جائیں تو جائیں کہاں…؟
مصنف قیصر خان پتافی بتاریخ 26 مئی 2010 – 11:21 اے ایم ۔
لالو: او یار کالو! کیا ہوا آج پریشان لگتے ہو۔ خیر تو ہے؟
کالو: یار کیا کریں نہ جانے کن گناہوں کی سزا مل رہی ہے۔ کاروبار ٹھپ ہے‘ گرمی زوروں پر ہے۔ اب تو لوڈشیڈنگ کی یہ حالت ہے کہ رات کو تین تین گھنٹے بجلی غائب رہتی ہے۔ دن کو گرمی اور کاروبار کی پریشانی اور رات کو گرمی اور مچھروں کی بدولت بے آرامی‘ اب تم ہی بولو آخر ہم انسان ہیں کوئی جانور تو نہیں نا؟
لالو: ہاں یار یہ مسائل تو ہیں لیکن ایک بات تو ضرور ہے کہ ہم پاکستانی محنتی نہیں ہیں۔ اسی وجہ سے تو یہ مسائل ہیں میں نے سنا ہے جاپانیوں پر جب امریکہ نے ایٹم بم گرایا تب سے جاپان نے سب کچھ ترک کر کے محنت کرنا شروع کر دی۔ وہاں کی عوام کام‘ کام اور صرف کام کے نعرے پر عمل پیرا ہو گئے ہیں اور اسی وجہ سے وہاں ہمارے جیسے مسائل نہیں ہیں۔
کالو: او یار کیسی باتیں کرتے ہو۔ چند سال پہلے مجھے جاپان جانے کا اتفاق ہوا۔ بے شک وہاں کے لوگ بہت محنتی ہیں لیکن تمہیں شاید اس بات کا علم نہ ہو کہ وہاں کی حکومت اپنی عوام کے آرام کا اتنا خیال رکھتی ہے کہ میں جاپان کے شہر ٹوکیو میں پہنچا تو مجھے پتہ چلا کہ وہاں کے ایئرپورٹ کو رات کے وقت بند کر دیا جاتا ہے اور یہ صرف اس لئے کیا جاتا ہے کہ جہازوں کے شور سے وہاں کے لوگ بے آرامی کا شکار نہ ہو جائیں۔ اب تم یہ دیکھو کہ دنیا کے مصروف ترین ایئرپورٹ کو صرف عوام کے آرام کی خاطر رات کے وقت بند کر دیا جاتا ہے جب وہاں کی عوام کو آرام دہ نیند نصیب ہو گی تو پھر صبح وہ ہشاش بشاش اٹھیں گے اور پوری طاقت سے کام کریں گے اور ہم لوگ جو بے آرامی اور خوف کا شکار رہتے ہیں کہ ایک تو بجلی کی لوڈشیڈنگ کی بدولت نیند پوری نہیں کر سکتے بلکہ رات کو چوروں‘ لٹیروں کے ساتھ پولیس کا خوف بھی ڈراتا رہتا ہے کیونکہ ہمارے ملک کی پولیس تو وردی بردار لٹیرے ہیں۔
لالو: یار باقی باتیں تو تمہاری بالکل ٹھیک ہیں لیکن یہ تمہاری پولیس کے خلاف بولنے والی عادت مجھے نہیں پسند۔ آخر پولیس اچھے کام بھی تو کرتی ہے نا۔
کالو: چلو تمہاری بات ایک لمحہ کو مان لیتے ہیں لیکن تم پھر میرے کہنے پر ایک کام کرو۔ ایک کاپی پنسل لو اور لکھنا شروع کرو۔ پولیس کی آج تک کے تمام مشہور واقعات لکھنا شروع کرو۔ جن میں ایک طرف اچھے اور دوسری طرف برے کام لکھو۔ پھر تم خود موازنہ کر لو کہ کتنے کام اچھے ہیں اور کتنے برے۔ تم بجائے 63 سالوں کی تاریخ پر نظر مارنے کے صرف پچھلے چھ مہینے کی تاریخ پر ہی غور کر لو۔ کیا تم بھول گئے ہو اس تیرہ سال کی بچی کو۔ جس کے ساتھ واہ شہر کی پولیس نے ظلم کیا۔ اس کے علاوہ بھی لکھنا شروع کرو گے تو تمہارے لکھنے کی سکت جواب دے جائے گی لیکن ایسے واقعات نہیں ختم ہوں گے۔ تمہیں وہ دن بھی یاد ہو گا جب مرد پولیس نے عمران خان صاحب کی بہنوں کو کس قدر بدتمیزی کے ساتھ پکڑ کر پولیس کی گاڑی میں ڈالا تھا اور وہ صرف اس لئے کہ ریٹائرڈ جنرل مشرف کے خلاف عمران خان احتجاج کرتے ہوئے گرفتار ہو گئے تھے اوروہ ان کی رہائی کے لئے احتجاج کر رہی تھیں۔
لالو: یار تم نے تو ایسی باتیں بول دیں کہ میرا بھی خون کھولنے لگا ہے۔ لگتا ہے شاید اب انقلاب کا سیلاب آنے والا ہے۔ اچھا سیلاب سے یاد آیا کہ ہنزہ کی جھیل کے سیلاب کا کیا معاملہ ہے۔ سنا ہے اس پرامن علاقے کے لوگ بھی بھڑک اٹھے ہیں اور احتجاج کرنے لگے ہیں۔
3
کالو: تمہاری انقلاب والی بات تو بالکل درست ہے تم نے شاید سنا ہو گا کہ انقلاب فلاں لیڈر کی بدولت آ گیا وغیرہ وغیرہ۔ لیکن اصل حقیقت یہی ہے کہ جب کسی معاشرے کو اس جگہ پر آن کھڑا کیا جائے جس جگہ اس معاشرے کے پیچھے موت اور آگے سے دھکا دینے والی حکومت ہو تو پھر وہ معاشرہ اپنی موت سے بچنے کے لئے حکومت پر حملہ آور ہو جاتا ہے اور اسی کو انقلاب کہتے ہیں۔ اب تم ہی بتاٶ ہمارے ملک میں بجلی ہے نہیں اور جو بچی کھچی ہے وہ اتنی مہنگی کہ کوئی اس کا بل بھر نہیں سکتا۔ پٹرول مہنگا‘ گیس‘ مہنگی‘ روٹی مہنگی‘ کسان اپنی جگہ پریشان اس سے گندم خرید نہیں کی جا رہی۔ کھادیں مہنگی‘ ڈیزل مہنگا‘ اس ملک میں کاروبار نہ ہونے کی بدولت بے روزگاری عام۔ غریب لوگ نہ تو روٹی کھا سکتے ہیں اور نہ دوائی۔ بس اب کیا کیا بتاٶں۔ اب بس دو ہی کام ہونے والے ہیں یا تو اس ملک کے عوام ان مشکلات کی بدولت اپنی جانوں سے فارغ ہو جائیں گے یا پھر حکومتوں کو الٹا کر دیں گے اور لالو یار تم نے جو دوسری بات کی ہنزہ کی جھیل کے حجم میں اضافہ والی۔ تو مجھے تو یہ قدرت کی مہربانی ہوتی نظر آ رہی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ دراصل قدرت نے ہماری پانی کی پریشانی کو دیکھتے ہوئے ایک نیا دریا بہا دیا ہے۔ اسی لئے یہ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے اور مجھے تو بہت امید ہے کہ یہ جھیل بڑھتے بڑھتے پورے ملک میں ایک دریا کی شکل میں رواں دواں ہو جائے گی۔ اب حکومت کو چاہیے کہ وہاں کے عوام کا کوئی دوسرا پکا بندوبست کر دے کیونکہ اگر یہ جھیل دریا بننے والی ہے تو یہ واپس نہیں جانے والی۔
لالو: بھائی تم نے یہ تو بڑی اچھی بات کی ہے۔ اگر ایک اور دریا ہمارے ملک میں بہہ نکلا تو پھر پانی کے مسائل تو بہت حد تک سدھر جائیں گے۔ تمہارے منہ میں گھی شکر‘ لیکن بھائی تمہاری پولیس کے جرائم والی بات بہت کھٹک رہی ہے کیا اب یہ واقعی وہ وحشی بن گئے ہیں کہ دولت کو لوٹنے کے علاوہ اب انہیں عورت کا احترام بھی نہیں رہا۔ مجھے تو افسوس ہو رہا ہے کہ یہ خبریں تو میڈیا میں آ جاتی ہیں ورنہ نجانے کتنے ظلم ایسے بھی ہو رہے ہوں گے کہ جن کا کسی کو علم بھی نہ ہو گا اور اس سے زیادہ حیرت مجھے وزیراعلیٰ شہباز شریف پر ہو رہی ہے کہ ان جیسا آدمی ہوتے ہوئے بھی پولیس نہ تو اب تک ٹھیک ہو پائی ہے بلکہ ان کی وحشیانہ کارروائیاں بڑھتی جا رہی ہیں اور ان پر شہباز شریف کوئی ٹھوس اقدام بھی نہیں اٹھا رہے۔
کالو: یار بس اب دعا ہی کرو کیونکہ ہمارا معاشرہ اب اس نہج پر پہنچ گیا ہے کہ اب اسے ایک ٹھیک آدمی ٹھیک نہیں کر سکتا بلکہ اس ٹھیک آدمی کو یہ معاشرہ اپنے جیسا بنا دیتا ہے۔ بس ایک بات تو میں شہباز شریف کو ضرور کہوں گا کہ چند لمحوں کے لئے اس ’’واہ‘‘ کی تیرہ سالہ لڑکی کے والد کی جگہ پر خود کو رکھ کر اس کے جذبات کو ضرور محسوس کریں ورنہ یہ حقیقت ہے کہ وہ دن دور نہیں جب محترم مجید نظامی صاحب کی وہ بات درست ہوتی نظر آتی ہے کہ پاکستان پھر ’’ناپاکستان‘‘ کہلوائے گا۔
لالو: یار ناپاکستان سے یاد آیا لگتا ہے اب قیامت آنے والی ہے۔ حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے خاکے اسلام دشمن ملکوں کے اخبارات میں دھڑا دھڑ چھپ رہے ہیں مگر حکومت پاکستان کوئی ٹھوس اقدامات ہی نہیں لیتی ان ممالک کے خلاف۔
کالو: لالو یار حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم پر ہماری جانیں قربان۔ ہماری تو زبان بھی اس قابل نہیں کہ اتنی بڑی ہستی کا نام لے سکیں تو بھلا تم یہ بتاٶ کہ یہ کفار جو ناپاک ہوتے ہیں۔ یہ کوئی خاکہ بنا کر اس پر لکھ دیں گے کہ یہ مسلمانوں کے نبی حضرت محمدؐ ہیں تو اس سے کیا یہ واقعی ان کا خاکہ بن جائے گا؟ تو اس کا جواب ہے کبھی نہیں کیونکہ اس طرح سوچو کہ اگر کسی کھمبے پر میں تمہارا نام لکھ دوں تو اس سے کیا وہ تم بن جاٶ گے کیا؟ اس کا جواب ہے کبھی نہیں تو اس لئے خدا کے لئے یہ کہنا سننا بند کرو کہ یہ خاکے نبی کریمؐ کے ہیں۔ یہ وہ گندے لوگ اپنی ذہنیت دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ ایسے خاکوں کو بنا کر اس لئے فکر نہ کرو لیکن ان حربوں سے اپنے دشمن کی پہچان ضرور کر لو
(نوٹ:27مئ 2010 کو نواۓ وقت ملتان میں شاۓ ھوا )مستقل نام کالم “ادھر ادھر کی
![]()
زمرہ متفرق کے تحت شائع ہوا |
