بھائی ملتان حسین کا ٹیلیفونک خطاب
مصنف قیصر خان پتافی بتاریخ 20 مئی 2010 – 2:53 پی ایم ۔![]()
(نوٹ: چند روز قبل بھائی الطاف حسین نے پنجاب کے مختلف شہروں میں ٹیلی فونک خطاب کیا جس میں ملتان شہر بھی شامل تھا یہ طرز خطاب ہمارے بھائی ملتان حسین جو کہ اس قت امریکہ میں رہائش پذیر ہیں کو بہت پسند آیا۔ اسی لئے انہوں نے امریکہ سے اسی طرز پر ٹیلی فونک خطاب کیا جو کہ آج آپ لوگوں کے لئے درج ذیل تحریر کیا جا رہا ہے)
خطاب : بڑ بڑ‘ بڑ بڑ‘ بڑ‘ بڑ بڑ بڑ بڑ‘ بڑ بڑ بڑ بڑ‘ بڑ میرے گزشتہ پاکستانی ہم وطنو! سلام‘ سلام‘ سلام آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ میں نے گزشتہ ہم وطنو کیوں کہا اور خطاب کے شروع میں بڑ بڑ کیوں کی۔ دراصل بڑ بڑ جس کی خاطر کی تھی وہ سمجھ گئے ہیں۔ آپ کے لئے یہ بڑ بڑ ہی ہے اور گزشتہ ہم وطنو اس لئے کہا ہے کیونکہ اب تو میں نے امریکی پاسپورٹ حاصل کر لیا ہے اور اب تو میرا وطن امریکہ ہی ہے۔ پاکستان میرا ماضی تھا لیکن نہ تو میں ماضی بھولنے والا ہوں اور نہ چھوڑنے والا ہوں۔ یعنی پاکستان میں چھوڑ نہیں سکتا۔ اسی لئے تو میں آج آپ لوگوں سے ٹیلی فونک خطاب کر رہا ہوں جیسا کہ آپ لوگ جانتے ہیں‘ میں نے جس پودے یعنی سیاسی جماعت کی بنیاد پاکستان میں رکھی تھی جس کا نام DQM ڈی کیو ایم (ڈراٶنی قومی موومنٹ) تھا اور ہے آج یہ تناور درخت بن چکا ہے اور اس کی شاخیں پورے ملک میں پھیل گئی ہیں۔
یہی میری‘ میری‘ میری‘ میری‘ میری‘ ہی ہی ہی‘ ہی ہی ہی جماعت کا اصول ہے کہ ہم اپنا جھنڈا الٹا پکڑتے ہیں یعنی یعنی یعنی جھنڈے کا کپڑا ہاتھ والی طرف اور ڈنڈہ ہوا والی طرف۔ اب بھلا ہے کوئی ایسی عقلمند جماعت جس نے پہلے کبھی ایسا کیا ہو؟ ایسا کرنے سے سب ٹھیک ہو جاتا ہے۔ ہے ہے‘ ہے‘ ہے‘ ہے بھلا پوچھو وہ کیسے۔ وہ ایسے کہ جب جھنڈے کا کپڑا جس پر ہماری جماعت کا نام لکھا ہوتا ہے وہ ہاتھ میں رہتا ہے تو وہ محفوظ رہتا اس کے گرنے کا خطرہ صفر ہو جاتا ہے اور ڈنڈہ ہوا میں بلند کرنے سے لوگوں کے دل کانپتے رہتے ہیں کہ کہیں یہ ڈنڈہ ان کے سر پر نہ گر جائے۔ اس لئے وہ ہر کام ہدایت کے مطابق کرتے ہیں جیسا کہ آپ لوگ اس تپتی گرمی میں خاموشی اور تمیز سے بیٹھے میرا خطاب سن رہے ہیں کیونکہ آپ کو بھی یہی ڈر ہے کہ یہ ڈنڈا… آپ کے سر پر ہی نہ گر جائے۔
میں! آپ کے ملک سے کیا گیا کہ آپ لوگوں نے اس ملک کو لاوارث سمجھنا شروع کر دیا۔ میں آپ کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ میں جتنا پاکستان سے دور ہوں اس سے زیادہ پاکستان میں موجود و مضبوط ہوں۔ اب اس کی مثال میں آپ ک یوں دیا ہوں کہ آپ سب حضرات اپنی جیبوں میں ہاتھ ڈال ڈال کر دیکھ لو۔ آپ کو اس میں دو سو روپے ملیں گے۔ نہ ایک روپیہ زیادہ اور نہ ایک روپیہ کم اور یہ میں اس یقین کے ساتھ اس لئے کہہ رہا ہوں کہ میں نے اپنے جھنڈہ برداروں کو حکم دیا تھا کہ ایسا ہی ہونا چاہئے اور مجال ہے کہ بھائی کے حکم پر عمل نہ ہو۔ لاوارث کا لفظ میں نے اس لئے استعمال کیا کیونکہ مجھے پتہ چلا ہے کہ حکومت وقت کو اپنے لئے لگژری گاڑیاں خرید کرنی ہیں اور ان بے چاروں کے پاس اس کو خریدنے کے پیسے نہیں ہیں۔ اس لئے‘ اس لئے‘ اس لئے‘ اس… لئے اوں ہوں‘ اوں ہوں‘ اوں ہوں‘ اس لئے حکومت وقت وہ گاڑیاں خریدنے کے لئے عوام پر لگژری گاڑی رکھنے والے حضرات سے لگژری گاڑی ٹیکس نافذ کیا ہے جو کہ اب تک وصول نہیں ہو سکا اور اسی لئے اب بذریعہ پولیس چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ میں اب لگژری گاڑی رکھنے والے حضرات کو ہدایت کرتا ہوں کہ یہ ٹیکس فوری جمع کروا دیں تاکہ حکومت اپنے لئے لگژری گاڑیاں خرید سکے۔ اگر ان حضرات نے ٹیکس نہ جمع کروایا تو میں اپنے جھنڈا برداروں کو حکم دوں گا کہ یہ وصولی کریں۔ ان حضرات سے یہ ٹیکس دگنا وصول کیا جائے گا۔ آدھا حکومت کے لئے اور آدھا آپ جانتے ہیں‘ ہیں ہیں‘ بولو ہیں نہ‘ بولو بولو ہیں نا؟ اور یہ سب کچھ اس لئے کیا جائے گا کیونکہ پاکستان کے بارے میں یہ خیال کسی کے ذہن میں نہ اٹھے کہ وہ لاوارث ہے یا حکومت لاوارث ہے۔
اب میں کیا ملک سے آیا ہر ایرا غیرہ اس پر چلانے لگا جیسا کہ اب ہیلری کلنٹن ‘ ٹن ‘ٹن‘ ٹن‘ ٹن‘ ٹنا ٹن کے منہ کے غبارے کا دھاگہ کھل گیا اور ہوا چند لفظوں کی صورت میں باہر آگئی۔ جس میں پاکستان پر دھڑا دھڑ الزامات کی بوچھاڑ کی گئی۔ لگتا ہے کہ ہیلری کلنٹن‘ ٹن‘ ٹن کا سرکسی چرچ کے گھنٹے میں آ گیا تھا جس کی وجہ سے انہوں نے ایسا کیا کہ بعض پاکستانی حکام یہ جانتے ہیں کہ اسامہ بن لادن اور ملا عمر کدھر ہیں کیونکہ اگر ان کے سر کے ساتھ ایسا نہ ہوا ہوتا تو وہ ایسا ہرگز نہ کہتیں کیونکہ جو یہ جانتے ہیں کہ اسامہ یا ملا عمر کدھر ہیں وہی تو امریکی ساتھی ہیں اور یہ بات تو ہیلری بھی جانتی ہیں کہ وہ کہاں ہیں بلکہ یہ تو میں بھی بتا سکتا ہوں کہ وہ دونوں امریکہ میں ہیں اور آج میں ایک ایسا انکشاف کرنے جا رہا ہوں کہ سب حیران رہ جائیں گے۔ اسامہ اور ملا عمر امریکی جیلوں میں ہیں اور ان کی قید اس لئے ظاہر نہیں کی جاتی تاکہ مسلم دنیا کی پٹائی جاری رہ سکے۔ اب اگر ہیلری نے یہ اُول فول کہنا بس نہ کیا تو میں بتا رہا ہوں کہ میں امریکہ کا سارا کھانا کھا جاٶں گا اور سارے امریکی بھوک سے مر جائیں گے اور یہ میں نے اب تک اس لئے نہیں کہا کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ امریکہ ختم ہو جائے جس سے امریکی امداد برائے پاکستان بھی بند ہو جائے۔
امریکہ سے یاد آیا کہ‘ کہ‘ کہ یاد آیا کہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ پاکستان کی حکومت کو ڈرون جہازوں کو مار گرانا چاہئے میں ان سے یہ پوچھتا ہوں کہ کیا انہیں نہیں معلوم کہ مار دینے سے شے حرام ہو جاتی ہے۔ فضل الرحمن کو سمجھداری سے بولنا چاہئے کیونکہ یہ ایک مذہبی آدمی ہیں اوراس طرح کہنا چاہئے کہ حکومت ڈرون جہازوں کو حلال کرنا شروع کردے کیونکہ اس حکومت نے ان جہازوں کو اس ملک میں حلال کیا ہوا ہے۔
میرے دوستو اب میرے خطاب کی بدولت ٹیلی فون کا بل اتنا بن چکا ہو گا کہ اگر چند لمحے میں نے اور بات کر لی تو آپ لوگ یہ بل ادا نہیں کر پائیں گے۔ اس لئے میرا سلام‘ سلام‘ سلام‘ خدا حافظ‘ خدا ہی حافظ اور ہاں مٹھائی اور فروٹ ساتھ لے جانا نہ بھولئے گا اور اس کے پیسے بھی ادا کرنا نہ بھولئے گا کیونکہ میں یہ جانتا ہوں کہ آپ اپنا گوشت ان سے سستا نہیں سمجھتے۔
(نوٹ:15مئ 2010 کو نواۓ وقت ملتان میں شاۓ ھوا )مستقل نام کالم “ادھر ادھر کی
![]()
زمرہ متفرق کے تحت شائع ہوا |
