بتایا کہ بابا فارن پالیسی بنا رہا ہے کہہ رہا ہے کہ ہیلری کلنٹن پاکستان آئی ہوئی ہے اور کہتی ہے کہ چیل کادل بڑا ہوتا ہے اس لئے یہ پرندہ تم پاکستانیوں کے لئے تحفہ ہے یعنی دہشت گردی کی جنگ ایک بہت بڑی ذمہ داری جیسا اہم مشن تحفہ کے طور پر پاکستانیوں کو ہی دیا جا رہا ہے اور تیتر جس کے پاٶں میں جوتے تک نہیں ایسی بے کار چیز یعنی صرف نیوکلیئر ڈیل ہمارے بھائی ہندوستان کے لئے ہے۔
یہ سن کر تو ہمیں سمجھ آنا شروع ہو گیا کہ یہ بابے ہیں بہت سمجھ والے۔ پھر بڑا بابا بڑبڑایا اور پنجابی ہی میں کہنے لگا ’’اور گرمی دی ڈگری اپئی ودھ گئی جسے فیر وی ساوے طوطے نوں اجی بکھ نئیں اور جی لگی اے تے کمال ہو گیا جے‘‘
پھر ہم نے چھوٹے بابے کی طرف مدد طلب نظروں سے دیکھا تو بابا بولا کہ بڑے بابا جی کہہ رہے ہیں کہ حیرانگی کی بات ہے کہ ملک کے جس ادارے کو ہر اس وقت ملک خطرے میں نظر آتا ہے جب اس ادارے کے سربراہ کی نوکری خطرے میں ہوتی ہے تو کیا اب جب جعلی ڈگری کے معاملے پر پوری دنیا میںملک کی بدنامی ہو رہی ہے اور ملک کے اندرونی حالات یعنی بجلی کے مسائل اور روزگار کی کمی کی بدولت خودکشیاں اور پولیس کا عوام پر کھلے عام جبر ہو رہا ہے تو کیا اب اس ادارے کے سربراہ کو ملک خطرے میں نظر نہیں آ رہا کیا۔
یہ سن کر ہمیں تو مانو آگ لگ گئی اور ہم نے بابوں کو خونخوار نگاہوں سے گھور کر کہا کیا تم چاہتے ہو کہ ایک سرحد کے دوسری طرف والے تمہارے کھانے کا بندوبست کریں؟ اور کیا تم چاہتے ہو کہ ہم دوبارہ اندھیرے کی طرف چلے جائیں؟ تو ہمارا بس اتنا بولنا تھا کہ دونوں بابے اٹھ کھڑے ہو گئے اور کہا بڑے بابے نے کہ ’’ہونڑتے بڑ کوئی آسماں توں منو سلویٰ ڈگ ریا جے‘‘ چھوٹے بابے نے فوراً اس کا ترجمہ کیا اور کہا کہ یاد رکھو یہ سیاسی حکومت ہے جمہوری نہیں اور اب ہم بابوں کو غصہ دلاٶ اور فوراً یہاں سے رفوچکر ہو جاٶ اور ہم واپس آ گئے اور یہ سوچنے لگے کہ واقعی اب جمہوریت ہی کی ضرورت ہے نہ جانے کب آئے گی
(نوٹ:22جولائی2010 کو نواۓ وقت ملتان میں شاۓ ھوا )مستقل نام کالم “ادھر ادھر کی
![]()
زمرہ متفرق کے تحت شائع ہوا | تبصرہ میں پہل کیجیے »
شاید ایسا ہی ہو……!
مصنف قیصر خان پتافی بتاریخ 4 اگست 2010 – 3:00 پی ایم ۔
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے فرمایا ہے کہ پاکستان امریکہ کا حکم ماننے کا پابند نہیں۔ اس وقت ان کا اشارہ امریکہ کی اس ناپسندیدگی کا مظہر تھا جو امریکہ نے پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر کی لیکن گیلانی صاحب نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اگر اقوام متحدہ نے ایران پر پابندیاں یا معاشی روک ٹوک لگائی تو پاکستان بھی اس پر عمل کرے گا شاید وہ کہنا چاہ رہے تھے کہ پائپ لائن ایران سے پاکستان بچھا لینے دیں اربوں روپیہ خرچ ہونے دیں‘ٹھیکے داروں کو ایک نمبر اور دونمبر طریقوں سے کمانے دیں پھر جب اس پائپ لائن کے ذریعے گیس لے کر عوام کا فائدہ کرنے کا وقت آئے گا تو پھر اگر پاکستان کو امریکہ بذریعہ اقوام متحدہ حکم نامہ جاری کرے گا تو ہم اس گیس پائپ لائن گیس درآمد نہیں کریں گے کیونکہ عوام تو ہوتی ہی قربانی دینے کےلئے ہے اگر گیلانی صاحب کا یہ مطلب نہیں تھا تو پھر دوسرا مطلب تو صاف ہے کہ چونکہ گیلانی صاحب نے بھی نوابوں والی زندگی گزاری ہے اس لئے ان میں نوابوں والی چند خصلتیں آ گئی ہیں جیسا کہ ایک دفعہ ایک نواب صاحب کی نوابی ختم ہونے پر ان کے ایک پرانے دوست نے دعوت پر مدعو کیا لیکن جب وہ دعوت پر گئے تو سب کے سامنے ان کی بدحالی کا خواب مذاق اڑایا اور بے عزتی کی ۔ نواب صاحب روتے دھوتے واپس آ گئے۔ دوسرے روز نواب صاحب کو اسی دوست نے دوبارہ دعوت نامہ بھیجا اور نواب صاحب وہاں جانے کےلئے پھر تیار ہو گئے۔ جب ان کی بیوی نے کہاکہ نواب صاحب آپ کے اس دوست نے تو گزشتہ رات آپ کی خوب بے عزتی کی تو پھر آج دوبارہ اس کے دعوت نامے پر آپ وہاں کیوں تشریف لے جا رہے ہیں تو نواب صاحب نے کہاکہ کیا کریں جانا تو پڑے گا آخر ’’مروت بھی تو کوئی چیز ہوتی ہے‘‘ اب گیلانی صاحب کے کہنے کا بھی کچھ یوں ہی مطلب ہو گا کہ پہلے امریکہ کی خواہش پر لڑی گئی جنگوں کی بدولت پاکستان کا دیوالیہ نکال چکے ہیں اور اگر دوبارہ بھی اس گیس پائپ لائن کو بند کرنے سے پاکستان کا بیڑہ غرق ہوتا ہے تو ہو جائے کیونکہ آخر ’’مروت بھی تو کوئی چیز ہے‘‘
اس دفعہ بھی محترمہ بے نظیربھٹو کی سالگرہ کا اہتمام کیا گیا۔ سالگرہ تو چلو جیسے منائی گئی سو منائی گئی لیکن تقریب پر صدر آصف علی زرداری نے جو تقریر کی وہ میڈیا پر موضوع بحث رہی اور بنتی بھی کیوں نہ کیونکہ وہ تقریر کچھ یوں لگتی تھی جیسے اگر کسی نے ہٹلر کی ’’آپ بیتی‘‘ پڑھی ہو تو اسے علم ہو گا کہ اس کتاب کو پڑھتے وقت کچھ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی صرف اپنی ذات کے اندر ہی ر بڑبڑا رہا ہے۔ بجائے دنیا کے مسائل کو سوچنے اور ان کا حل تلاش کرنے کے وہ صرف اپنے ہی خیالات میں کھویاہوا جس میں وہ سوال بھی خود سوچتا ہو اور جواب بھی خود ہی دیتا ہو اور اس بات کو فراموش کر چکا ہو کہ وہ تو عوام کا لیڈر ہے اور اسے عوام کے مسائل حل کرنے ہیں نہ کہ صرف اپنی خواہشات کی تکمیل کرنا ہے خیر اب زرداری صاحب ہمارے ملک کے صدر ہیں اس لئے انہیں کوئی ہٹلر کے ساتھ تو تشبیہ نہیں دے سکتا بس لکھنے کا مقصد صرف اس انداز فہم کا موازنہ کرنا تھا خیر اس تقریر میں جو قابل ذکر بات تھی کہ صدر زرداری نے ایک بہت الجھی ہوئی بات کی وضاحت کر دی ہے اور وہ یہ ہے کہ سب جانتے ہیں کہ ہمیشہ سے پی پی پی بھٹو کو ہی اپنا سربراہ بناتے آئے ہیں لیکن سب یہ سوچتے تھے کہ اس دفعہ زرداری کیسے اس جماعت کا سربراہ بن گیا جو شاید اب آئندہ بھی زرداری ہی رہے گا۔ چھوٹے زرداری صاحب کے روپ میں۔ اس تقریر میں زرداری صاحب نے صاف صاف بتا دیا کہ میں اب وہ زرداری نہیں ہوں جو ’’تھا‘‘ یعنی (وہ مشہور زمانہ زرداری مسٹر ٹن پرسنٹ) اب ان کے مطابق ان میں بھٹو صاحب کی روح گھس گئی ہے جو شاید آئندہ بھی ہر آنے والے پی پی پی کے لیڈر میں منتقل ہوتی رہے گی۔ ان کی یہ بات واقعی دل کو لگتی ہے کہ اگر یہ زرداری صاحب وہی پرانے والے زرداری صاحب ہوتے تو اب تک پاکستان بیچ کر ملک سے باہر جا چکے ہوتے کیونکہ وہ تو اب صدر پاکستان تھے اور چاہتے تو سب کچھ لوٹ سکتے تھے تو اس لئے اب عوام و میڈیا کوچاہئے کہ اس بات پریقین کر لیں کہ زرداری صاحب کے جسم میں اب واقعی بھٹو صاحب کی روح ہے بذریعہ اخبار کی خبر پتہ چلا ہے کہ پائلٹ سیکنڈری سکول کی بجلی کا کنکشن واپڈا والوںنے منقطع کر دیا ہے۔ یہ خبر پڑھ کر پہلے تو بہت عجیب محسوس ہوا کہ جہاں حکومت کے اتنے اداروں کی بجلی عدم ادائیگی کے باوجود منقطع نہیں کی گئی وہاں آخر ایک تعلیمی ادارے کی بجلی کیوں منقطع کر دی گئی۔ خیر آخرکار دماغ نے اس الجھن کو دور کرنے کی خاطر ایک تاویل گھڑ دی اور وہ یہ کہ پائلٹ سیکنڈری سکول کی بجلی منقطع کرنے کی وجہ صرف عدم ادائیگی بل نہیں ہو گی بلکہ شاید کوئی واپڈا کا بڑا افسر اس وقت پائلٹ سیکنڈری سکول کے سامنے سے گزر رہا ہو گا جب وہاں اسمبلی میں بچے ’’لب پہ آتی ہے دعا‘‘ کا یہ فقرہ پڑھ رہے ہونگے کہ ’’ دور دنیا کا میرے دم سے اندھیراہو جائے‘‘ اور واپڈا کے افسرنے شاید یہ سمجھا ہو کہ بچے اﷲ تعالیٰ سے یہ دعا کر رہے ہیں کہ ’’دور دنیا(تک) میرے دم سے اندھیراہو جائے‘‘ اسی لئے اس واپڈا افسر نے ان بچوں کی دعا کی جلد قبولیت کی خاطر پہلے ان کے سکول میں اندھیرا کر دیا جس کو وہ اب دور دنیا تک پھیلانے کی بھی کوشش کریں گے
(نوٹ:28جون 2010 کو نواۓ وقت ملتان میں شاۓ ھوا )مستقل نام کالم “ادھر ادھر کی
![]()
زمرہ متفرق کے تحت شائع ہوا | تبصرہ میں پہل کیجیے »
کچھ تو ٹھیک کر لو
مصنف قیصر خان پتافی بتاریخ 4 اگست 2010 – 2:58 پی ایم ۔
یہ کالم کچھ چھوٹا اس لئے ہو گیا ہے کہ ہم اس کالم کو گھر کے باہر بیٹھ کر لکھ رہے تھے کہ اچانک بارش شروع ہو گئی اور جیسے بعض نئے کپڑوں کو دھونے سے وہ سکڑ جاتے ہیں تو اس کالم کے الفاظ بھی ہمارے دماغ سے نکلنے سے پہلے سکڑ گئے۔ خیر یہ اچھا ہی ہوا کہ حروف سکڑ گئے ورنہ ہمیں جو غصہ آیا ہوا تھا تو شاید ہم آج کچھ زیادہ ہی آج کے حکمرانوں اور ان جماعتوں کے بارے میں لکھ جاتے جو ظاہر ہے اچھا بھی نہ لگتا اور غصہ آنے کی وجہ بھی ہم تحریر کئے دیتے ہیں اور شاید کوئی بھی ہوش و حواس والا انسان ایسا نہ ہو جسے ایسی خبریں سن کر ان حکمرانوں پر غصہ نہ آئے۔ ہم بات کر رہے ہیں اس بیچارے رکشہ والے کی جس نے اپنی بیوی بچوں سمیت غربت کی وجہ سے خود کشی کر لی اور اس طرح اور بھی کئی خبریں سننے کو ملیں۔ حیرانگی ہوتی ہے پاکستان کے حکمرانوں پر کہ آخر یہ لوگ حکومت کس لئے سنبھالتے ہیں۔ یہ عوام کی خاطر کیوں کچھ نہیں کرتے۔ جب ایسے افسوسناک واقعات ہو جاتے ہیں تب ان غریبوں کے لواحقین کو چند لاکھ دے کر میڈیا کے سامنے اپنے آپ کو ہیرو بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ بس ہمارے ملک کی سیاسی جماعتوں کی کارگزاری پر تو کیا ہی بات کریں کیونکہ ان کی حالت تو کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ سیاسی جماعتیں حکومت میں ہوں یا حکومت سے باہر۔ محنت تو خوب کرتی رہی ہیں مگر صرف اقتدار کو قابو کرنے کی۔ اب تک تو سب اتنی باریاں لگا چکے ہیں کہ اگر کسی کو کچھ بھی عوام کی خاطر کرنا ہوتا تو کر دکھایا ہوتا۔ ان کی اس بے رخی کے باعث خدا ان کے نام انہی کے ہاتھوں ایسے بگاڑ دئیے کہ اب ان کے نام سن کر ہی ہنسی آتی ہے جیسا کہ پیپلز پارٹی کے نام کا مخفف پہلے پی پی پی ہوا یعنی پاکستان پیپلز پارٹی پھر اس پر پابندی کی وجہ سے پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز ہو گیا۔ یعنی چار دفعہ پی پی پی پی اس کے بعد اس کا ایک غدار دھڑا مسلم لیگ ق سے جا ملا اور اس کے نام کے ساتھ ایک اور پی کا اضافہ ہوا یعنی پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز پیٹریاٹس یعنی پانچ پی PPPPP۔ حالت کچھ یوں ہو گئی کہ کسی کے گھر کے باہر کوئی گاڑی یا موٹر سائیکل ہارن بجاتا تو گھر کے افراد اپنے ملازم یا بچوں کو کہتے دیکھو کون سی پیپلز پارٹی ہے گھر کے باہر چھوٹی یا بڑی۔ اسی طرح سے قائداعظم کا پاکستان بنانے والی مسلم لیگ غائب کر دی گئی اور ق لیگ‘ ف لیگ اور ن لیگ بن گئی۔ ویسے بہتر ہوتا کہ پیپلز پارٹی اپنی جماعت کا نام صرف ہارن ہی رکھ دے کیونکہ ایک تو ہارن پی پی کی آواز ہی نکالتا ہے بس اس سے جتنے چاہیں ’’پی پی پی‘‘ آوازیں نکلوائیں اور دوسرا آجکل پیپلز پارٹی کے وزراء و ممبران صوبائی اور قومی اسمبلی سوائے ہارن کی طرح شور مچانے کے اور کچھ نہیں کر رہے۔ ویسے بھی اب وہ پیپلز پاٹی تو باقی رہ نہیں گئی۔ اس میں بڑے عہدے دار تو سارے جنرل ضیاء الحق سے وابستگی رکھنے والے ہیں۔ اب یہ تو اچھا لگے گا نہیں کہ مسلم لیگ کی طرح فلاں گروپ‘ فلاں گروپ‘ فلاں گروپ اس کے نام کے ساتھ لگایا جائے۔ جیسے پیپلز پارٹی جنرل ضیاء الحق گروپ تو اس لئے ہارن نام اس کے لئے سب سے اچھا رہے گا۔ (ہارن سے پی پی کی آواز نکلتی ہے)
اسی طریقے سے مسلم لیگ کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے نام میں تھوڑی تصحیح کر لے اور بجائے ق لیگ‘ ف لیگ اور ن لیگ رکھنے کے ق الیون‘ ف الیون اور ن الیون رکھ لے۔ اس طرح ذرا اچھا تاثر پیدا ہو گا اور لگے گا کہ کوئی کھلاڑی ٹیم ہے جو سیاست کا کھیل ڈٹ کر کھیلے گی اور دوسرا فائدہ یہ ہو گا کہ ان گروپوں میں سے اگر کسی کی تعداد کم ہوتی تو یہ عذر بھی پیش کیا جا سکتا ہے کہ یہ تو ہے ہی الیکن یعنی گیارہ اس لئے ہمارے لئے تو گیاہر ہی کافی ہیں
(نوٹ:24جون 2010 کو نواۓ وقت ملتان میں شاۓ ھوا )مستقل نام کالم “ادھر ادھر کی
![]()
زمرہ متفرق کے تحت شائع ہوا | تبصرہ میں پہل کیجیے »
سو سالہ بزرگ سے گپ شپ
مصنف قیصر خان پتافی بتاریخ 4 اگست 2010 – 2:49 پی ایم ۔
یہ باتیں ہیں ایک ایسی بزرگ شخصیت کی جن کی عمر اب سو سال سے بڑھ چکی ہے‘ لگ بھگ104 یا 105سال کے تو وہ ضرور ہونگے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب آدمی سو سال کا ہو جاتا ہے تو سمجھو دوبارہ پیدا ہو جاتا ہے ‘اس لئے بال دوبارہ کالے ہونا شروع ہو جاتے ہیں اوراکثر سننے میں آیا ہے کہ دانت بھی دوبارہ آ جاتے ہیں لیکن اس بزرگ نے اپنے بال دوبارہ کالے نہ ہونے کی وجہ یہ بیان کی کہ ان کے سر پر سے تو تیس برس کی عمر میں ہی بال صاف ہو گئے تھے اور ان کے دانت اس لئے دوبارہ نہیں نکل رہے کیونکہ یہ اب بھی دیسی چاکلیٹ یعنی گڑ بہت کھاتے ہیں اور اس کی وجہ سے دانت نکلتے ہی اس کو کیڑے اپنی چاکلیٹ سمجھ کر کھا جاتے ہیںتو شاید اس لئے اب ان کے دانت دوبارہ نہیں نکل رہے کیونکہ ان کے دانت کیڑوں کو اتنے پسند آئے کہ وہ دانتوں کی جڑیںبھی چٹ کر گئے اور ظاہر ہے جب کسی چیز کا بیج نہ ہو اور جڑ بھی ختم ہوچکی ہو تو وہ دانت آخر کیسے دوبارہ نکلیں۔ ان کے مطابق اگر وہ بچپن اورجوانی میں ذرا احتیاط سے کام لیتے تو ان کے دانتوں کی جڑیں بچ جاتیں اور آج ان کے منہ میںدوبارہ سے دانت اُگ آتے۔ خیربال کالے ہوں یا نہ ہوں اور دانت دوبارہ نکلیں یا نہ نکلیں۔ مگر انہوں نے پیدائش کے بعد جو دو کام بچہ کرتا ہے وہ ضرور شروع کردئے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ ایک تو انہوں نے پاٶں پاٶں چلنا شروع کردیا ہے اور اس کے علاوہ دودھ بذریعہ فیڈر بھی پینا شروع کردیا ہے اور آخر ایسا کیوں نہ کریں کیونکہ ان کے مطابق تو وہ ابھی چار پانچ سال کے بچے ہی تو ہیں کیونکہ وہ سو کے بعد تو دوبارہ پیدا ہوچکے ہیں ہم نے ان سے جب پوچھا کہ سنا ہے سانپ جب سو سال کا ہو جاتا ہے تو وہ کسی بھی روپ کو دھارنے کی صلاحیت اختیار کرلیا ہے یعنی اگر وہ انسان یا ہرن بننا چاہے تو بن جاتا ہے تو کیا ایسی کوئی صلاحیت انسان بھی سو سال کی عمر میں حاصل کر لیتا ہے کیا؟ تو انہوںنے بتایا کہ بیٹا وہ سانپ ہوتا ہے جو کسی بھی روپ کو دھار سکتا ہے‘ انسان سو سال کی عمر میں تو صرف ایسا ہو جاتا ہے جیسے نومولود بچہ‘اس کے علاوہ کچھ نہیں لیکن … یہاں انسان کی ایک قسم کو وہ ضرور جانتے ہیں جو صرف سانپ کا روپ دھار سکتی ہے جب ہم بے چین ہو کر ان سے اس قسم کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے ہمیں بتایا کہ زیادہ بے چین نہ ہو وہ قسم بہت عام ہے اور اس قسم کو کہتے ہیں ’’سیاستدان‘‘ اس جواب نے ہماری بے چینی کا مزہ کر کرا کردیا۔ ہم نے تو سمجھا تھا شاید واقعی کوئی انسان سانپ کا روپ دھار لیتا ہو گا لیکن اس بزرگ کی اس بات سے تو ہم پہلے سے ہی واقف تھے ۔
خیر ہم نے اس بزرگ سے کہاکہ بزرگو یہ بات تو کوئی نئی نہیں اور اس سے تمام لوگ واقف ہیں تو پھر آپ کے تجربہ کا کیا فائدہ ہوا۔ ہمیں اس سے کیا حاصل ہوا تو اس بزرگ نے کہا میں نے تو تمہیں پہلے ہی بتایا کہ سو سال کے بعد انسان سمجھو دوبارہ پیدا ہو گیا اور اب میں تو 105 سال کا ہوں‘ یعنی صرف پانچ سال کا‘ تو میرا تجربہ بھی صرف بچے والا ہی ہو گا نا! ہاں بس ایک بات ضرور ہے کہ میں بھی سچ بولتا ہوں پانچ سال کا بچہ معصوم سچ بولتا ہے پھر میں نے اس بزرگ سے پوچھا کہ آپ آج کی عوام کو کیا پیغام دیں گے تو اس بزرگ نے کہا کہ عوام بے چاری کو کیا پیغام دوں۔ عوام تو بے بس ہوتی ہے اور اس کی کوئی مرضی نہیں ہوتی اور جس کی نہ کوئی رائے ہو اور نہ اختیار اس کو کوئی پیغام دینا تو ایسے ہی ہے جیسے تم کوئی بہت اچھا سا کالم لکھنے کے بعد اسے ردی کی ٹوکری میں ڈال دو۔
ہاں اگر کوئی پیغام لینا ہی ہے تو مجھ سے سیاستدانوں اور حکمرانوں کیلئے کوئی پیغام لے لو۔ ہم نے کہا کہ چلو اگر آپ کو لگتا ہے کہ ایسے لوگ جو آپ کے مطابق سانپ بن چکے ہیں یا بن سکتے ہیں کو کوئی پیغام دینے سے ان میں کوئی فرق پڑتا ہے تو ضرور دے دیں تو وہ بزرگ بولے کہ فرق پڑے یا نہ پڑے لیکن میرا فرض تو ادا ہو جائے گا نا!
ویسے تو میرادل کرتا ہے کہ ہر سیاستدان کو علیحدہ علیحدہ پیغام دوں لیکن شاید تم آج کے لوگوں کے پاس میرے جیسے لوگوں کے لئے اتنا وقت نہیں ہوتا اور خیر اگر اتنا وقت ہوتا بھی تو میں اتنا بول نہیں سکتا۔ بس سب سیاستدانوں اورحکمرانوں کو ایک پیغام دے دو کہ میں نے اس دنیا میں اب تک 105 سال گزار لئے ہیں میں نے انگریز حاکم بھی دیکھے اور ان کی شان و شوکت بھی دیکھی۔ ہندو مہاجنوں کی دولت بھی دیکھی‘ مسلمانوں کو پاکستان جیسی نعمت حاصل کرتے بھی دیکھی اور اس نعمت کو تباہ کرتے بھی دیکھ رہا ہوں لیکن ایک بات میں آج تک دیکھتا آ رہا ہوں کہ اس دنیا سے سب چلے گئے اور شاید اب بھی جتنے لوگ اس دنیا میں ہیں سب چلے جائیں گے ۔سب دولتیں اورعہدے اسی دنیا میں رہ جاتے ہیں کیا یہ حکمران اور سیاستدان آج جو ظلم عوام پر ڈھا رہے ہیں یہ نہیں سوچتے کہ جس عہدے کو بچانے کی خاطر یہ حاکم اور سیاستدان بے چاری عوام پر ظلم ڈھا رہے ہیں غیر ملکی فرنگیوں کے حکم پر اس عوام کو مہنگائی کی چکی میں پیس رہے ہیں ان کے یہ عہدے اور دولت اسی دنیا میں رہ جائے گی اور انہیںکوئی یاد بھی نہ رکھے گا جیسے آج ان فرنگی و ہندو وزیروں اور لارڈز کو اس ملک میں کوئی نہیں جانتا جو ادھر راج کرکے اس دنیا سے جا چکے ہیں بس یاد رہ جاتی ہے تو صرف اچھائی جسے انبیاء کی اچھائیاں اور عام انسانوں میں لیڈروں کی اچھائیاں جیسے محمد علی جناح ۔ بس اگر یہ اپنا نام زندہ رکھنا چاہتے ہیں تو انہیں کہو عوام کے لئے کچھ اچھا کر دکھائیں۔
اس کے بعد بزرگ نے کہاکہ بس اب میرے فیڈر پینے کا ٹائم ہو گیا ہے جیسے تمہارے حکمران تمہیں بے قوفی کا فیڈر پلا رہے ہیں اب تم جاٶ یہ کہہ کر بزرگ پاٶں پاٶں چلتے ہوئے اپنا فیڈر اٹھانے چل پڑے
(نوٹ:17جون 2010 کو نواۓ وقت ملتان میں شاۓ ھوا )مستقل نام کالم “ادھر ادھر کی
![]()
زمرہ متفرق کے تحت شائع ہوا | تبصرہ میں پہل کیجیے »
اسے کہتے ہیں بجٹ
مصنف قیصر خان پتافی بتاریخ 4 اگست 2010 – 2:40 پی ایم ۔حکومت وقت نے جو بجٹ عوام کے لئے پیش کیا عوام اس سے بہت نااُمید ہو گئی۔ اس ناامیدی کو دیکھتے ہوئے ہمیں بہت بے چینی محسوس ہوئی اور ہم نے کچھ کر دکھانے کی ٹھان لی۔ اس کُچھ کر دکھانے کی پیاس کو بجھانے کے لئے ہم نے ’’میٹنگ‘‘ کا اہتمام کرکے اس میں اپنے ان تمام دوستوں اور تعلق داروں کو مدعو کر ڈالا جن کا تعلق معاشیات سے رہ چکا ہے یہ میٹنگ اس غرض سے بلوائی تاکہ اس میں یہ تمام معاشی و بدمعاشی تجزیہ کار مل بیٹھ کر عوام کے اس معاشی مسئلہ کا حل تلاش کریں کیونکہ اب یہ کام تو عوام کی حکومت نے کرناچھو ڑدیا ہے۔ مختصراً یہ کہ اس معاشی میٹنگ میںجو معاشی و بدمعاشی کے اعلیٰ پائے کے لوگ آئے تھے مل بیٹھ کر ایک ایسا بجٹ تشکیل دے دیا جس کو پڑھنے کے بعد کوئی بھی یہ کہہ سکتا ہے کہ ہاں اس بجٹ پر عمل کرکے گزارا ہو سکتا ہے اس کو تشکیل اور بجٹ کی تمام شقیں بھی ہم تحریر کر رہے ہیں۔
بجٹ کی تشکیل:
اس بجٹ کی تشکیل میں معاشیات سے تعلق رکھنے والے تمام شعبوں اور مکاتب فکر کے لوگ شامل ہوئے جن میں فیکٹری مالکان ‘ دکاندار‘ آڑھتی‘ رشوت خور‘ ڈاکو‘ چور‘ وزرائ‘ایم این اے‘ ایم پی اے‘ پولیس‘ ذخیرہ اندوز وغیرہ سرفہرست ہیں اس بجٹ کو تشکیل دیتے وقت عوام کی بنیادی ضرورت کو مدنظر رکھا گیا جن میں بنیادی ضرورتیں روٹی‘ کپڑا اور مکان سرفہرست ہیں اوراس کے علاوہ دیگراشیاء کا بھی خیال رکھا گیا۔ تمام ضروریات کے حصول کا طریقہ کار چیدہ چیدہ درج ذیل ہے۔
A-1 خوراک کا حصول: اس بات کا بغور جائزہ لیا گیا کہ پانچ افراد پر مشتمل کنبے کو درمیانی قسم کی خوراک کے ساتھ دو وقت کی روٹی کی خاطر کم از کم دس سے پندرہ ہزار روپے ماہانہ کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ ہمارے ملک کے عوام کی اکثریت غریب طبقہ سے تعلق رکھتی ہے جن کی کل ماہانہ آمدنی اس سے کہیں کم ہے تو وہ صرف خوراک کے حصول کو اس رقم سے کیسے ممکن بنا سکتے ہیں اس غرض سے میٹنگ میں تجربہ کار افراد نے جو طریقہ کار عوام کے لئے موزوں پایا ہے وہ کچھ یوں ہے کہ عوام کو چاہئیے کہ وہ صبح ناشتہ کی خاطر اپنے گھرکے افرادکی تعداد کے برابر زندہ مرغیاں پال لیں جس سے روزانہ ان کو انڈے ملتے رہیں گے اور ناشتہ کا گزارہ ہوتا رہے ا سکے علاوہ دوپہر کے کھانے کی خاطر گھرکے افراد کو کسی ہوٹل لے جائیں اور ساتھ کسی راہ چلتے کم از کم دو یا دو سے زائد افراد کو اور کسی فقیر قسم کے بچے کو بھی کھانا کھلانے ساتھ لے جانا نہ بھولیں۔ ان دو یا اس سے زائد راہ چلتے افراد کو اس فقیر ٹائپ بچے کو اپنا بچہ ظاہر کریں۔ سب خوب ڈٹ کر ہوٹل سے کھانا کھائیں اور سب خاندان کے افراد باری باری وہاں سے فرار یعنی نو دو گیارہ ہو جائیں آخرمیں صاحب خانہ کو چاہئے کہ خود واش روم جانے کا بہانہ بنائیں اور ان دو یا اس سے زائد افرادکو ’’اپنا‘‘ بتائے گئے اس فقیر ٹائپ بچے کا خیال رکھنے کا کہہ کر خود بھی وہاں سے رفوچکر ہو جائیں اس طرح دوپہر کا اعلیٰ قسم کا کھانا عوام مفت کھا سکتے ہیں ان دو یا اس سے زائد افراد کی تائید اس لئے کی گئی ہے کیونکہ جب ایک میز سے زیادہ لوگ فرار ہوں تو باقی بیٹھنے والے افراد کی کثیرتعداد ہونا بہت ضروری ہے تاکہ ہوٹل انتظامیہ کو شک نہ ہو کہ آپ کا خاندان بل دئے بغیر فرار ہو رہا ہے۔
اب باقی رہ گیا رات کا کھانا تو یہ کھانا کھانے کیلئے بہت ہی آسان طریقہ کار ہے ایک بار خرچہ کرکے اپنے خاندان کے لئے اچھے قسم کپڑے بنوا لیں اوران کپڑوں کو پہن کر کسی بھی شادی یا ولیمہ وغیرہ کی محفل میں چلے جائیں اور گیٹ پر کھڑے میزبانوں کو ایک خالی لفافہ جاتے ہی تھما دیں اور مبارکباد پیش کریں۔ یہ لفافہ کبھی بھی اس موقع پر نہیں کھولا جاتا اور بعد میں جب یہ لفافہ کھولا جاتا ہے تب تک آپ وہاں سے ڈٹ کرکھانا کھا کر جا چکے ہونگے اور محرم یا رمضان کے مہینے میں جب یہ شادیاں یا ولیمے نہیں ہوتے اس دوران خیرات و نیاز کی محفلوں کا رخ کریں۔ ان فارمولوں پر عمل کرنے سے آپ اعلیٰ قسم کے کھانے جس کے حصول پر ایک خاندان کیلئے کم از کم تیس ہزار ماہانہ صرف ہوگا یہ رقم آپ کو نہیں خرچ کرنا پڑے گی جو کہ آپ کی بچت ہے۔
u-2 کپڑے: ویسے تودو اوپر دئے گئے فارمولے کی خاطر آپ کو چند اچھے جوڑے بنوانے کیلئے ایک بار رقم خرچ کرنا پڑے گی لیکن غمی میں پہننے والے کپڑوں کے انتظام کی خاطر اس میٹنگ میں ایک بہت آسان طریقہ کارپیش کیا گیا ہے کرنا کچھ یوں ہے کہ شہر میں جا بجا روزانہ کئی بینر اور جھنڈے لگائے جاتے ہیں رات کے وقت عوام باآسانی ان جھنڈوں اور بینروں کو اتار سکتے ہیںاوران بینرز کو رنگ ساز کے پاس لے جائیں اور اپنی مرضی کا رنگ کروا لیں اور پیسے بچانے کی خاطر انہی بینرز میں سے کچھ معاوضہ کے طور پر رنگ ساز کو دے دیں اور اسی طریقہ سے ٹیلر سے بھی کپڑے سلوا لیں اور مفت کپڑے پہننے کا مزہ اٹھائیں۔
مکان: مکان بہت اہم چیز ہے اور اس کے حصول پر ساری عمر صرف ہو جاتی ہے لیکن میٹنگ میں تجربہ کار لوگوں نے مکان کے حصول کا فوری اور آسان طریقہ کار پیش کیا ہے عوام کو کرنا کچھ یوں ہے کہ سو دو سو کنبے اکٹھا ہو کر کسی سرکاری جگہ پر رات ہی رات میں ڈیرے ڈال لیں وہاں چوپڑی کے گھر (گارے سے بنے گھر) بنائیں اور پھر حکومت سے یہ مطالبہ کریں کہ انہیں اس کے مالکانہ حقوق دے دئے جائیں اسی مطالبہ کی خاطر کسی جی ٹی روڈ یا شہر کی کسی اہم سڑک کو ٹائرجلا کر بلاک ضرور کریں تاکہ میڈیا اسے کور کرے اور حکومت مجبور ہو کر یہ جائیداد عوام کو کچی بستی کے نام پر الاٹ کر دے جب یہ زمین الاٹ ہو جائے تو پھربینک سے گھر بنانے کا قرضہ لے کر گھربنا لیں اور پھر یہ سمجھ کر قرضہ واپس کرنے کی ضرورت نہیں کہ آخر آپ کو گھر فراہم کرنا حکومت ہی کی تو ذمہ داری تھی جو آپ نے حکومت سے (طریقے سے) پوری کروا لی۔ اگر قرضہ کے حصول میں دشواری ہو تو ہم سے رابطہ کریں آپ کی مدد کیلئے ہمارے پاس دو نمبر افرادکثیر تعداد میں موجود ہیں۔
دیگر اہم ضروریات: اوپر بتائی گئی ضروریات کے علاوہ چند لغویات کے سہل اور مفت حصول کیلئے میٹنگ میں طریقہ کار کی سفارشات کی گئی ہیں جن میں موبائل سے کال کرنے نائی سے بال کٹوانے اور پسینہ خشک کرنے کے لئے ائرکنڈیشنر کا استعمال شامل ہیں۔ موبائل سے مفت کال کرنے کے لئے اس موقع پر مشورہ دیا گیا ہے کہ ایک بار خرچہ کرکے ہر موبائل کمپنی کی دو سمیں خرید لی جائیں جن میں موجود مفت بیلنس کا استعمال پہلے ہر موبائل کمپنی کی ایک ایک سم سے کیا جائے اور بیلنس ختم ہونے کے بعد ان سموں کو کہیں محفوظ کر کے رکھ لیا جائے پھردوسری سموں کا استعمال کیا جائے تب تک امید ہے کہ اتنا عرصہ گزر چکا ہو گا جب معیاد کے بعد موبائل کمپنیوں کی جانب سے دوبارہ سم استعمال کرنے پر مفت بیلنس اور منٹ فراہم کئے جاتے ہیں تب وہ پہلی والی سمیں دوبارہ موبائل میںڈال کر استعمال کرنا اور مفت بیلنس اورمنٹوں کا استعمال شروع کر دیں اور خالی سموں کو دوبارہ استعمال کے لئے اس میعاد تک محفوظ کر لیں جب تک ان میں بھی مفت بیلنس و منٹ فراہم کر دئے جائیں اس طرح باری باری استعمال کئے رکھیں اور یہ خرچہ بھی بچا لیں اسی طرح اگر زیادہ گرمی لگے تو بینکوں کے باہر چوبیس گھنٹے کھلے اے ٹی ایم کی مشین والے ائر کنڈیشنڈ کمروں میں ایک یا دو گھنٹے آرام سے گزار کر پسینہ خشک کیا جا سکتا ہے صرف کرنا کچھ یوں ہو گا کہ اگر کوئی اس اے ٹی ایم مشین سے پیسے نکالنے آئے تو اندر سے اس طرح اشارہ کریں کہ یہ مشین بہت تنگ کر رہی ہے اور آ پکا کارڈ بھی ضبط کرادیا ہے اور پیسے بھی نہیںدئے۔ اس طرح ہر آنے والا فوراً وہاں سے چلا جائے گا۔
اس کے علاوہ جب آپ نے اپنا حلیہ ٹھیک کرنے کی خاطر نائی سے بال کٹوانے ہوں تو ویسا ہی فقیربچہ ساتھ لے لیں جیسا کہ آپ خوراک کے حصول کی خاطر دوپہر کے کھانے کے وقت لے جاتے ہیں اس بچے کو ایک دو ٹافیاں دے دیں اور نائی کی دکان میں اپنے بال کٹوا کر پھر اس بچے و بال کٹوانے کی خاطر بٹھا دیں اور نائی سے کہیں کہ اس کے اچھے سے بال کاٹ دے پھر نائی کو اس بچے کا خیال رکھنے کا کہہ کر خود کسی کام کا بہانہ بناکر باہر نکل جائیں اورخوش ہوں کہ آپ نے یہ کام بھی مفت کروا لیا۔
نوٹ: عوام سے گزارش ہے کہ اس بجٹ کو عملی جامعہ پہنانے سے پہلے رنگ گورا کرنے والی کریم اپنے اور اپنے گھر والوں پر ضرور استعمال کریں کیونکہ گورے کے آگے کوئی نہیں بولتا۔
(نوٹ:14جون 2010 کو نواۓ وقت ملتان میں شاۓ ھوا )مستقل نام کالم “ادھر ادھر کی
![]()
زمرہ متفرق کے تحت شائع ہوا | تبصرہ میں پہل کیجیے »
چلو بھر پانی ہے تو ڈوب مرو
مصنف قیصر خان پتافی بتاریخ 4 اگست 2010 – 2:32 پی ایم ۔خبر ہے کہ فلسطینیوں کےلئے امدادی سامان لے کر جانے والے بحری قافلے ’’فریڈم فلوٹیلا‘‘ پر اسرائیلی فوجیوں نے دھاوا بول دیا اور اس دوران بیس غیر اسرائیلی جاں بحق ہوگئے۔ اس بحری قافلے میں جہاں دنیا کے کئی ممالک کے شہری موجود تھے وہاں تین پاکستانی بھی ان میں شامل تھے جن میں سے دو صحافی تھے جب سے یہ واقعہ رونما ہوا ہے ہمارا میڈیا اور سیاسی شخصیات و عوام ایک ہی بات دہرا رہے ہیں کو چلو اسرائیل کی جارحیت دنیا کے سامنے کھل کے آ گئی اور اسرائیل کا وحشیانہ پن ساری دنیا جان گئی ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیاس اس وقت پوری دنیا میں کوئی ایسا شخص ہے جسے اسرائیل کی جارحانہ اور وحشیانہ سوچ کے بارے میں پہلے سے علم نہ ہو؟ شاید کوئی بھی اس بارے میں لاعلم نہ ہوگا کسی گنوار سے بھی دریافت کریں تو وہ بھی اسرائیل کے منفی رویے پر ہمیشہ ملامت کرتا نظرآئے گا۔ یہ تو وہی بات ہوئی کہ کوئی اپنے آپ کو کسی کتے سے کٹوانے کے بعد کہے کہ دیکھا کتا گوشت کھاتا ہے اور یہ اب ثابت ہوا ہے حالانکہ درحقیقت اسرائیل کی اس قابل مذمت کارروائی سے ہمیں یہ سوچنا تھا کہ کتے سے بچنے کے علاوہ کتے کو قابو میں کیسے کیا جائے اور اگر قابو کرنا ممکن نہیں تو اسے مارا کیسے جائے۔ بس اسی بات پر ہمیں غور کرنا اور منصوبہ بندی کرنا ہے ورنہ یہ کتا باری باری سب کو کاٹے گا اور کہیں کسی دن یہ ہم تک براہ راست ہی نہ پہنچ جائے۔دوسری خبر ہے کہ کراچی سٹاک ایکس چینج میں مندی جاری‘ انڈیکس نفسیاتی حد سے نیچے آ گیا۔ باقی خبر تو معمول کے مطابق ہی لگتی ہے جیسا کہ کراچی سٹاک ایکس چینج میں مندی جاری کیونکہ کاروبار میں مندی تو ہم لوگوں کےلئے معمول کی خبر ہے۔ ہاں اگر نفع کی خبر ہو تو وہ حیران کن ہوتی ہے کہ آخر نفع ہو گیا اور سارا ملک اس سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ جیسے علی بابا چالیس چور کی کہانی میں علی بابا کے نقش قدم پر چل کر ڈاکوٶں کی غار میں جا پہنچتا ہے اور اس کاروبار کی بدولت وہ اپنی جان بھی دے بیٹھتا ہے بس نفع کا سن کر اسی جگہ پورا ملک فی الفور سرمایہ کاری کر ڈالتا ہے اور غار میں چھپے ڈاکو ان کے ساتھ قاسم والا ہی حال کرتے ہیں یعنی کمانے آئے تھے اب جان بھی دے کر جاٶ۔ خیر جیسا ہم نے کہا یہ خبر کا اگلا حصہ کہ انڈیکس نفسیاتی حد سے نیچے آ گیا ہضم نہیں ہوا کیونکہ ہم لوگوں کی نقصان یا گھاٹا اٹھانے کی تو کوئی ذہنی یا نفسیاتی حد ہے ہی نہیں پھر آخر یہ کون سی نفسیاتی حد ہے جس سے انڈیکس نیچے آ گیا اگر کسی کو معلوم ہو تو براہ مہربانی اخبار میں چھپوا کر ہمیں مطلع ضرور کر دیں اور حکومت سے اپیل ہے کہ خدارا کچھ تو توجہ آئی ایم ایف کے حکم ناموں سے ہٹ کر کاروبار کے روزبروز بڑھتے گھاٹوں کی روک تھام پر بھی دے۔ آج تک خبریں تو بہت سنی لیکن یہ تیسری خبر جو یہاں تحریر کی جا رہی ہے خبروں کی ماں ہے جسے پڑھنے والا بے شک افسردہ تو ضرور ہو گا لیکن اسے یہ خبر سن کر بالکل ویسے ہی محسوس ہو گا جیسے کوئی سوڈے کی بوتل کالی مرچیں ڈال کر ایک ہی سانس میں چڑھا جائے۔پہلے تو اس کی آنکھوںسے آنسو نکلیں گے اور پھر ڈکاریں کچھ مختلف کیفیت پیدا کردیں گی یہ خبر وضاحت کے ساتھ سمجھانے کےلئے ہم نے بجائے مخفف زبان میں لکھنے کے اسے سلیس کردیا ہے اور وہ خبر یوں ہے کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ جنہوں نے اس ملک کو اس لئے بنایا تھا کہ اس ملک پاکستان میں مسلمان امن و سکون کے ساتھ رہ سکیں اس جناح کے نام پر اسی ملک پاکستان کے ایک مرکزی ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں پولیس مقابلہ‘ ایمرجنسی وارڈ وہ وارڈ جس میں پہلے نیم زندہ لوگ زیرعلاج ہوتے ہیں سونے پر سہاگہ کہ اس وارڈ میں حفاظت کرنے والے اہلکار ہلاک‘ مارنے والے محفوظ اور سب سے اعلیٰ جملہ یہ کہ جس وارڈ میں لوگ جانیں بچانے کی خاطر جاتے ہیں اس ایمرجنسی وارڈ سے لوگ جانیں بچانے کی خاطر بھاگ نکلے۔ ویسے ایسی خبریں سننے کے بعد تو یہی دل کرتا ہے کہ ہم خود پیسے بھر کر ٹیلی ویژن پر ایک تقریر کریں اور عوام سے گزارش کریں کہ اب پاکستان کا ہر شخص 1947ء والی قربانیاں دینے کےلئے تیار ہو کر ہر جگہ کی حفاظت خود کرنا شروع کر دے کیونکہ ہمیں یہ کہتے ہوئے عار نہیں کہ حکومت اب فیل ہو چکی ہے کیونکہ جس ملک میں حفاظت کرنے والے اپنے ساتھ محافظ لےکر چلیں گے تو پھر عوام کی حفاظت کون کرے گا۔ بس ایسے محافظوں کےلئے ہم ایک ہی جملہ استعمال کرنا چاہیں کہ ’’چلو بھر پانی میں ڈوب مرو‘‘ لیکن اب تو حکومتی اقدامات کو دیکھ کر یہ بھی احساس ہوتا ہے کہ کیا پتہ آنے والے دنوں میں اسی ملک میں چلو بھر پانی بھی ملے گا یا نہیں۔
(نوٹ:7جون 2010 کو نواۓ وقت ملتان میں شاۓ ھوا )مستقل نام کالم “ادھر ادھر کی
![]()
زمرہ متفرق کے تحت شائع ہوا | تبصرہ میں پہل کیجیے »
روحانی علاج
مصنف قیصر خان پتافی بتاریخ 5 جون 2010 – 3:28 پی ایم ۔
(خطوط اور جوابات)
پہلا خط:
eمحترم جناب مولوی قیصر صاحب السلام علیکم! عرض ہے کہ میرے شوہر کچھ عرصہ سے ایک عجیب مرض میں مبتلا ہیں۔ وہ رات کے وقت کمرے کا ایئرکنڈیشنر آن کر کے خود باہر جا سوتے ہیں۔ آپ سوچ رہے ہونگے کہ ہمارے لئے آن کر دیتے ہونگے لیکن خود انہیں باہر سونا پسند ہو گا اس لئے وہ باہر سو جاتے ہونگے۔ لیکن معاملہ کچھ اتنا سیدھا نہیں۔ دراصل گھر میں ریٹائرمنٹ کے بعد صرف میں یعنی ان کی بیوی اور وہ خود ہوتے ہیں۔ ہمارے بچے اب بڑے ہو گئے ہیں اور ملک سے باہر رہتے ہیں مگر میرے شوہر گھر کے تمام ایئرکنڈیشنر چلا دیتے ہیں اور خود باہر جا سوتے ہیں۔ برائے مہربانی اس بیماری کا علاج تجویز کریں۔
بیگم عنایت اسلام آباد
جواب: بی بی یہ مسئلہ کوئی اتنا سنگین نہیں۔ آپ کے خط سے جو معلومات حاصل ہوئیں اس سے لگتا ہے کہ آپ کے شوہر سرکاری ملازم رہ چکے ہیں اور ضرور کسی اچھے عہدے سے ریٹائر ہوئے ہونگے۔ کیونکہ آپ یہ خط اسلام آباد سے لکھ رہی ہیں۔ میرا تجزیہ یہ کہتا ہے کہ آپ کے شوہر عنایت صاحب نے قدرت کی عنایتوں پر انحصار کرنے کی بجائے خود ہی ان نعمتوں کا زبردستی حصول جاری رکھا۔ یعنی رشوت کی صورت میں اور اب چونکہ آپکے بچے خود مختار ہو کر آپ کو چھوڑ گئے ہیں تو آپ کے شوہر اس حرام کی کمائی کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں۔ اسی لئے وہ اپنی اصل حیثیت کے مطابق خود باہر سوتے ہیں لیکن ایئرکنڈیشنر آن کر کے سوتے ہیں تاکہ بجلی کا بل آتا رہے اور وہ رشوت کی رقم جو سرکار کے حق پر ڈاکہ کی صورت میں عنایت صاحب کماتے رہے ہیں وہ بلوں کی صورت میں اور اس بل پر ٹیکس کی صورت میں وہ دولت واپس کر دیں۔ یہ ایک اچھا طریقہ ہے جسے یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ یعنی عزت بھی خراب نہ ہو اور دولت حکومت کو واپس لوٹا دی جائے۔ پھر تو یہ کرنا آسان ہو گا۔ میرا آپ کو مشورہ ہے کہ انہیں ایسا کرنے سے نہ روکیں لیکن اگر آپ پھر بھی چاہتی ہیں کہ یہ ایسا کرنے سے باز رہیں تو پھر میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ روزانہ سونے سے پہلے ایک سو کا نوٹ عنایت صاحب کے ہاتھ پر رکھ کر انکی ’’مٹھی گرم‘‘ کر دیا کریں اور بدلہ میں انہیں یہ کام کرنے کو کہیں کہ آج رات کو ایئرکنڈیشنر نہ چلائیں۔ آپ دیکھیں گی کہ وہ یہ ’’نذرانہ‘‘ قبول کر کے ایئرکنڈیشنر بند کر کے سوئیں گے کیونکہ ایک بار رشوت لینے کی عادت پڑ جائے تو چھوٹنا محال ہوتی ہے۔ لیکن یہ کام کرنے کے بعد آپ استغفار کی تسبیح سارا دن پڑھتے رہا کریں تاکہ آپ کے رشوت دینے اور ان کے لینے کے گناہوں میں کمی آ سکے اور اس دولت سے غریبوں کو کھانا کھلانا نہ بھولیں۔
دوسرا خط:
محترم مولوی قیصر صاحب! سلام کے بعد عرض ہے کہ میں پیپلز پارٹی کا ایک ادنیٰ سا کارکن ہوں۔ ساری زندگی پارٹی کی خدمت کرتا آیا ہوں۔ پڑھا لکھا بھی ہوں۔ میں نے ایم اے اردو کیا ہوا ہے لیکن آج تک پیپلز پارٹی نے مجھے الیکشن لڑنے کی ٹکٹ نہیں دی اور نہ یہ کوئی اور مفاد ملا۔ آج تک مجھ سے خدمت ہی خدمت لی جا رہی ہے لیکن جمشید دستی جو ایک جعلی ڈگری کے ساتھ الیکشن لڑے تھے کو اس بار دوبارہ پارٹی نے ٹکٹ دے دیا بلکہ وزیراعظم خود ان کی انتخابی مہم میں شریک ہوئے اور یہ دعویٰ کیا کہ جمشید دستی کو ٹکٹ دے کر پیپلز پارٹی نے یہ ثابت کر دیا کہ پیپلز پارٹی وڈیروں کی پارٹی نہیں بلکہ عام آدمی کی جماعت ہے اسی لئے جمشید دستی جیسے عام آدمی کو ٹکٹ دیا گیا۔ مولوی صاحب یہ بات مجھ کو بہت بے چین کئے ہوئے ہے کہ مجھ جیسے سیدھے صاف اور محنتی آدمی کو تو پارٹی ٹکٹ نہیں دیتی لیکن جمشید دستی جو نہ صرف جعلی ڈگری رکھتا ہے بلکہ اس پر کئی ایف آئی آر بھی کٹی ہوئی ہیں کو پیپلز پارٹی نے عام آدمی کہہ کر ٹکٹ دے دیا۔ مولوی صاحب آخر ایسا کیوں ہے۔ برائے مہربانی جواب دے کر میری الجھن حل کریں۔ شکریہ
غلام رازق مظفرگڑھ
‘ جواب: بیٹا آپ نے جو سوال مجھ سے کئے ہیں۔ بہتر ہوتا کہ ان کے جواب آپ پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے پوچھتے۔ لیکن آپ کی بے چینی کو مدنظر رکھتے ہوئے میں اپنی سمجھ کے مطابق جواب بھی لکھ رہا ہوں اور علاج بھی۔ آپ نے جو جمشید دستی کو ٹکٹ دینے کی بات کی اور اس کے مقابلہ میں آپ کو ٹکٹ نہ ملنے کی بات کی تو اس کا جواب بڑا سادہ اور آسان ہے۔ اگر آپ نے وزیراعظم کی گجرات میں کی گئی حالیہ تقریر غور سے سنی ہوتی تو آپ کو اس میں اپنے سوال کا جواب مل گیا ہوتا۔ اس تقریر میں محترم وزیراعظم یوسف رضا گیلانی صاحب نے فرمایا تھاکہ وہ یتیم ہیں۔ جس کے ماں باپ نہیں بلکہ یتیم وہ ہے جو پڑھا لکھا نہیں۔ تو چونکہ جمشید دستی پڑھے لکھے نہیں اس لئے وزیراعظم کے کہنے کے مطابق وہ یتیم ہیں اور یتیموں کا خیال رکھنے کی تو ہمارا مذہب بھی تاکید کرتا ہے۔ بس شاید اسی لئے آپ پر جمشید دستی صاحب کو ترجیح دی گئی ہے۔ آپ بھی صبر سے کام لیں کیونکہ اب آپ پڑھ لکھ گئے ہیں اس لئے اب آپ یتیم تو نہیں بن سکتے لیکن آپ ناامید نہ ہوں اور آپ اپنے نام کے اندر موجود اللہ پاک کے نام ’’یارزاق‘‘ کا ورد کثرت سے کیا کریں اور اللہ پاک سے اچھی امید رکھیں کہ اللہ پاک آپ کے رزق میں اضافہ فرمائے اور آپ جلد دولت مند بن جائیں گے اور پھر آپ کی پہچان بھی وڈیروں میں ہو گی اور تب پیپلز پارٹی آپ کو وڈیروں کی کیٹیگری والی ٹکٹ ضرور دے گی۔
تیسرا خط:
محترم جناب مولوی قیصر صاحب! آپ کی خدمت میں آداب بجا لاتی ہوں۔ عرض ہے کے میرے والد صاحب کچھ عجیب بیماری میں مبتلا ہو گئے ہیں وہ سرکاری ملازمت کے بعد سیاستدان بن گئے ہیں اور اب ماشاء اللہ ہر دور میں ایم این اے بن جاتے ہیں اور حالات کے مطابق سیاسی جماعتیں تبدیل کرتے رہتے ہیں لیکن اس دفعہ چونکہ پی پی پی کا سورج چڑھتا نظر آتا تھا تو وہ بروقت پی پی میں شامل ہوگئے تھے اور اب بھی وہ ایک علیٰ عہدہ پر فائزر ہیں لیکن جب بھی وہ پیپلز پارٹی کی میٹنگ یا جلسہ کو اٹینڈ کرنے گئے اور وہاں نعرے بازی کے وقت جب نعرے لگے کہ زندہ ہے بھٹو زندہ ہے تو یہ نعرے سن کر میرے والد وہاں سے بھاگ آتے ہیں جس پر پیپلز پارٹی کے ممبران کو سخت اعتراض ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اس رات کو سوتے وقت وہ زور زور سے یہ چیختے ہوئے جاگ جاتے ہیں ’’کیسے‘‘ ’’آ’خر کیسے‘‘ چونکہ اس بیماری کا کوئی طبی علاج ہمیں نہیں مل سکا اس لئے برائے مہربانی روحانی علاج بتا کر ثواب دارین حاصل کریں۔ شکریہ
بختاور راولپنڈی
جواب: بیٹا آپ کے خط میں معلومات ادھوری محسوس ہو رہی ہیں۔ آپ کو بتانا چاہیے تھا کہ آپ کے والد ایم این اے بننے سے پہلے کس ملازمت سے منسلک تھے بظاہر تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ آپ کے والد یا تو تارہ مسیح ہیں یا پھر جنرل ضیاء الحق کے قریبی ساتھیوں میں سے۔ اسی لئے وہ جب بھی یہ نعرہ سنتے ہیں کہ ’’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے‘‘ تو وہ یہ سمجھ کر شاید بھٹو صاحب واقعی زندہ ہیں اور کہیں سے آ نا جائیں تو وہاں سے نو دو گیارہ ہو جاتے ہیں اور اسی خوف کے اثر سے وہ نیند میں یہ سوال کرتے ہیں کہ ’’کیسے‘‘ یعنی یہ کیونکر ممکن ہے کہ بھٹو صاحب زندہ ہوں کیونکہ ان کے سامنے شاید بھٹو صاحب کو رخصت کیا گیا ہو گا۔ اب آپ ایسے کریں کہ والد صاحب کو یہ تفصیل بتائیں کہ بھٹو صاحب کے لئے یہ نعرے محض کارکنوں میں جوش پیدا کرنے کے لئے لگائے جاتے ہیں کہ بھٹو صاحب پیپلز پارٹی والوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ اس لئے ان نعروں کو حقیقت نہ سمجھیں اس کے علاوہ والد صاحب کو کہیں کہ پانچ وقت کی نماز ادا کیا کریں اور استغفار کثرت سے کیا کریں اور اگر پھر بھی گھبراہٹ نہ جائے تو تیراکی میں استعمال ہونے والے پلاسٹک کے کان بند کرنے والے پرزے جیب میں رکھا کریں اور جب یہ نعرہ لگنے لگے تو کان فوراً بند کر لیا کریں
(نوٹ:5جون 2010 کو نواۓ وقت ملتان میں شاۓ ھوا )مستقل نام کالم “ادھر ادھر کی
![]()
زمرہ متفرق کے تحت شائع ہوا | تبصرہ میں پہل کیجیے »
’’خر‘‘ فارمولا
مصنف قیصر خان پتافی بتاریخ 2 جون 2010 – 5:22 پی ایم ۔
’’خر‘‘ ایک ایسا جاندار ہے جسے انتھک جاندار کہنا غلط نہ ہو گا۔ ہمارے معاشرے میں اس جانور سے طرح طرح کی بیگار لی جاتی ہے۔ کوئی اس جاندار کو ریڑھی میں جوت کر منوں وزن اس پر لاد کر جگہ جگہ لے جاتا ہے۔ نہ گرمیوں میں اور نہ سردیوں کی راتوں میں اس بیچارے جاندار کو کوئی رعایت ملتی ہے اور اس جانوروں کو خوراک میں سوکھی گھاس کھلائی جاتی ہے اور یہ معصوم جاندار نہ تو اس مشقت سے انکاری ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی دہائی دیتاہے۔ اس کی وضاحت اس لئے ضروری تھی کہ ہمیں اس مضمون میں آگے جا کر اس جاندار کی مثال سے وضاحت کرنا ہے اور وہاں اس مثال سے کوئی غلط مطلب نہ نکالا جا سکے چانچہ آغاز میں ہی یہ وضاحت ضروری تھی۔
چند روز قبل مصطفی کھر صاحب کو ٹیلی ویژن پر ایک انٹرویو پروگرام میں دیکھا۔ اس پروگرام میں انٹرویو لینے والے اور مدمقابل بیٹھے ہوئے دوسرے مہمان نے کھر صاحب سے بحث کر کے وہ حالت کر دی کہ اس پروگرام کو دیکھنے والوں کا خون کھول اٹھا لیکن کمال ہمت ہے مصطفیٰ کھر صاحب کی کہ ان کے سر پر جوں تک نہ رینگی اور وہ پرسکون بیٹھے رہے۔ یہ دیکھ کر ہمیں یقین ہو گیا کہ کھر صاحب طبعی‘ جسمانی و ذہنی طور پر اتنے قومی ہو چکے ہیں کہ اب اگر انہیں خلا کے سفر پر
بھی روانہ کر دیا جائے تو نہ صرف وہ بخیر و عافیت ہو آئیں گے بلکہ انہیں اس سفر پر جانے کے لئے خلا بازوں کی طرح تیاریاں بھی کرنے کی ضرورت نہ ہو گی۔ لیکن یہ سب تو اپنی جگہ پر ہمارے ذہن کو یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ بالآخر کھر صاحب کو یہ باکمال ہمت کہاں سے حاصل ہوئی۔ مگر یہ راز ہم پر تب کھلا جب ہم نے فاطمہ بھٹو صاحبہ کی کتاب Songs of Blood and swrd (خون اور تلوار کے گیت) کا مطالعہ کیا۔ اس کتاب میں فاطمہ بھٹو لکھتی ہیں کہ جب ذوالفقار علی بھٹو جیل میں تھے تو فاطمہ بھٹو کے والد مرتضی بھٹو جو ذوالفقار علی بھٹو کے بیٹے تھے نے مصطفی کھر صاحب کے ساتھ مل کر ایک جدوجہد شروع کی جس میں اندرون و بیرون ملک بارسوخ شخصیات سے رابطے کئے جاتے تاکہ ذوالفقار علی بھٹو کو رہائی دلوائی جا سکے۔ اس جدوجہد کے دوران مرتضی بھٹو اور مصطفی کھر اکثر اوقات اکٹھے ہوتے تھے۔ اسی دوران مصطفی کھر کی ایک ایسی عادت کا انکشاف ہوا جس سے مرتضی بھٹو کو بہت چڑ تھی اور یہ عادت کچھ یوں تھی کہ مصطفی کھر صبح کے وقت نصف گھنٹہ یوگا کرتے تھے
jلیکن چونکہ مصطفی کھر صاحب یہ ورزش برہنہ حالت میں کرتے تھے اس لئے مرتضی بھٹو صاحب کو وہ وقت ہوٹل کے کمرے سے باہر گزارنا پڑتا تھا۔ ایک روز جب کھر صاحب نے مرتضی بھٹو کو کمرے سے باہر جانے کی گزارش کی تو روزانہ کی طرح یہ ہدایت بھی کی کہ ہوٹل کے کمرے کے باہر وہ (TAG) پترا لگائے جائیں جس میں یہ ہدایت درج ہوتی ہے کہ ’’کوئی تنگ نہ کرے‘‘ یہ پترا اس لئے لگایا جاتا ہے کہ ہوٹل کا سٹاف یا کوئی اور دروازے پر دستک تک نہ دے تاکہ اندر موجود فرد کے آرام میں خلل نہ ہو۔ لیکن فاطمہ بھٹو لکھتی ہیں کہ میرے والد مرتضی بھٹو چونکہ کھر صاحب کی روز روز کی اس عادت سے تنگ آ چکے تھے تو انہوں
نے بجائے ’’تنگ نہ کرے‘‘ کے پترے کی جگہ وہ پترا لگا دیا جس میں یہ ہدایت لکھی تھی کہ ’’میرا کمرہ تیار کریں‘‘ جس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہوٹل کی انتظامیہ بلااجازت اس کمرہ میں داخل ہو کر صفائی وغیرہ کر سکتی ہے۔ چنانچہ ہوٹل کی انتظامیہ نے جب صفائی کی ہدایت والا پترا کھر صاحب کے کمرے کے باہر لٹکا دیکھا تو انتظامیہ کی ایک خاتون صفائی کی غرض سے اس کمرے میں بلااجازت اندر داخل ہوئی لیکن وہ خاتون کھر صاحب کو یوگا کرتے دیکھ کر الٹے پاٶں واپس بھاگ گئی اور بقول اس خاتون کے کھر صاحب اس خطرناک چوپائے کی طرح کھڑے تھے جو نہ صرف چھوٹا ہوتا ہے اور اس کا نام لکھنے کی ہمت ہم تو نہیں کر سکتے کیونکہ انگریزی میں تو وہ نام درست جانا جاتا ہے کیونکہ انگریز اس چوپائے سے بہت مانوس ہوتے ہیں لیکن اردو میں اس کا نام کچھ اچھا نہیں جانا جاتا اور دوسری وجہ یہ ہے کہ ہم اس لئے بھی اس جاندار کا نام نہیں لکھ رہے کیونکہ کھر صاحب تو ایک بہت بڑی شخصیت ہیں اور وہ جاندار بہت چھوٹا ہوتا ہے۔ مختصراً یہ کہ ہم مشابہت کے لئے کچھ یوں لکھ دیتے ہیں کہ کھر صاحب کچھ یوں کھڑے تھے جیسے معصوم جاندار ’’خر‘‘ کھڑا ہوتا ہے۔ یہ لکھنے کی ہمت ہم نے اس لئے کی کیونکہ ’’خر‘‘ نہ صرف بڑا جاندار ہوتا ہے اور اس کے ٹھہرنے کا طریقہ اور اس چوپائے کے ٹھہرنے کا طریقہ بالکل ایسا جیسا ہوتا ہے اور ہم پہلے آغاز میں بھی وضاحت کر چکے ہیں کہ یہ کس قدر باہمت جاندار ہے۔ خیر اس ساری تمہید کا مقصد یہ تھا کہ کھر صاحب کی اس ہمت کاجو ہم آج تک دیکھ رہے ہیں اس سب کا راز یہی ہے کہ وہ’’خر‘‘ کی طرح کھڑا ہو کر لباس فطرت میں صبح نصف گھنٹہ یوگا کرتے ہیں۔ ایسا یوگا کرنے سے کھر صاحب کے دل و دماغ بہت مضبوط ہو چکے ہیں۔ اتنے مضبوط کہ ہار جیت کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا اور اب کوئی ان کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔ لیکن ہماری پاکستانی عوام ہے کہ بے چارے ’’خر‘‘ کی طرح محنت کئے جا رہی ہے اور جو حکومت بھی آتی ہے اس عوام کو اپنی گاڑی میں جوت لیتی ہے اور یہ مظلوم عوام کوئی دہائی بھی نہیں دیتی اور ہر ظلم برداشت کئے جا رہی ہے لیکن جب سے ہمیں کھر صاحب کی ان عادات کا پتہ چلا ہے تو ہم نے سوچا کہ عوام کی خاطر یہ فارمولا لکھ ڈالیں کہ بجائے اس معصوم جاندار ’’خر‘‘ کے نقشِ قدم پر چلنے کے ’’کھر صاحب‘‘ سے کچھ سیکھیں اور صبح کے وقت آدھا گھنٹہ ’’خر‘‘ کی طرح کھڑا ہو کر یوگا کیا کریں تاکہ ہم عوام میں بھی کھر صاحب والی ہمت آ جائے۔
(نوٹ:1جون 2010 کو نواۓ وقت ملتان میں شاۓ ھوا )مستقل نام کالم “ادھر ادھر کی
![]()
زمرہ متفرق کے تحت شائع ہوا | تبصرہ میں پہل کیجیے »
ایک نمونے کی بجٹ تقریر
مصنف قیصر خان پتافی بتاریخ 2 جون 2010 – 5:18 پی ایم ۔
جناب سپیکر! مجھے آج بجٹ پیش کرتے ہوئے بہت خوشی اور فخر محسوس ہو رہا ہے کیونکہ ہم وہ حکومت ہیں جس نے بجٹ کے مقررہ عرصہ سے پہلے ہی بجٹ پیش کر دیا ہے۔ جناب عالی! یہ وہہ کارنامہ ے جو آج تک کی کوئی حکومت نہیں کر سکی۔ بے شک اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے پاس پچھلا بجٹ ختم ہو گیا ہے کیونکہ ہم نے وہ بجٹ آتے ہی خرچ کر ڈالا اور اب ہم چاہتے ہیں کہ بجٹ جلد پیش کر کے ہم خرچ کرنے کے لئے رقم جلد حاصل کر لیں۔ جناب عالی! ہماری خواہش ہے کہ ہم ہر سال بجٹ کا عرصہ کم کرتے جائیں اور یہ بجٹ اتنی تیزی میں بننے لگے کہ ہر مہینے ہم نیا بجٹ پیش کر سکیں تاکہ ہر ماہ نئے ٹیکس لگائے جا سکیں۔ جناب عالی! اب میں بجٹ میں پیش کئے جانے والے منصوبے بتانے جا رہا ہوں۔ جناب عالی! مجھے آج یہ بتاتے ہوئے اتنی خوشی ہو رہی ہے کہ ہم نے بہت سارے ٹیکس ختم کر دئے ہیں اور صرف چند فیصد ٹیکس میں اضافہ کیا گیا ہے۔ جناب عالی! قبل اس کے کہ میں آپ کو ان ٹیکسوں کی تفصیل سے آگاہ کروں۔ میں آپ کو وفاقی حکومت کی اس حیرت انگیز سکیم کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں جس کو پنجاب کی صوبائی حکومت کی دو روپے روٹی کے مقابلے میں ہماری وفاقی حکومت نے شروع کرنے کا پروگرام تشکیل دیا ہے۔ جناب عالی! اس پر ہمارے کل بجٹ کا پچاس فیصد خرچ ہو گا لیکن ہمیں عوام کی بھلائی زیادہ عزیز ہے اس لئے ہمیں اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ آدھا بجٹ اس سکیم میں خرچ کیا جا رہا ہے۔ جناب عالی! اس سکیم کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ پنجاب کی صوبائی حکومت دو روپے میں کاغذ کی طرح پتلی روٹی تو ضرور دیتی ہے لیکن اس روٹی کے ساتھ سالن نہیں دیتی۔ ہم نے اس روٹی کے ساتھ عوام کی خاطر ایک روپے میں چپل کباب دینے کا پروگرام بنایا ہے جس میں چپل عوام کے لئے اور کباب ایم این اے‘ ایم پی اے اور وزیروں کے لئے ہو گا جو وہ صرف ایک روپے میں دو روپے روٹی کے ساتھ کھا سکتے ہیں۔ جناب عالی! اب میں آپ کو ٹیکسوں کی تفصیل سے آگاہ کرتا ہوں۔ جناب عالی! آپ کو یہ سن کر بہت حیرت ہو گی کہ ہم نے گرمی کی شدت دیکھتے ہوئے تمام قسم کے مشروبات کی بوتلوں پر سے سو فیصد ٹیکس ختم کر دیا ہے۔
_
جناب عالی! اس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ یہ سو فیصد ٹیکس مشروبات کی خالی بوتلوں پر سے ختم کیا گیا ہے اور بھری ہوئی بوتلوں کے ٹیکس میں صرف اور صرف چالیس فیصد اضافہ کیا گیا ہے اس کے علاوہ جناب عالی! ہم عوام کی ٹرانسپورٹ کی مشکلات سے بہت آگاہی رکھتے ہیں اس لئے جناب عالی! ہم نے ٹرانسپورٹ کی مد میں صرف اور صرف دو طبقوں کے ٹیکس میں اضافہ کیا ہے اور غریب لوگوں پر ایک پیسہ ٹیکس نہیں لگایا۔ اس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ چونکہ جہازوں میں امیر دولت مند افراد سوار ہوتے ہیں اس لئے ہوائی سفر کے کرایوں کی مد پر موجودہ ٹیکسوں میں سو فیصد اضافہ کیا گیا ہے اور دولت مند کلاس کے خاتمہ کے لئے یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ پی آئی اے نئے جہاز نہیں خریدے گی۔ پرانے جہاز اس حالت تک پہنچ چکے ہیں کہ جب بھی کسی ایک جہاز کا خاتمہ ہوا تو تین چار سو دولت مندوں کا بھی ان کے ساتھ خاتمہ ہو جائے گا۔ جناب عالی! اس اضافی ٹیکس کی رقم سے غریب عوام کے نمائندوں کے لئے نئے جہاز خریدے جائیں گے تاکہ ان کی جانیں محفوظ رہ سکیں۔ جناب عالی! اس اقدام سے آپ خود ہی اندازہ لگا لیں کہ ہماری حکومت کو غریب عوام کا کتنا خیال ہے اور اسی خاطر ہم نے غریب عوام کے نمائندوں کو دولت مند لوگوں پر ترجیح دی ہے۔ جناب عالی! اس کے علاوہ ہم نے مڈل کلاس کی ٹرانسپورٹ یعنی ٹرین‘ بس کے کرایوں پر صرف پچاس فیصد ٹیکس لاگو کیا ہے اس رقم سے بھی عوامی خدمت کی جائے گی اور عوام کے نمائندوں کے کارندوں کو نوکریوں پر رکھا جائے گا اور اس رقم سے ان کو تنخواہیں دی جائیں گی۔ بے شک وہ کام کریں یا نہ کریں۔
جناب عالی! اب میں اپنی حکومت کے اس کارنامے کا ذکر کرنا چاہوں گا کہ جسے سننے کے لئے غریب عوام بے کار ہے اور وہ یہ کہ غریب کی سواری پر کوئی ٹیکس لاگو نہیں ہو گا یعنی سائیکل‘ ٹانگہ‘ کھوتا گاڑی وغیرہ۔ جناب عالی! اس کے علاوہ سرکاری و فوجی اہلکاروں کی تنخواہوں میں پچاس فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے جبکہ ان پر صرف دو قسم کے ٹیکس لگائے جا رہے ہیں جو دونوں صرف تیس تیس فیصد ان کی کل تنخواہوں پر ہوں گے جبکہ جناب عالی! پھر سے غریب عوام کا خیال اور ہمدردی ذہن میں رکھتے ہوئے ہم نے غریب عوام کے نمائندے ایم این ایز‘ ایم پی ایز اور وزراء کی تنخواہوں میں دو سو فیصد اضافہ کر دیا ہے اور ان پر ٹیکس بالکل نہیں لگایا گیا۔
جناب عالی! آج کے بعد ہم نے پاکستان کی ہونہار پولیس اور پٹواری اور تحصیلداروں کی کمائی دیکھتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کو یہ حکم جاری کرتی ہے کہ ان لوگوں کو تنخواہیں دینا بند کر دیں بلکہ ان کو جتنی تنخواہ پہلے دی جا رہی ہے اس سے دوگنا رقم ہر ماہ ان سے وصول کر کے ایک حصہ خود صوبائی حکومت اور ایک حصہ وفاقی حکومت کو دینا شروع کرے جس رقم سے بھی غریب عوام کے نمائندوں کے پیٹ بھرنے کی کوشش کی جائے گی۔ جناب عالی! آپ خود ہی دیکھیں کہ ہمیں غریب عوام کی کتنی فکر ہے کہ ہم نے جب یہ دیکھا کہ غریب عوام بجلی‘ گیس کے بل ادا کرنے سے قاصر ہوتی جا رہی ہے تب سے ہم نے بارہ بارہ گھنٹے لوڈشیڈنگ کر کے غریب عوام کے بلوں میں پچاس فیصد کمی کر دی۔ اسی طرح جناب عالی! ہم آئی ایم ایف کے حکم کی بدولت مجبور ہو کر بجلی اور گیس کے نرخوں میں صرف تیس فیصد اضافہ کر رہے ہیں لیکن اس اقدام سے عوام کو گھبرانے کی بالکل ضرورت نہیں۔ ہم لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھا کر اٹھارہ گھنٹے کر دیں گے جس سے ان کے آنے والے بلوں کی رقم میں پچاس فیصد اور بچت ہو جائے گی جو پہلے بارہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کے علاوہ ہو گی۔ اس طرح انہیں اس تیس فیصد اضافہ کا پتہ بھی نہیں چلے گا۔
جناب عالی! اب میں اپنی تقریر کا اختتام کرتا ہوں کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ غریب عوام کے نمائندوں کا وقت بہت قیمتی ہے اور ان نمائندوں نے بھی اپنا ذاتی بجٹ عوام کو پیش کرنا ہو گا اس لئے بقیہ بجٹ تحریر کی صورت میں آپ کی میزوں پر رکھ دیا گیا ہے تاکہ آپ اسے پڑھ لیں اور عوام کو آہستہ آہستہ آگاہ کر دیں تاکہ عوام یکدم پریشان نہ ہو جائے۔
(نوٹ:29مئ 2010 کو نواۓ وقت ملتان میں شاۓ ھوا )مستقل نام کالم “ادھر ادھر کی
![]()
٭٭٭٭٭٭
زمرہ متفرق کے تحت شائع ہوا | تبصرہ میں پہل کیجیے »
