کرکٹ یا گرگٹ؟
مصنف قیصر خان پتافی بتاریخ 20 مئی 2010 – 2:45 پی ایم ۔![]()
کرکٹ تو بائی چانس ہی ہوتا ہے لیکن پاکستانی ٹیم کے لئے یہ فقرہ غلط ثابت ہو گیا ہے پاکستان کے لئے یہ کرکٹ نہیں گرگٹ ہے جیسے گرگٹ اپنا رنگ بدلتا ہے ویسے ہی پاکستانی ٹیم کا کھیل کئی کئی رنگ دکھاتا ہے کبھی تو ایسا کھیل کہ شکست شرم سے چلو بھر پانی میں ڈوب مرے اور کبھی ایسا کھیل کہ شکست جیت کو الٹا کر کے لترول کر رہی ہو۔ شاید اسی صورتحال کے بارے میں شاعر کہتا ہے کہ:
کبھی میں نہیں ناچتی مہینوں مہینوں
کبھی میں ناچتی ہوں دھنادھن دھنن
یہ کیفیت دیکھ کر تو ہمیں بھی سمجھ نہیں آتی کہ یہ کرکٹ ہے کہ ’’ٹیڑھی کھیر‘‘ جنہیں ٹیڑھی کھیر کی تفصیل معلوم نہ ہو ان کی معلومات کے لئے ہم ہی ٹیڑھی کھیر کی کہانی بتائے دیتے ہیں کہ ایک دفعہ کسی اندھے آدمی سے کسی نے پوچھا کہ کھیر کھائو گے؟ تو اس مطلق العنان اندھے نے پوچھا کہ کھیر کیسی ہوتی ہے؟ دوسرے نے کہا سفید رنگ کی ہوتی ہے۔ پھر اندھے نے پوچھا کہ سفید رنگ کیسا ہوتا ہے تو اگلے نے جواب دیا کہ بگلے کی طرح ہوتا ہے۔ تب اندھے نے سوال کیا کہ بگلہ کیسا ہوتا ہے تو دوسرے آدمی نے بگلے کی گردن اور سر کی شکل بنانے کے لئے اپنا ہاتھ اور بازو کو موڑا تو اندھے نے اس پر ہاتھ پھیر کر محسوس کرنے کی کوشش کی کہ بگلہ کیسا ہوتا ہے تو اسے اندازہ ہوا کہ ٹیڑھا سا ہے۔ تب اس اندھے نے کہا کہ نہ بابا نہ یہ کھیر تو بہت ٹیڑھی ہے میں اسے نگل نہ سکوں گا۔ پس اسی طرح ہمارے لئے بھی کرکٹ بہت ٹیڑھی ہو چکی ہے۔ یہ تو ایک کھیل تھا جس میں اچھا کھیلنے والا جیت جاتا اور دوسرا ہار جاتا۔ لیکن اب زیادہ اچھا کھیلنے والا پیسے لے کر بھی جاتا ہے اور برا کھیلنے والا جیت جاتا ہے۔ ہماری ٹیم تو ویسے ہی کرائے کے لئے ہر وقت خالی ہوتی ہے جو چاہے لے لے۔ ہم تو بنگلہ دیش سے اس وقت ہارے جب انہوں نے کھیلنا شروع ہی کیا تھا اور بنگالیوں کے بارے میں اس وقت یہ کہا جاتا تھا کہ بنگلہ دیش والوں کو کرکٹ کی اتنی بھی سمجھ بوجھ نہیں کہ وہ ہوتا کیا ہے۔ اسی طرح ایک بنگالی کا قصہ کافی مشہور ہے کہ جب بنگلہ دیش میں کرکٹ میچ منعقد ہوا تو وہ آدمی بھی اس کے بارے میں سن کر چند روپے جیب میں ڈال کر میچ دیکھنے سٹیڈیم پہنچ گیا۔ پھر جب وہ واپس آیا تو اپنے ساتھیوں کو یوں بتایا کہ جب میں سٹیڈیم پہنچا تو دیکھا کہ ایک عمارت جس میں ایک سوراخ ہے کے سامنے لوگ لائن لگا کر کھڑے ہیں۔ لائن میں لگے افراد پیسے اس سوراخ میں گھساتے ہیں اور جب ہاتھ باہر آتا ہے تو اس میں ایک پرچی ہوتی ہے جس کو لے کر وہ سٹیڈیم کے اندر چلے جاتے ہیں تو وہ شخص بولا کہ میں نے بھی سوراخ میں ہاتھ ڈالا تو میرے ہاتھ میں کوئی شے محسوس ہوئی تو میں نے اسے پکڑ لیا کہ شاید یہی وہ چیز ہے جو لوگوں کے پیسے لوٹ رہی ہے چنانچہ میں نے اسے مضبوطی سے پکڑ کر کھینچا لیکن اس نے بھی مجھے اپنی طرف کھینچا اسی کھینچا تانی میں میرا ہاتھ باہر نکل آیا اور وہ کاغذ کا ٹکڑا (ٹکٹ) میرے ہاتھ میں آ گیا مجھے اپنے پیسے لٹنے کا افسوس تو ہوا لیکن آخر کیا کرتا۔ میں نے کوشش تو کی اس قومی مجرم کو پکڑنے کی۔ خیر وہ کاغذ کاٹکڑا دیکھ کر مجھے سٹیڈیم میں داخل ہونے کی اجازت دے دی گئی۔ سٹیڈیم کیا تھا بڑی بڑی سیڑھیاں تھیں۔ سیمنٹ کی بنی ہوئی جس پر لوگ بیٹھے تھے۔ میں نے تو نیچے بیٹھنے سے انکار کر دیا لیکن سپاہی نے مجھے ڈنڈا مار کر بٹھا دیا۔ پھر دیکھا کہ سامنے موجود میدان میں خوبصورت گھاس لگی تھی اور اس کے درمیان چھوٹی سے سڑک نما پٹی تھی۔ جس کی دونوں اطراف تین تین پینسلیں (وکٹیں) زمین میں گڑی ہوئی تھیں کچھ دیر بعد دو پادری (ایمپائر) ایک کمرے سے نکلے اور ان دو پادریوں میں سے ایک چھوٹا پادری تھا اور ایک لمبا۔ ان دونوں پادریوں کے ساتھ ایک ایک غنڈہ لوگ بھی تھا۔ چھوٹے پادری نے ایک سکہ جیب سے نکالا اور ہوا میں اچھال دیا۔ جیسے ہی وہ سکہ زمین پر گرا۔ بڑے پادری نے وہ سکہ اٹھا کر اپنی جیب میں ڈال لیا۔ تب چھوٹے پادری نے بڑے پادری سے کہا کہ میرا سکہ واپس کر دو۔ لیکن بڑے پادری نے انکار کر دیا۔ پھر چھوٹے پادری نے اپنے ساتھ آئے غنڈے کو اس کمرے میں بھیجا جہاں سے پادری آئے تھے اور وہاں سے اس غنڈے نے دو غنڈے جن کے ہاتھ میں چپٹے ڈنڈے (بیٹ) تھے لے کر بڑے پادری کی دھلائی کی خاطر آ گئے۔ بڑے پادری نے بھی اپنے ساتھی غنڈے کو کمرے میں بھیج کر گیارہ غنڈہ لوگوں کو بلوا لیا۔ تب بڑے پادری نے ایک گول پتھر (گیند) اپنے ایک غنڈے ساتھی کو دیا اور کہا یہ پتھر لو اور اس چھوٹے پادری کے ڈنڈا بردار ساتھی کا سر پھوڑ دو۔ وہ گیارہ غنڈہ لوگ میدان میں پھیل گئے تاکہ چھوٹے پادری اور اس کے ساتھی اس میدان سے بھاگ نہ جائیں پھر ان گیارہ غنڈوں میں سے پتھر حاصل کرنے والے نے دوڑ کر دور سے پتھر اس ڈنڈا بردار غنڈے کی طرف پھینکا تو وہ ڈنڈا بردار بھی بہت ہوشیار اور تیز تھا اس نے ڈنڈا دور سے گھمایا اور اس پتھر کو زور سے ڈنڈا مارا پھر جو ہوا اس کی مجھے سمجھ نہیں آئی کہ گیارہ غنڈہ لوگ اس پتھر کے پیچھے بھاگ پڑے اور وہ دو ڈنڈا بردار غنڈے ان پینسلوں کے درمیان بھاگنا شروع ہو گئے۔ یہ دیکھ کر میں تو واپس آ گیا۔
اب بنگالی بھی تو ہمارے ساتھی رہ چکے ہیں کچھ اثر ان کا ہمارے اوپر بھی ہے۔ ہم بھی کرکٹ میچ کو اپنی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور یہ سوچتے ہیں کہ شاید یہ ہار اور جیت کا کھیل چل رہا ہے لیکن دراصل یہ تو ایک بہت بڑا کھیل ہے جسے پیسے کا کھیل کہتے ہیں اس میں جذبات کی کوئی اہمیت نہیں۔ ہماری حکومت کو بھی ہم بہت اچھی طرح جانتے ہیں بس حکومت ہم پر ایک مہربانی کرے کہ اس کا نام تبدیل کر کے کرکٹ کی جگہ گرگٹ ہی رکھ دے تاکہ ہمیں معلوم ہو سکے کہ اس کے رنگ تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور کم از کم ہم لوگ دعائیں تو اس کھیل کی خاطر نہ کیا کریں۔ کیونکہ شاید دعائیں اسے تو جتا سکتی ہیں جو جیتنا چاہتا ہو۔ لیکن اسے کیسے جتوائیں جو ہارنا چاہتا ہو۔ بالکل اس شخص کی طرح جو جھوٹ موٹ نیند کا دکھاوا کر رہا ہو اور لوگ اسے جگا رہے ہوں کہ شاید یہ واقعی سو رہا ہے۔ سچ میں سویا تو جاگ سکتا ہے لیکن جو دکھاوے کا سویا ہو اسے کون جگائے
(نوٹ:12مئ 2010 کو نواۓ وقت ملتان میں شاۓ ھوا )مستقل نام کالم “ادھر ادھر کی
زمرہ متفرق کے تحت شائع ہوا |
