آج کی باتیں
مصنف قیصر خان پتافی بتاریخ 7 مئی 2010 – 12:31 اے ایم ۔لالو: یار کالو کیا کریں ہم۔ کاروبار کا بٹھا بیٹھ رہا ہے پہلے بجلی کی لوڈشیڈنگ پھر مہنگائی اور اب آٹھ بجے کاروبار بند کرنے کا حکم نامہ۔ آخر زندہ کیسے رہا جائے۔ جب کاروبار نہیں ہو گا تو کمائیں کیسے اور کمائیں گے نہیں تو اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ کیسے بھریں گے اور اگر پیٹ نہیں بھریں گے تو زندہ کیسے رہیں گے؟ ابھی تو میری اپنی بیٹریوں کی دکان ہے میں تو اپنے ان ملازمین کو دیکھ کر ڈرتا ہوں جن کو کام نہ ہونے کی وجہ سے نکال دیا ہے ان کو روزگار کیسے ملے گا اور ان کے بچے کیا کریں گے؟
کالو : یار لالو تم تو ایسے ہی گھبرا گئے ہو۔ عقل استعمال کیا کرو‘ عقل کچھ کچھ مجھ سے سیکھو۔ میری کباڑ کی دکان ہے اور مجھے بھی حکم نامہ جاری ہوا تھا کہ دکان آٹھ بجے بند کرو لیکن جب میں نے سنا کہ بیکری و کھانے پینے کی دکانوں پر یہ پابندی نہیں تو میں نے اپنی کباڑ کی دکان ہی میں ایک کاٶنٹر بیکری کا کھول لیا اور اپنی دکان کا نام ’’کالو کباڑیہ‘‘ سے تبدیل کر کے ’’کالو کباڑیہ اینڈ بیکرز‘‘ رکھ لیا ہے اس طرح بیکری کی آڑ میں میرا کباڑیہ کا کاروبار بھی چل رہا ہے اور بیکری کی اضافی آمدنی بھی ہو رہی ہے اب تم بھی اپنی ’’لالو بیٹری والا‘‘ کی دکان کا نام تبدیل کر کے ’’لالو بیٹری اینڈ چائے والا‘‘ رکھ لو اور چائے کا کاروبار بھی کر لو اس طرح اپنے پرانے ملازموں کے ساتھ اضافی ملازم چائے بنانے کے لئے بھی رکھ لو۔ اس طرح تمہارا کاروبار بھی بہترین چلے گا نہ صرف چائے کی اضافی آمدن ہو گی بلکہ بیٹری کی دکانیں بند ہونے کی وجہ سے تمہاری بکری بھی دُگنی ہو جائے گی۔
لالو: یار کالو تم نے کیا کالا ذہن پایا ہے حکومت کو بھی چکمہ دے گئے۔
کالو : نہیں یار میں نے حکومت کو چکمہ نہیں دیا بلکہ حکومت ہمیں ہاتھ دکھا گئی ہے کیونکہ ووٹ لیتے وقت تو انہوں نے وعدے کئے تھے کہ ہم عوام کی محرومیاں دور کریں گے انہیں روٹی کپڑا اور مکان کے ساتھ روزگار بھی مہیا کریں گے اور بجائے روزگار دینے کے اس حکومت نے تو بچاکھچا روزگار بھی ہم سے واپس لے لیا۔ ایسے الٹے سیدھے اقدامات کرکے میں نے تو اپنا ذہن استعمال کر کے اپنا حق حاصل کیا ہے۔
لالو: اچھا یار یہ بتاٶ کیا اس لوڈشیڈنگ سے اور آٹھ بجے دکانیں بند کرنے سے ان سیاستدانوں کی زندگیوں میں کوئی فرق نہیں پڑتا کیا جیسے ہم لوگوں کی زندگی میں پڑتا ہے۔
کالو: یار ان سیاستدانوں کو ان چیزوں سے کیا فرق پڑتا ہے یہ لوڈشیڈنگ اور ایسے اقدامات اسی خاطر تو یہ سیاستدان کرتے ہیں تاکہ ان کی عیاشیوں میں کمی نہ آئے۔
لالو : بھلا وہ کیسے؟
کالو : یار تم تو بہت معصوم ہو۔ بھلا کسی سیاستدان کو تم نے عہدہ حاصل کرنے کے بعد سڑکوں پر بغیر کسی سکیورٹی کے چلتے دیکھا ہے کیا؟
لالو: نہیں لیکن اس سے کیا۔
کالو : یار مطلب یہ ہے کہ جو عوام سے ووٹ لے کر عوام میں نہیں آتے تو اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ یہ سیاستدان سیاست صرف اسلئے کرتے ہیں کہ وہ حکومتی مراعات و پروٹوکول کی عیاشی حاصل کر سکیں ان لوگوں کی فیکٹریوں کو چلانے کے لئے تو ہم سے بجلی لی جاتی ہے اور بجلی گھروں کو حکومت کے لٹے پٹے خزانہ کی بچت میں سے ادائیگی صرف اس لئے نہیں کی جاتی تاکہ حکومتی عہدیدران کی عیاشیوں پر رقم خرچ کرنے کے لئے خرچہ بچا رہے اور اسی لئے رقم حاصل نہ ہونے کی بنا پر بجلی گھر تیل نہیں خرید سکتے جس کی وجہ سے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے۔ لالو میاں اب سمجھ آئی کیا؟
لالو : یار یہ تو بڑی زیادتی ہے میرا خیال ہے میں بھی کسی سیاسی پارٹی میں شامل ہو جاتا ہوں تاکہ مجھے بھی مزے کرنے کے مواقع میسر آئیں۔
کالو : ارے میرے معصوم دوست تم تو مجھے بندے نہیں گائے لگتے ہو کیونکہ تم کیا سمجھتے ہو کہ پارٹی میں شامل ہونے سے تم سیاستدان بن جاٶں گے۔ کیا یہاں تو وہ فرعون سیاست کر رہے ہیں جو نہ صرف کسی نئے آنے والے کو سیاست میں آنے کا راستہ نہیں دیتے بلکہ وہ ان چکروں میں ہیں کہ کب موقع ملے اور وہ اپنے پرانے سیاسی ساتھیوں کو سیاست سے اٹھا کر باہر کریں تاکہ صرف وہی بڑے سیاستدان جانے جائیں اور ان کا مدمقابل کوئی نہ رہے اب بھلا تمہیں کون سیاست میں آنے دے گا اور وہ بھی معمولی بیٹری کی دکان کے مالک کو۔ میری مانو تو تم سیاسی پارٹی کی جگہ پولیس پارٹی میں شامل ہو جاٶ اور اگر تمہاری عمر گزر چکی ہے تو اپنے بیٹے کو پولیس پارٹی میں بھیج دو اور خود ڈاکو پارٹی کے ممبر بن جاٶ پھر یوں سمجھو کہ تمہارے چاروں گھی میں اور سر کڑھائی میں ہو گا کیونکہ یہ ڈاکو پارٹی اور پولیس پارٹی ایک دوسرے کے ساتھی ہیں بلکہ یہی وہ دونوں ہیں جنہیں سیاستدانوں کے دو ہاتھ کہا جاتا ہے ان کے بغیر سیاستدان کچھ نہیں۔
لالو : یار چلو میں تو یہ سب کچھ کر لوں گا لیکن مجھے یہ بات بہت چبھتی ہے کہ معاشرہ کیسے ٹھیک ہو گا۔ کب ہمارے دیس پاکستان کے حالات اچھے ہوں گے اور کب ہمارے ملک کے غریب عوام پیٹ بھر کر حلال کی روٹی کھائیں گے۔
کالو : یار اس بات پر پریشان نہ ہو۔ صرف اپنی فکر کرو کیونکہ قدرت ان سیاستدانوں سے خود ایسی غلطیاں کروا رہی ہے جس سے انقلاب آ جائے گا اور سب ٹھیک ہو جائےگا۔
لالو : بھلا وہ کیسے؟
Oکالو : یار وہ ایسے کہ جب حکومتی اقدامات سے لوگ بے روزگار ہوں گے اور بھوک ان کے بچوں کو ستائے گی تو کیا وہ غریب اپنے بچوں کو بھوک سے مرتے دیکھتا رہے گا؟ نہیں تب وہ باہر نکلے گا اور سب الٹے کو سیدھا اور سیدھے کو الٹا کر دے گا پھر معاشرے کے ظالموں کو کوئی ایسی جگہ نہیں ملے گی جہاں وہ چھپ کر اپنی جان بچا سکیں گے اس کی ایک چھوٹی سی مثال تمہیں میں یاد کرواٶں وہ دن جب عدلیہ کا بحران جاری تھا اور ڈاکٹر شیرافگن کے ساتھ عوام نے کیا کیا تھا شاید اگر اس دن بظاہر ڈاکٹر شیرافگن کے مخالف اعتزاز احسن اس جگہ نہ پہنچتے تو شاید ڈاکٹر شیرافگن ہمارے درمیان نہ ہوتے۔
لالو : یار کالو تم صحیح کہہ رہے ہو‘ میں خود حیران ہوتا ہوں کہ آخر حکومت ایسے حالات کیوں پیدا کر رہی ہے کہ عوام ڈاکو بننے پر مجبور ہو جائیں۔ یہ شاید قدرت ان سے ایسی غلطیاں کروا رہی ہے کہ آمر پرویز مشرف سے قدرت نے غلطیاں سرزد کروا کر اسے دودھ میں سے مکھی کی طرح باہر نکال پھینکا۔ اسی طرح قدرت ان حکمرانوں کا بھی احاطہ کر رہی ہے اور ان کے حساب کے دن قریب ہیں۔
(نوٹ:7مئ 2010 کو نواۓ وقت ملتان میں شاۓ ھوا )مستقل نام کالم “ادھر ادھر کی
![]()
زمرہ متفرق کے تحت شائع ہوا |
