ایک نمونے کی بجٹ تقریر
مصنف قیصر خان پتافی بتاریخ 2 جون 2010 – 5:18 پی ایم ۔
جناب سپیکر! مجھے آج بجٹ پیش کرتے ہوئے بہت خوشی اور فخر محسوس ہو رہا ہے کیونکہ ہم وہ حکومت ہیں جس نے بجٹ کے مقررہ عرصہ سے پہلے ہی بجٹ پیش کر دیا ہے۔ جناب عالی! یہ وہہ کارنامہ ے جو آج تک کی کوئی حکومت نہیں کر سکی۔ بے شک اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے پاس پچھلا بجٹ ختم ہو گیا ہے کیونکہ ہم نے وہ بجٹ آتے ہی خرچ کر ڈالا اور اب ہم چاہتے ہیں کہ بجٹ جلد پیش کر کے ہم خرچ کرنے کے لئے رقم جلد حاصل کر لیں۔ جناب عالی! ہماری خواہش ہے کہ ہم ہر سال بجٹ کا عرصہ کم کرتے جائیں اور یہ بجٹ اتنی تیزی میں بننے لگے کہ ہر مہینے ہم نیا بجٹ پیش کر سکیں تاکہ ہر ماہ نئے ٹیکس لگائے جا سکیں۔ جناب عالی! اب میں بجٹ میں پیش کئے جانے والے منصوبے بتانے جا رہا ہوں۔ جناب عالی! مجھے آج یہ بتاتے ہوئے اتنی خوشی ہو رہی ہے کہ ہم نے بہت سارے ٹیکس ختم کر دئے ہیں اور صرف چند فیصد ٹیکس میں اضافہ کیا گیا ہے۔ جناب عالی! قبل اس کے کہ میں آپ کو ان ٹیکسوں کی تفصیل سے آگاہ کروں۔ میں آپ کو وفاقی حکومت کی اس حیرت انگیز سکیم کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں جس کو پنجاب کی صوبائی حکومت کی دو روپے روٹی کے مقابلے میں ہماری وفاقی حکومت نے شروع کرنے کا پروگرام تشکیل دیا ہے۔ جناب عالی! اس پر ہمارے کل بجٹ کا پچاس فیصد خرچ ہو گا لیکن ہمیں عوام کی بھلائی زیادہ عزیز ہے اس لئے ہمیں اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ آدھا بجٹ اس سکیم میں خرچ کیا جا رہا ہے۔ جناب عالی! اس سکیم کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ پنجاب کی صوبائی حکومت دو روپے میں کاغذ کی طرح پتلی روٹی تو ضرور دیتی ہے لیکن اس روٹی کے ساتھ سالن نہیں دیتی۔ ہم نے اس روٹی کے ساتھ عوام کی خاطر ایک روپے میں چپل کباب دینے کا پروگرام بنایا ہے جس میں چپل عوام کے لئے اور کباب ایم این اے‘ ایم پی اے اور وزیروں کے لئے ہو گا جو وہ صرف ایک روپے میں دو روپے روٹی کے ساتھ کھا سکتے ہیں۔ جناب عالی! اب میں آپ کو ٹیکسوں کی تفصیل سے آگاہ کرتا ہوں۔ جناب عالی! آپ کو یہ سن کر بہت حیرت ہو گی کہ ہم نے گرمی کی شدت دیکھتے ہوئے تمام قسم کے مشروبات کی بوتلوں پر سے سو فیصد ٹیکس ختم کر دیا ہے۔
_
جناب عالی! اس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ یہ سو فیصد ٹیکس مشروبات کی خالی بوتلوں پر سے ختم کیا گیا ہے اور بھری ہوئی بوتلوں کے ٹیکس میں صرف اور صرف چالیس فیصد اضافہ کیا گیا ہے اس کے علاوہ جناب عالی! ہم عوام کی ٹرانسپورٹ کی مشکلات سے بہت آگاہی رکھتے ہیں اس لئے جناب عالی! ہم نے ٹرانسپورٹ کی مد میں صرف اور صرف دو طبقوں کے ٹیکس میں اضافہ کیا ہے اور غریب لوگوں پر ایک پیسہ ٹیکس نہیں لگایا۔ اس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ چونکہ جہازوں میں امیر دولت مند افراد سوار ہوتے ہیں اس لئے ہوائی سفر کے کرایوں کی مد پر موجودہ ٹیکسوں میں سو فیصد اضافہ کیا گیا ہے اور دولت مند کلاس کے خاتمہ کے لئے یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ پی آئی اے نئے جہاز نہیں خریدے گی۔ پرانے جہاز اس حالت تک پہنچ چکے ہیں کہ جب بھی کسی ایک جہاز کا خاتمہ ہوا تو تین چار سو دولت مندوں کا بھی ان کے ساتھ خاتمہ ہو جائے گا۔ جناب عالی! اس اضافی ٹیکس کی رقم سے غریب عوام کے نمائندوں کے لئے نئے جہاز خریدے جائیں گے تاکہ ان کی جانیں محفوظ رہ سکیں۔ جناب عالی! اس اقدام سے آپ خود ہی اندازہ لگا لیں کہ ہماری حکومت کو غریب عوام کا کتنا خیال ہے اور اسی خاطر ہم نے غریب عوام کے نمائندوں کو دولت مند لوگوں پر ترجیح دی ہے۔ جناب عالی! اس کے علاوہ ہم نے مڈل کلاس کی ٹرانسپورٹ یعنی ٹرین‘ بس کے کرایوں پر صرف پچاس فیصد ٹیکس لاگو کیا ہے اس رقم سے بھی عوامی خدمت کی جائے گی اور عوام کے نمائندوں کے کارندوں کو نوکریوں پر رکھا جائے گا اور اس رقم سے ان کو تنخواہیں دی جائیں گی۔ بے شک وہ کام کریں یا نہ کریں۔
جناب عالی! اب میں اپنی حکومت کے اس کارنامے کا ذکر کرنا چاہوں گا کہ جسے سننے کے لئے غریب عوام بے کار ہے اور وہ یہ کہ غریب کی سواری پر کوئی ٹیکس لاگو نہیں ہو گا یعنی سائیکل‘ ٹانگہ‘ کھوتا گاڑی وغیرہ۔ جناب عالی! اس کے علاوہ سرکاری و فوجی اہلکاروں کی تنخواہوں میں پچاس فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے جبکہ ان پر صرف دو قسم کے ٹیکس لگائے جا رہے ہیں جو دونوں صرف تیس تیس فیصد ان کی کل تنخواہوں پر ہوں گے جبکہ جناب عالی! پھر سے غریب عوام کا خیال اور ہمدردی ذہن میں رکھتے ہوئے ہم نے غریب عوام کے نمائندے ایم این ایز‘ ایم پی ایز اور وزراء کی تنخواہوں میں دو سو فیصد اضافہ کر دیا ہے اور ان پر ٹیکس بالکل نہیں لگایا گیا۔
جناب عالی! آج کے بعد ہم نے پاکستان کی ہونہار پولیس اور پٹواری اور تحصیلداروں کی کمائی دیکھتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کو یہ حکم جاری کرتی ہے کہ ان لوگوں کو تنخواہیں دینا بند کر دیں بلکہ ان کو جتنی تنخواہ پہلے دی جا رہی ہے اس سے دوگنا رقم ہر ماہ ان سے وصول کر کے ایک حصہ خود صوبائی حکومت اور ایک حصہ وفاقی حکومت کو دینا شروع کرے جس رقم سے بھی غریب عوام کے نمائندوں کے پیٹ بھرنے کی کوشش کی جائے گی۔ جناب عالی! آپ خود ہی دیکھیں کہ ہمیں غریب عوام کی کتنی فکر ہے کہ ہم نے جب یہ دیکھا کہ غریب عوام بجلی‘ گیس کے بل ادا کرنے سے قاصر ہوتی جا رہی ہے تب سے ہم نے بارہ بارہ گھنٹے لوڈشیڈنگ کر کے غریب عوام کے بلوں میں پچاس فیصد کمی کر دی۔ اسی طرح جناب عالی! ہم آئی ایم ایف کے حکم کی بدولت مجبور ہو کر بجلی اور گیس کے نرخوں میں صرف تیس فیصد اضافہ کر رہے ہیں لیکن اس اقدام سے عوام کو گھبرانے کی بالکل ضرورت نہیں۔ ہم لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھا کر اٹھارہ گھنٹے کر دیں گے جس سے ان کے آنے والے بلوں کی رقم میں پچاس فیصد اور بچت ہو جائے گی جو پہلے بارہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کے علاوہ ہو گی۔ اس طرح انہیں اس تیس فیصد اضافہ کا پتہ بھی نہیں چلے گا۔
جناب عالی! اب میں اپنی تقریر کا اختتام کرتا ہوں کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ غریب عوام کے نمائندوں کا وقت بہت قیمتی ہے اور ان نمائندوں نے بھی اپنا ذاتی بجٹ عوام کو پیش کرنا ہو گا اس لئے بقیہ بجٹ تحریر کی صورت میں آپ کی میزوں پر رکھ دیا گیا ہے تاکہ آپ اسے پڑھ لیں اور عوام کو آہستہ آہستہ آگاہ کر دیں تاکہ عوام یکدم پریشان نہ ہو جائے۔
(نوٹ:29مئ 2010 کو نواۓ وقت ملتان میں شاۓ ھوا )مستقل نام کالم “ادھر ادھر کی
![]()
٭٭٭٭٭٭
زمرہ متفرق کے تحت شائع ہوا |
