کمال منصوبہ ساز

مصنف قیصر خان پتافی بتاریخ 25 مئی 2010 – 5:45 اے ایم ۔

qaisar-new1.jpgچلو آخر ملتان کی قسمت جاگی اور ملتان میں ترقیاتی منصوبوں پر کام کاغذوں سے نکل کر مادی شکل اختیار کر گئے ہیں۔ ہمیں باقی منصوبوں کے صحیح ہونے یا نہ ہونے کا درست علم تو نہیں لیکن سنی سنائی کان پڑتی رہتی ہیں مگر ایک ایسے منصوبہ کے بارے میں تو ہم بخوبی جانتے ہیں کہ جسے ایسا کہا جائے کہ رنگ میں بھنگ ڈالی جارہی ہے یا پھر یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ دودھ کا بھرا میٹھا گلاس کسی کو پیش کیا جا رہا ہوں لیکن اس گلاس میں گندگی کا چھوٹا سا ٹکڑا ڈال دیا جائے۔ ہم بات کر رہے ہیں کلمہ چوک پر بننے والے فلائی اوور کی اس فلائی اوور کے بارے میں ہم اس لئے اتنے یقین سے کہہ سکتے ہیں کیونکہ عدالت وہاں سے روزانہ کئی بار خود گزرتی ہے اور اس بات سے بخوبی
واقف ہے کہ اس چوک پر ٹریفک کا اصل مسئلہ کیا ہے دراصل اس چوک میں پانچ اطراف سے سڑکیں آ سکتی ہیں۔ جس میں ٹریفک کا زیادہ رش ہائیکورٹ و نشتر سے آنے اور جانے والی ٹریفک ‘ کچہری فلائی اوور والی طرف سے اور نواں شہر سے آنے جانے والی ٹریفک کا رش اس چوک کی ٹریفک جام رکھتا ہے اس کے عالوہ آرٹس کونسل و ایم ڈی اے چوک اور قدیر آباد سے ٹریفک اس چوک میں آتی ہے۔ جس میں سے بیشتر کا رخ ہائی کورٹ والی طرف و کچہری فلائی اوور والی طرف ہوتا ہے اور اکا دکا ٹریفک آرٹس کونسل‘ ایم ڈی اے سے نواں شہر و قدیر آباد جاتی ہے اور ان باتوں کی تصدیق اس چوک پر دوپہر ایک سے تین کے درمیان ٹھہر کر کی جا سکتی ہے اور اب معاملہ کچھ یوں ہے کہ اس چوک سے ٹریفک کا بوجھ ہلکا کرنے کے لئے جو فلائی اوور بنایا جا رہا ہے وہ کسی ایسے شخص کا کارنامہ لگتا ہے جو خربوزے بہت کھاتا ہے اور اسی وجہ سے اس کے دماغ میں خربوزے کے بیج بھر گئے ہیں کیونکہ اس چوک پر فلائی اوور آرٹس کونسل و ایم ڈی اے سے نواں شہر والی طرف جانے والی سڑک کے درمیان بنایا جا رہا ہے اور سنا ہے کہ اس فلائی اوور سے ایک اترائی نشتر و ہائیکورٹ کی طرف جانے والی سڑک پر بھی اترنا ہے اب ٹریفک کا نظام لکھتے تو دو تین کالم کی ضرورت ہو گی بس مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے اس طرح کا فلائی اوور اس چوک سے ٹریفک کا بوجھ ہلکا کرنے کی بجائے اور مشکلات پیدا کر دے گا۔ ٹریفک کا اصل بہاٶ فلائی اوور کے نیچے سے گزرے گا جو فلائی اوور کے ستون جو کنکریٹ سے بنے ہوتے ہیں‘ کی وجہ سے نیچے کی گزرگاہ اور زیادہ تنگ ہو جائے گی اور اس چوک کو نواں شہر سے کچہری فلائی اوور کی طرف جانے والی‘قدیر آباد سے نشتر و ہائیکورٹ اور کچہری فلائی اوور والی طرف جانے والی ٹریفک اور نشتر و ہائیکورٹ سے قدیرآباد جانے والی ٹریفک بھی نیچے کے راستے کو جوں کی توں بلاک رکھے گی اگر آرٹس کونسل والی طرف کے فلائی اوور کا رخ کچہری فلائی اوور طرف موڑ دیا ائے تو اس چوک کا نظام درست ہو سکتا ہے میڈیا میں یہ معاملات اٹھانے کے باوجود حکومت نے اس معاملہ پر کان نہیں دھرے اور بظاہر کروڑوں روپیہ ضائع ہوتا نظر آرہا ہے اصل ماجرہ کچھ یوں ہے کہ اس کلمہ چوک کا پرانا نام پل موج دریا تھا اور یہ نام اس لئے تھا کیونکہ کبھی اس جگہ دریا بہتا تھا اورا س دریا کا بہاٶ بالکل اس ٹریفک کے رش کے رخ میں بہتا تھا شاید ہمارے وزیراعظم صاحب نے وہ دور دیکھا ہو اور ان کے ذہن میں یہ ہو کہ شاید دوبارہ کبھی یہاں دریا نہ بہہ نکلے اس لئے اگر فلائی اوور آرٹس کونسل والی طرف سے نواں شہر والی طرف بنا دیا جائے تو پھر کبھی اگر دریا بھی بہہ نکلے گا تو یہ پل تب بھی کارگر ثابت ہو گا جس سے دوبارہ پل بنانے کی ضرورت نہیں پڑے گی اور قومی خزانہ ضائع ہونے سے بچ جائے گا شاید بظاہر یہی دوررس اقدام اس فلائی اوور کی موجودہ بناوٹ کے پیچھے نظر آتا ہے ورنہ تو یہ بناوٹ سمجھ سے بالا تر اور پیسے کا ضیاع کے علاوہ کچھ نہیں محسوس ہوتا۔
(نوٹ:25مئ 2010 کو نواۓ وقت ملتان میں شاۓ ھوا )مستقل نام کالم “ادھر ادھر کی

qaisar-24.jpg


زمرہ متفرق کے تحت شائع ہوا |


تبصرہ لکھیے