الٰہی! ان دوسرے’’ الہٰیوں‘‘ سے بچا

مصنف قیصر خان پتافی بتاریخ 8 مئی 2010 – 4:10 پی ایم ۔

logo.JPGیوں تو پرویزالٰہی کا شکریہ کہ وہ ملتان آئے اور جنوبی پنجاب کے مسائل کو سمجھتے ہوئے یہاں کے لوگوں کی دیرینہ خواہش کی تکمیل کے لئے انہوں نے ’’جنوبی پنجاب علیحدہ صوبہ تحریک‘‘ چلائی لیکن وہ کہتے ہیں نا کہ بخشوبی بلی چوہا لنڈورا ہی بھلا‘‘ تو پرویزالٰہی بھی مہربانی فرما کر اس تحریک سے دور ہی رہتے تو بہتر ہوتا کیونکہ سب یہ جانتے ہیں کہ پرویزالٰہی اینڈ کمپنی پرویز مشرف کے دور حکومت میں حکمران ٹیم کے ممبر رہ چکے ہیں اور وہ ایسا وقت تھا کہ اگر پرویزالٰہی چاہتے تو بخوبی پرویز مشرف پر دبائو ڈال کر جنوبی پنجاب کا صوبہ بنوا سکتے تھے لیکن تب انہوں نے بجائے اس علاقہ کو اس کا حق دلانے کے اپنے راج کے علاقہ کو محدود کرنا مناسب نہ سمجھا اور آج جبکہ یہ تحریک ویسے ہی بہت سنجیدہ موڑ اختیار کر چکی ہے اور آج کے حکمران بھی اس بارے میں سنجیدہ ہو رہے ہیں کہ شاید انہیں یہ صوبہ بنانا ہی پڑ جائے تو پرویزالٰہی رنگ میں بھنگ ڈالنے چلے آئے۔ ان کے آنے سے اور اس تحریک کا ساتھ دینے سے حکومت وقت تو یہی سمجھے گی کہ پرویزالٰہی اپوزیشن کر رہے ہیں اس لئے یہ صوبہ ہرگز نہیں بننا چاہئے۔ ورنہ اس کا سارا کریڈٹ حکومت کی بجائے پرویزالٰہی لے جائیں گے اس طرح ہمارا بنتا سنورتا کام بگڑ جائے گا۔ ہاں لیکن اگر پرویزالٰہی اس بارے میں واقعی سنجیدہ ہیں اور اس سلسلے میں ہماری مدد کرنا چاہتے ہیں تو انہیں بجائے ان ریلیوں ویلیوں کے اور پریس کانفرنس یا بیان بازیوں کے بدلے اس بزرگ والا طریقہ اختیار کرنا چاہئے جیسا کہ ایک روایت مشہور ہے کہ ایک نیک درویش کے پاس لوگ گئے اور گزارش کی کہ ہمارے علاقہ میں کافی عرصہ سے بارش نہیں ہو رہی ہے جس کی وجہ سے ہماری فصلیں سوکھ رہی ہیں اور جانور دم توڑ رہے ہیں آپ تو اﷲ کے نیک بندے اور پہنچے ہوئے بزرگ ہیں اس لئے آپ خصوصی دعا کریں کہ ہمارے علاقہ میں بارش برسے۔ ان بزرگ نے لوگوں کی روداد سن کر کہا کہ آج کل اﷲ تعالیٰ مجھ سے ناراض ہیں لیکن پھر بھی میں آپ لوگوں کا کام کروا دیتا ہوں۔ تب ان بزرگ نے اپنے کپڑے دھوئے اور سکھانے کی خاطر دھوپ میں پھیلا دئے ان کپڑوں کو دھوپ میں ڈالنے کی دیر تھی کہ بادل گھر آئے اور بارش شروع ہو گئی۔ بتایا گیا کہ اﷲ پاک اس وقت ان بزرگ سے ناراض تھے اور ان کے کپڑے گیلے رکھنے کی خاطر بارش ہو گئی لیکن اس تمام چکر میں ان لوگوں کی بارش کی تمنا پوری ہو گئی۔ اسی طرح اگر پرویزالٰہی جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کی تحریک شروع کرنے کی بجائے وہ اس صوبہ کے خلاف تحریک چلائے تو ان کی مخالفت میں حکومت وقت فوری ہمارا جنوبی پنجاب کا صوبہ علیحدہ بنا دیتی۔
آج کا دوسرا موضوع کچھ یوں ہے کہ دنیا میں کہیں کوئی دہشت گردی یا دہشت گردی نما واردات ہو تو اس میں پاکستان یا پاکستانی کا نام ضرور آجاتا ہے۔ اس سے تو اب یہی محسوس ہونا شروع ہو گیا ہے کہ شاید ہم پاکستانی ہی آج کی دنیا کی سپرپاور ہیں اسی لئے پوری دنیا تک ہماری رسائی ہے مگر اس وقت ہمیں اپنی حیثیت کا پتہ چل جاتا ہے جب ان وارداتوں کے نتیجہ میں ہونے والی جوابی کارروائی سے ہم لوگوں کی دھلائی ہوتی ہے اور نہ صرف دنیا والے ہمارے ساتھ بھیڑ بکریوں جیسا سلوک کرتے ہیں بلکہ ہمارے اپنے ملک کی حکومت بھی یہی سلوک روا کرتی ہے اب امریکہ کے ٹائم سکوائر میں بم دھماکے کی کوشش کے بعد کی کارروائی میں فیصل شہزاد نامی نوجوان کو امریکی حکومت نے گرفتار کر لیا تو اس کے چاچے‘ مامے اور اباجی کو بھی ہماری حکومت نے گرفتار کر کے کہا کہ انہیں حفاظتی تحویل میں لیا گیا ہے یہاں ہم لوگ صوبہ بنانے اور صوبے کے ناموں کی فکر میں لگے ہیں اور ہماری حالت یہ ہے کہ ہماری کوئی حیثیت ہی نہیں۔ پاکستان تو غیر ملکیوں کی شکارگاہ لگتا ہے جس پر رحمن ملک کو ان غیر ملکیوں نے اپنا رکھوالا بنایا ہوا ہے جس شکار کی ضرورت ہوتی ہے رحمن ملک اس کو ان غیر ملکیوں کے سامنے حاضر کر دیتے ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے صوبوں کا نام تبدیل کر کے کچھ یوں رکھ لیں۔ صوبہ پنجاب کا نام بکریوں کی شکارگاہ‘ صوبہ بلوچستان کا نام جنگلی بیلوں کی شکارگاہ‘ خیبر پختونخوا کا نام مارخوروں کی شکارگاہ‘ سندھ کا نام تلوروں کی شکارگاہ وغیرہ وغیرہ یاپھر کسی اور قسم کی شکارگاہ کا نام بھی حکومت اپنی مرضی سے رکھ سکتی ہے تاکہ پھر ہم لوگوں کو اپنی حیثیت کا کھل کر پتہ تو چلتا ہے۔ اس وقت تو المیہ یہ ہے کہ ہم لوگ اپنے آپ کو انسان سمجھتے ہیں اور محسوس کرتے ہیں کہ ہمیں بھی زندہ رہنے کا اتنا ہی حق ہے جتنا امریکیوں اور یورپیوں کو ہے لیکن جب ہمارا شکار کھیلا جاتا ہے تو پھر ہمارا دماغ الجھ جاتا ہے کہ کیا واقعی ہم انسان ہیں یا کوئی ایسا جانور جس کے شکار کا حق پوری دنیا کو ہے۔ ویسے رحمن ملک کو یہ سوچنا چاہئے کہ جب اس ملک کا شکار ختم ہو گیا تو پھر رحمن ملک کو ہی یہ دنیا والے اپنا آخری شکار نہ سمجھ لیں۔
(نوٹ:9 مئ 2010 کو نواۓ وقت ملتان میں شاۓ ھوا )مستقل نام کالم “ادھر ادھر کی

qaisar-09.jpg


زمرہ متفرق کے تحت شائع ہوا |


ایک تبصرہ برائے 'الٰہی! ان دوسرے’’ الہٰیوں‘‘ سے بچا'

  1. سیورا لکھتے ہیں:

    واہ سائیں واہ، زبردست!

    لکھدے رہوو،

    ملسوں ولا ۔۔ جی رضا

تبصرہ لکھیے