تھوڑی سی تو لفٹ کرا دے
مصنف قیصر خان پتافی بتاریخ 30 ستمبر 2009 – 4:19 پی ایم ۔
جب یہ سیاستدان عوام کے فلاحی کاموں میں سے چند ایک بجا لاتے ہیں جو کہ درحقیقت ان کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے اور پھر ان ادنیٰ کاوشوں پر گھمنڈ کرتے ہیں کہ یہ ہمارا اور ہماری حکومت کا کارنامہ ہے تو نہ جانے کیوں ایسا کہنے اور جتانے والوں کو شرم محسوس نہیں ہوتی۔ حالانکہ ہم سننے اور دیکھنے والے شرم سے پانی پانی ہو جاتے ہیں۔ یہ تو ایسے ہی ہے کہ کسی گھر کا ملازم باورچی گھر کے مالکوں کو جب روٹی پکا کر دے تو یہ دعویٰ کرنا شروع کر دے کہ یہ روٹی جو آپ کھا رہے ہیں یہ میرا کارنامہ ہے اور اس کے لئے آپ لوگوں کو میرا مشکور ہونا چاہئے۔ اب بھلا کوئی اس سے پوچھے کہ تو ایک تنخواہ دار باورچی‘ راشن پانی مالکوں کا تو پھر تیری کیا مجال کہ تو ڈینگیں ہانکے۔
لگتا کچھ یوں ہے کہ ہمارے سیاستدانوں کے ذہنوں میں کچھ احساس محرومی ہے کہ شاید انہیں اپنی زندگی میں کسی نے عزت نہیں دی اس لئے احساس محرومی کو پست کرنے کی خاطر یہ لوگ عوام کے ٹیکسوں کی رقم جب عوام پر خرچ کرتے ہیں تو اپنے دماغ کی خلش کو پورا کرنے کے لئے بلندوبانگ دعوے کرتے ہیں کہ یہ ہمارا اور ہماری حکومت کا کارنامہ ہے اور آٹے کا تھیلا یا معمولی رقوم عوام میں تقسیم کرتے وقت اپنا فوٹو کھنچواتے ہیں اور میڈیا پر نشر کرواتے ہیں ورنہ یہ سیاستدان تو خود غریب عوام کے ٹیکسوں کی رقم سے ماہانہ تنخواہ وصول کرتے ہیں اس لئے ان کا یہ حق نہیں کہ وہ ایسے دعوے کر سکیں یا پھر اپنی تشہیر کر کے سرخرو ہونے کی کوشش کریں۔ مجھے ان بے چارے سیاستدانوں کے اس احساس محرومی کا بہت شدت سے احساس ہے کیونکہ ان لوگوں کو اپنے منہ میاں مٹھو اس لئے بننا پڑتا ہے کیونکہ کوئی میڈیا یا کالم نگار ان کی شان میں خود قصیدہ نہیں لکھتا یا دکھاتا۔
تو میں نے آج فیصلہ کیا کہ جس طرح کے کارناموں پر یہ لوگ گھمنڈ کرتے ہیں میں ذرا ان کی شان میں خود ہی قصیدہ لکھ دوں شاید ان کا یہ احساس محرومی کچھ مٹ سکے تو چلیں شروع کرتے ہیں۔
(1 اس سال بارشیں خوب ہوئی ہیں جس کی بدولت پانی میں قلت ہونے کا کوئی اندیشہ نہیں یہ اس حکومت کا بہت بڑا کارنامہ ہے۔ ہاں یہ بتانا تو بھول گیا کہ چونکہ پانی کا مسئلہ وفاقی حکومت سنبھالتی ہے اس لئے اس کا سارا کریڈٹ وفاقی حکومت کو جاتا ہے۔
(2 سنا ہے اس سال سیلاب آنے کی وجہ سے ضلع مظفرگڑھ کی ایک بستی کے بہہ جانے والے گھروں میں سے ایک گھر کے پانچ افراد زندہ بچ گئے کیونکہ انہوں نے ایک ایسے درخت کو پکڑ کر اپنی جان بچائی جو درخت نواز شریف صاحب کے دور حکومت میں وزیراعلیٰ وائیں صاحب کی پودا لگائو مہم کے تحت کاشت کیا گیا تھا اس لئے اس کارنامے پر شاباش کی حقدار ن لیگ کی صوبائی حکومت رہی ہے۔
(3 اس ملک میں غربت کے خاتمہ کے لئے دہشت گردی کی جنگ پاکستان لانے پر جس کی وجہ سے کئی غریب مارے گئے (ظاہری سی بات ہے جب نہ ہو گا غریب نہ رہے گی غربت) میں ایک تو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ذہین ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کو اور ان کا ساتھ دینے پر ق لیگ کی پارٹی بھی اس مبارکباد کی برابر کی حصہ دار ہے۔
اف معلوم نہیں ہمارا پیارا ملک پاکستان کس طرف جا رہا ہے جو ظلم اس ملک میں ہو رہے ہیں ان کو دیکھنے کے بعد شاید کوئی بہت بڑا ظالم ہی ہو گا جس کی آنکھ نم نہ ہو گی اور دل دہل نہ جائے گا۔ مجھے تو اپنے پائوں کے نیچے سے زمین سرکتی نظر آتی ہے جب میں یہ سوچتا ہوں کہ ان مظالم پر اگر اﷲ پاک کی ذات جلال میں آ گئی تو کیا ہو گا۔ کیا کوئی یہ دکھ برداشت کر سکے گا کہ ایک ضعیف العمر شخص آٹے کے حصول میں کوشاں ہونے کی بنا پر کسی نوجوان ہٹے کٹے پولیس والے کے ہاتھوں مار کھائے یا پھر آٹا تقسیم کرنے والا ملازم ایک غریب عورت کے سر پر وزنی چمچ دے مارے۔ کیا یہ کوئی سہ پائے گا کہ گھر کی عورتیں سستا آٹا لینے اپنے بچوں سمیت جائیں اور سارا دن لائن میں کھڑا رہنے کے بعد ان کی لاشیں گھر پہنچیں۔ آخر سوچنے کی بات ہے کہ وہ معمر شخص جو آٹے کے حصول کی خاطر لائن میں کھڑے کھڑے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا کیا اس معمر آدمی نے اپنی جان دیتے وقت دعائیں دی ہوں گی یا اس کے دل سے آہ نکلی ہو گی اور اگر آہ نکلی ہو گی تو وہ آہ کس کو جا لگے گی کیونکہ آخری خواہش تو پھانسی ملنے سے پہلے قاتلوں کی بھی پوری کی جاتی ہے تو کیا اﷲ پاک اس غریب کی وہ آہ ایسے ہی جانے دیں گے؟۔
مجھ جیسا عام آدمی تو اس ملک کے احوال پر جب بھی نظر دوڑاتا ہے تو کہیں بھی کوئی امید کی کرن نظر نہیں آتی ہم لوگ تو اپنی آنے والی نسل کو فلاح پاتے نہیں دیکھ رہے تو ہم کیسے یہ امید رکھیں کہ ہمارا کل اچھا ہو گا۔ بس اب اگر امید کی کوئی کرن ہے تو وہ صرف اﷲ پاک کی ذات ہی ہے جس نے پہلے بھی معجزانہ طور پر اس ملک کو بنایا اور اب تک اس ملک کی حفاظت بھی کی ورنہ اس ملک کا دشمن تو بہت ہی شاطر اور عیار تھا۔ اﷲ تعالیٰ کی ذات وہ ذات پاک ہے جو کسی پر مہربان ہو تو پھر دنیا کی کوئی طاقت اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ کچھ عرصہ قبل ایسا ہی ایک مشاہدہ عوام کی نظر سے گزرا۔ ہمارے ملک کے نامور موسیقار عدنان سمیع خان کو جب اپنی ازدواجی زندگی میں دراڑ کے بعد بہت سے مسائل کا سامنا ہوا تو انہوں نے بھارت کا رخ کیا اور وہاں جا کر ایک ایسا گانا ریکارڈ کروایا کہ اس کے بعد ان کی جیسے لاٹری ہی نکل آئی ہو اور وہ گانا ایک دعا کی صورت تھا جس میں عدنان سمیع خان نے اﷲ کو مخاطب ہو کر کہا کہ ’’تھوڑی سی تو لفٹ کرا دے…‘‘
اور اﷲ پاک نے ان کی ایسی سنی کہ ہر نعمت ان کو دے دی یہاں تک کہ ان کا وزن جو ان کے لئے وبال جان بن چکا تھا وہ بھی اتار پھینکا چنانچہ آج میرا بھی دل کر رہا ہے کہ میں بھی اﷲ سے یہی کہوں کہ
’’تھوڑی سی تو لفٹ کرا دے…‘‘
پر کیونکہ میں نہ تو کوئی موسیقار ہوں اور نہ ہی شاعر تو میں اﷲ پاک سے جو ہماری واحد امید ہے اس سے دعا کرتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ پڑھنے والے اس پر آمین ضرور کہیں گے۔
’’اے اﷲ پاک تیری ذات پاک ہے اور تو وہ ذات ہے عزت جس کے لائق ہے اے میرے مولا ہم پاکستانیوں کی آج دنیا میں کہیں کوئی عزت نہیں ہم جب کسی دوسرے ملک میں جاتے ہیں تو ہمیں حقیر سمجھا جاتا ہے اور جب کوئی غیر ملکی ہمارے ملک میں آتا ہے تو اس کو ہمارے حکمران ہم پر برتری دیتے ہیں اور یوں ہم اپنے ملک میں بھی حقیر کی حیثیت سے رہتے ہیں۔ اے ہمارے مالک ہم کو تھوڑی لفٹ کرا دے اور ہماری بھی آج کی دنیا میں عزت کروا دے۔
اے ہمارے رب ہر شے پر تیرا غلبہ ہے اور ہر چیز کا تو حاکم ہے اے میرے رب ہم پاکستانیوں کو تونے کیسے غاصب حکمران دے رکھے ہیں جو اس ملک کے تمام وسائل کو اپنے لئے دبائے ہوئے ہیں جو وسائل تونے اس ملک میں ہم عوام کی خاطر پیدا کر رکھے ہیں اے میرے رب اب ان غاصبوں کا تو محاصرہ کر اور ہمیں وہ حاکم دے جو ہم عوام کی فلاح کی فکر رکھتے ہوں اور تیرے عنایت کردہ وسائل کا دروازہ ہم عوام کی خوشحالی کی خاطر کھول دیں۔
اے ہمارے رب اب ہم پاکستانیوں کو امن نصیب فرما۔ دین و دنیا کی دولت سے مالامال کر۔ دل کو چین نصیب فرما۔ ہمیں اچھا مسلمان بنا۔ ایک دوسرے کی قدر کرنا سکھا۔ ہم لوگوں کے دلوں سے ایک دوسرے کی نفرت کو محبت میں بدل دے۔ پس کہ تو اب ہم پاکستانیوں کو اپنی تمام رحمتوں سے نواز دے کہ اب ہم عاجز آچکے ہیں۔ اے ہمارے رب اب ہم کو تو لفٹ کرا دے۔ تھوڑی نہیں بہت سی کرا دے‘‘ (آمین
(نوٹ:17ستمبر 2009 کو نواۓ وقت ملتان میں شاۓ ھوا )مستقل نام کالم “کچھ کھنا ھے
![]()
زمرہ متفرق کے تحت شائع ہوا |

اکتوبر 16th, 2009 at 11:29 اے ایم
This is so interesting.