I am sorry
مصنف قیصر خان پتافی بتاریخ 20 مئی 2010 – 2:58 پی ایم ۔
دیکھنے والوں نے تصدیق کی ہے کہ یہ ایک سچا واقعہ ہے اور واقعہ کچھ یوں ہے کہ ایک مولوی صاحب اور ان کے شاگرد میں اکثر چھوٹی موٹی جھڑپیں ہوتی رہتی تھیں۔ مولوی صاحب اس لڑکے کو قرآن کی تعلیم اس طرح دینا چاہتے تھے جیسے کوئی کسی پیاسے کو شدید گرمی میں پانی پلائے اور ظاہر ہے کہ وہ توقع کرے کہ پانی پینے والا ایک ہی سانس میں پانی پی لے گا۔ بس مولوی صاحب بھی اپنے اس شاگرد سے یہی توقع کرتے تھے لیکن شاگرد تھا تو بڑے گھر کا‘ گستاخ لیکن آخر تھا تو انسان اور یہ ایک عام فہم بات ہے کہ قرآن پاک جیسی عظیم کتاب ایک دن میں تو اس لڑکے سے مکمل ہونے والی تھی نہیں۔ بس یہی معاملہ ان دونوں کے درمیان تلخی کی وجہ بنا ہوا تھا۔ یہاں تک کہ ایک روز ان دونوں کے بیچ زبانی کلامی لڑائی ہو گئی۔ لڑکا بڑے گھر کا تھا اور مولوی استاد تھا اور بڑی عمر کا تھا اس لئے آپس میں ہاتھاپائی تو نہ ہوتی لیکن زبانی لڑائی کا اختتام بددعاٶں کے ساتھ ہوا اور بددعائیں بھی کچھ یوں تھیں۔ مولوی صاحب نے غصہ میں بددعا دی جا اﷲ کرے کہ تو کبھی قرآن نہ پڑھ سکے اور لڑکے نے جواباً کہا کہ جاٶ آپ بھی کبھی کسی کو قرآن نہیں پڑھا سکو گے۔ یہ لمحہ شاید کوئی قبولیت کا تھا کہ دونوں کی بددعائیں ایک دوسرے کے لئے قبول ہو گئیں۔ نتیجتاً حالات کچھ ایسے بنے کہ لڑکے کا امریکی ویزہ لگ گیا اور وہ امریکہ کو سدھارا پھر تو ظاہر ہے جو پاکستان میں ہی قرآن پڑھنے سے عاجز تھا وہ امریکہ جا کر کیا قرآن پڑھتا۔ اسی طرح مولوی صاحب کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہوا کہ قرآن پڑھانا بند کر دیا اور اپنا چائے کا ہوٹل لگا لیا۔ بس لگتا کچھ یوں ہے کہ کوئی ایسا ہی وقت تھا جب ہمارے ملک کی حکومت اور انتظامیہ میں جس میں اب عدلیہ بھی شامل ہو گئی ہے کوئی لڑائی ہوئی جس میں بددعائیں دی گئیں کہ ’’تو نہ چلے‘‘ یا ’’تو کامیاب کبھی نہ ہو‘‘ نتیجتاً آج تک یہ چل سکے ہوں یا نہ چل سکے ہوں مگر کامیاب ہرگز نہیں ہو پائے۔ نہ حکومتیں نہ انتظامیہ اور نہ ہی عدالتیں اب گزارش ہے کسی عالم کو کہ اگر کسی عالم کے پاس ایسی بددعاٶں کا توڑ ہے تو برائے مہربانی وہ توڑ بیان فرما دیں تاکہ حالات کچھ تو بہتر ہوں اور یہ ادارے کامیاب ہو سکیں۔
7آج کا دوسرا موضوع پہلے سے جڑا ہوا ہے۔ ویسے تو کہیں نہ کہیں‘ ہر چیز جڑ جاتی ہے لیکن اس دوسرے موضوع کو پہلے موضوع کی تشریح کہہ لیں تو بہتر ہو گا اور حال ہی میں عدلیہ نے زرداری… اوہ … معذرت زرداری صاحب چونکہ صدر ہیں اور صدر بھی حکومت ہوتا ہے اس لئے زرداری کی بجائے حکومت کا لفظ استعمال کرنا چاہئے تھا جو غلطی سے زرداری لکھا گیا۔ ہاں تو بات ہو رہی تھی کہ حال ہی میں عدلیہ نے حکومت کے خاص اہلکار جناب رحمان ملک صاحب کے خلاف فیصلہ دے دیا اور ان کی سزائیں بحال کر دی گئیں اور جواباً حکومت نے ان سزاٶں کو معاف کر دیا یہ مثال بہت عام کہی جاتی ہے کہ
’’اندھا دے خیرات اور دے بار بار اپنوں کو‘‘
اب یہ مثال تو ایسے ہی ہمارے ہاتھوں تحریر ہو گئی۔ آپ حضرات سے گزارش ہے کہ اس کا مطلب کچھ اور نہ سمجھئے گا۔ خیر حکومت نے سزا تو چلو معاف کر دی لیکن یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ سزا تو چوروں کو ملتی ہے اور اگر کسی چور کو سزا دیدی جائے اور حکومت اسے معاف بھی کر دے تو پھر چاہے اس چور کو ہزار آسائشیں دی جائیں لیکن اسے پولیس کا اعلیٰ افسر تو کبھی نہیں لگایا جاتا تو پھر رحمان ملک صاحب کو اگر غلطی سے سزا ہو بھی گئی تو حکومت کم از کم انہیں سزا یافتہ لوگوں کو پکڑنے والے سب سے بڑے عہدے سے تو ہٹا لیتی لیکن ہم عوام تو یہ کہنے سے رہے کیونکہ اگر اس مشورہ پر حکومت کو غصہ آ گیا تو ہماری سزا تو کوئی معاف کرنے والا نہیں۔ اس لئے ہم مشورہ دینے پر پیشگی معذرت کے ساتھ چند وضاحتی فقرے ڈال دیتے ہیں۔ اصل میں اگر کوئی سکول میں تعلیم حاصل کر چکا ہو تو اس بات کا بڑی اچھی طرح علم ہو گا کہ اکثر کلاس میں جو سب سے شرارتی بچہ ہوتا ہے اس کو کلاس کا مانیٹر بنا دیا جاتا ہے۔ اس کے دو فارمولے ہوتے ہیں۔ ایک کہ وہ شرارتی بچہ آئندہ شرارت نہیں کرتا کیونکہ ذمہ داری کا بوجھ اسے یہ کرنے سے روکتا ہے اور دوسرا چونکہ وہ شرارتی بچہ شرارتوں سے اچھی طرح واقف ہوتا ہے اس لئے وہ دوسرے بچوں کی شرارتوں کو باآسانی پکڑ لیتا ہے بس یہی وجہ ہے کہ رحمان ملک صاحب کو حکومت نے یہ اہم عہدہ دے رکھا ہے۔
(نوٹ:21مئ 2010 کو نواۓ وقت ملتان میں شاۓ ھوا )مستقل نام کالم “ادھر ادھر کی
![]()
زمرہ متفرق کے تحت شائع ہوا |
