’’خر‘‘ فارمولا

مصنف قیصر خان پتافی بتاریخ 2 جون 2010 – 5:22 پی ایم ۔

qaisar-new1.jpg’’خر‘‘ ایک ایسا جاندار ہے جسے انتھک جاندار کہنا غلط نہ ہو گا۔ ہمارے معاشرے میں اس جانور سے طرح طرح کی بیگار لی جاتی ہے۔ کوئی اس جاندار کو ریڑھی میں جوت کر منوں وزن اس پر لاد کر جگہ جگہ لے جاتا ہے۔ نہ گرمیوں میں اور نہ سردیوں کی راتوں میں اس بیچارے جاندار کو کوئی رعایت ملتی ہے اور اس جانوروں کو خوراک میں سوکھی گھاس کھلائی جاتی ہے اور یہ معصوم جاندار نہ تو اس مشقت سے انکاری ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی دہائی دیتاہے۔ اس کی وضاحت اس لئے ضروری تھی کہ ہمیں اس مضمون میں آگے جا کر اس جاندار کی مثال سے وضاحت کرنا ہے اور وہاں اس مثال سے کوئی غلط مطلب نہ نکالا جا سکے چانچہ آغاز میں ہی یہ وضاحت ضروری تھی۔
چند روز قبل مصطفی کھر صاحب کو ٹیلی ویژن پر ایک انٹرویو پروگرام میں دیکھا۔ اس پروگرام میں انٹرویو لینے والے اور مدمقابل بیٹھے ہوئے دوسرے مہمان نے کھر صاحب سے بحث کر کے وہ حالت کر دی کہ اس پروگرام کو دیکھنے والوں کا خون کھول اٹھا لیکن کمال ہمت ہے مصطفیٰ کھر صاحب کی کہ ان کے سر پر جوں تک نہ رینگی اور وہ پرسکون بیٹھے رہے۔ یہ دیکھ کر ہمیں یقین ہو گیا کہ کھر صاحب طبعی‘ جسمانی و ذہنی طور پر اتنے قومی ہو چکے ہیں کہ اب اگر انہیں خلا کے سفر پر
بھی روانہ کر دیا جائے تو نہ صرف وہ بخیر و عافیت ہو آئیں گے بلکہ انہیں اس سفر پر جانے کے لئے خلا بازوں کی طرح تیاریاں بھی کرنے کی ضرورت نہ ہو گی۔ لیکن یہ سب تو اپنی جگہ پر ہمارے ذہن کو یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ بالآخر کھر صاحب کو یہ باکمال ہمت کہاں سے حاصل ہوئی۔ مگر یہ راز ہم پر تب کھلا جب ہم نے فاطمہ بھٹو صاحبہ کی کتاب Songs of Blood and swrd (خون اور تلوار کے گیت) کا مطالعہ کیا۔ اس کتاب میں فاطمہ بھٹو لکھتی ہیں کہ جب ذوالفقار علی بھٹو جیل میں تھے تو فاطمہ بھٹو کے والد مرتضی بھٹو جو ذوالفقار علی بھٹو کے بیٹے تھے نے مصطفی کھر صاحب کے ساتھ مل کر ایک جدوجہد شروع کی جس میں اندرون و بیرون ملک بارسوخ شخصیات سے رابطے کئے جاتے تاکہ ذوالفقار علی بھٹو کو رہائی دلوائی جا سکے۔ اس جدوجہد کے دوران مرتضی بھٹو اور مصطفی کھر اکثر اوقات اکٹھے ہوتے تھے۔ اسی دوران مصطفی کھر کی ایک ایسی عادت کا انکشاف ہوا جس سے مرتضی بھٹو کو بہت چڑ تھی اور یہ عادت کچھ یوں تھی کہ مصطفی کھر صبح کے وقت نصف گھنٹہ یوگا کرتے تھے
jلیکن چونکہ مصطفی کھر صاحب یہ ورزش برہنہ حالت میں کرتے تھے اس لئے مرتضی بھٹو صاحب کو وہ وقت ہوٹل کے کمرے سے باہر گزارنا پڑتا تھا۔ ایک روز جب کھر صاحب نے مرتضی بھٹو کو کمرے سے باہر جانے کی گزارش کی تو روزانہ کی طرح یہ ہدایت بھی کی کہ ہوٹل کے کمرے کے باہر وہ (TAG) پترا لگائے جائیں جس میں یہ ہدایت درج ہوتی ہے کہ ’’کوئی تنگ نہ کرے‘‘ یہ پترا اس لئے لگایا جاتا ہے کہ ہوٹل کا سٹاف یا کوئی اور دروازے پر دستک تک نہ دے تاکہ اندر موجود فرد کے آرام میں خلل نہ ہو۔ لیکن فاطمہ بھٹو لکھتی ہیں کہ میرے والد مرتضی بھٹو چونکہ کھر صاحب کی روز روز کی اس عادت سے تنگ آ چکے تھے تو انہوں
نے بجائے ’’تنگ نہ کرے‘‘ کے پترے کی جگہ وہ پترا لگا دیا جس میں یہ ہدایت لکھی تھی کہ ’’میرا کمرہ تیار کریں‘‘ جس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہوٹل کی انتظامیہ بلااجازت اس کمرہ میں داخل ہو کر صفائی وغیرہ کر سکتی ہے۔ چنانچہ ہوٹل کی انتظامیہ نے جب صفائی کی ہدایت والا پترا کھر صاحب کے کمرے کے باہر لٹکا دیکھا تو انتظامیہ کی ایک خاتون صفائی کی غرض سے اس کمرے میں بلااجازت اندر داخل ہوئی لیکن وہ خاتون کھر صاحب کو یوگا کرتے دیکھ کر الٹے پاٶں واپس بھاگ گئی اور بقول اس خاتون کے کھر صاحب اس خطرناک چوپائے کی طرح کھڑے تھے جو نہ صرف چھوٹا ہوتا ہے اور اس کا نام لکھنے کی ہمت ہم تو نہیں کر سکتے کیونکہ انگریزی میں تو وہ نام درست جانا جاتا ہے کیونکہ انگریز اس چوپائے سے بہت مانوس ہوتے ہیں لیکن اردو میں اس کا نام کچھ اچھا نہیں جانا جاتا اور دوسری وجہ یہ ہے کہ ہم اس لئے بھی اس جاندار کا نام نہیں لکھ رہے کیونکہ کھر صاحب تو ایک بہت بڑی شخصیت ہیں اور وہ جاندار بہت چھوٹا ہوتا ہے۔ مختصراً یہ کہ ہم مشابہت کے لئے کچھ یوں لکھ دیتے ہیں کہ کھر صاحب کچھ یوں کھڑے تھے جیسے معصوم جاندار ’’خر‘‘ کھڑا ہوتا ہے۔ یہ لکھنے کی ہمت ہم نے اس لئے کی کیونکہ ’’خر‘‘ نہ صرف بڑا جاندار ہوتا ہے اور اس کے ٹھہرنے کا طریقہ اور اس چوپائے کے ٹھہرنے کا طریقہ بالکل ایسا جیسا ہوتا ہے اور ہم پہلے آغاز میں بھی وضاحت کر چکے ہیں کہ یہ کس قدر باہمت جاندار ہے۔ خیر اس ساری تمہید کا مقصد یہ تھا کہ کھر صاحب کی اس ہمت کاجو ہم آج تک دیکھ رہے ہیں اس سب کا راز یہی ہے کہ وہ’’خر‘‘ کی طرح کھڑا ہو کر لباس فطرت میں صبح نصف گھنٹہ یوگا کرتے ہیں۔ ایسا یوگا کرنے سے کھر صاحب کے دل و دماغ بہت مضبوط ہو چکے ہیں۔ اتنے مضبوط کہ ہار جیت کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا اور اب کوئی ان کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔ لیکن ہماری پاکستانی عوام ہے کہ بے چارے ’’خر‘‘ کی طرح محنت کئے جا رہی ہے اور جو حکومت بھی آتی ہے اس عوام کو اپنی گاڑی میں جوت لیتی ہے اور یہ مظلوم عوام کوئی دہائی بھی نہیں دیتی اور ہر ظلم برداشت کئے جا رہی ہے لیکن جب سے ہمیں کھر صاحب کی ان عادات کا پتہ چلا ہے تو ہم نے سوچا کہ عوام کی خاطر یہ فارمولا لکھ ڈالیں کہ بجائے اس معصوم جاندار ’’خر‘‘ کے نقشِ قدم پر چلنے کے ’’کھر صاحب‘‘ سے کچھ سیکھیں اور صبح کے وقت آدھا گھنٹہ ’’خر‘‘ کی طرح کھڑا ہو کر یوگا کیا کریں تاکہ ہم عوام میں بھی کھر صاحب والی ہمت آ جائے۔
(نوٹ:1جون 2010 کو نواۓ وقت ملتان میں شاۓ ھوا )مستقل نام کالم “ادھر ادھر کی

qaisar-01.jpg


زمرہ متفرق کے تحت شائع ہوا |


تبصرہ لکھیے