روحانی علاج
مصنف قیصر خان پتافی بتاریخ 5 جون 2010 – 3:28 پی ایم ۔
(خطوط اور جوابات)
پہلا خط:
eمحترم جناب مولوی قیصر صاحب السلام علیکم! عرض ہے کہ میرے شوہر کچھ عرصہ سے ایک عجیب مرض میں مبتلا ہیں۔ وہ رات کے وقت کمرے کا ایئرکنڈیشنر آن کر کے خود باہر جا سوتے ہیں۔ آپ سوچ رہے ہونگے کہ ہمارے لئے آن کر دیتے ہونگے لیکن خود انہیں باہر سونا پسند ہو گا اس لئے وہ باہر سو جاتے ہونگے۔ لیکن معاملہ کچھ اتنا سیدھا نہیں۔ دراصل گھر میں ریٹائرمنٹ کے بعد صرف میں یعنی ان کی بیوی اور وہ خود ہوتے ہیں۔ ہمارے بچے اب بڑے ہو گئے ہیں اور ملک سے باہر رہتے ہیں مگر میرے شوہر گھر کے تمام ایئرکنڈیشنر چلا دیتے ہیں اور خود باہر جا سوتے ہیں۔ برائے مہربانی اس بیماری کا علاج تجویز کریں۔
بیگم عنایت اسلام آباد
جواب: بی بی یہ مسئلہ کوئی اتنا سنگین نہیں۔ آپ کے خط سے جو معلومات حاصل ہوئیں اس سے لگتا ہے کہ آپ کے شوہر سرکاری ملازم رہ چکے ہیں اور ضرور کسی اچھے عہدے سے ریٹائر ہوئے ہونگے۔ کیونکہ آپ یہ خط اسلام آباد سے لکھ رہی ہیں۔ میرا تجزیہ یہ کہتا ہے کہ آپ کے شوہر عنایت صاحب نے قدرت کی عنایتوں پر انحصار کرنے کی بجائے خود ہی ان نعمتوں کا زبردستی حصول جاری رکھا۔ یعنی رشوت کی صورت میں اور اب چونکہ آپکے بچے خود مختار ہو کر آپ کو چھوڑ گئے ہیں تو آپ کے شوہر اس حرام کی کمائی کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں۔ اسی لئے وہ اپنی اصل حیثیت کے مطابق خود باہر سوتے ہیں لیکن ایئرکنڈیشنر آن کر کے سوتے ہیں تاکہ بجلی کا بل آتا رہے اور وہ رشوت کی رقم جو سرکار کے حق پر ڈاکہ کی صورت میں عنایت صاحب کماتے رہے ہیں وہ بلوں کی صورت میں اور اس بل پر ٹیکس کی صورت میں وہ دولت واپس کر دیں۔ یہ ایک اچھا طریقہ ہے جسے یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ یعنی عزت بھی خراب نہ ہو اور دولت حکومت کو واپس لوٹا دی جائے۔ پھر تو یہ کرنا آسان ہو گا۔ میرا آپ کو مشورہ ہے کہ انہیں ایسا کرنے سے نہ روکیں لیکن اگر آپ پھر بھی چاہتی ہیں کہ یہ ایسا کرنے سے باز رہیں تو پھر میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ روزانہ سونے سے پہلے ایک سو کا نوٹ عنایت صاحب کے ہاتھ پر رکھ کر انکی ’’مٹھی گرم‘‘ کر دیا کریں اور بدلہ میں انہیں یہ کام کرنے کو کہیں کہ آج رات کو ایئرکنڈیشنر نہ چلائیں۔ آپ دیکھیں گی کہ وہ یہ ’’نذرانہ‘‘ قبول کر کے ایئرکنڈیشنر بند کر کے سوئیں گے کیونکہ ایک بار رشوت لینے کی عادت پڑ جائے تو چھوٹنا محال ہوتی ہے۔ لیکن یہ کام کرنے کے بعد آپ استغفار کی تسبیح سارا دن پڑھتے رہا کریں تاکہ آپ کے رشوت دینے اور ان کے لینے کے گناہوں میں کمی آ سکے اور اس دولت سے غریبوں کو کھانا کھلانا نہ بھولیں۔
دوسرا خط:
محترم مولوی قیصر صاحب! سلام کے بعد عرض ہے کہ میں پیپلز پارٹی کا ایک ادنیٰ سا کارکن ہوں۔ ساری زندگی پارٹی کی خدمت کرتا آیا ہوں۔ پڑھا لکھا بھی ہوں۔ میں نے ایم اے اردو کیا ہوا ہے لیکن آج تک پیپلز پارٹی نے مجھے الیکشن لڑنے کی ٹکٹ نہیں دی اور نہ یہ کوئی اور مفاد ملا۔ آج تک مجھ سے خدمت ہی خدمت لی جا رہی ہے لیکن جمشید دستی جو ایک جعلی ڈگری کے ساتھ الیکشن لڑے تھے کو اس بار دوبارہ پارٹی نے ٹکٹ دے دیا بلکہ وزیراعظم خود ان کی انتخابی مہم میں شریک ہوئے اور یہ دعویٰ کیا کہ جمشید دستی کو ٹکٹ دے کر پیپلز پارٹی نے یہ ثابت کر دیا کہ پیپلز پارٹی وڈیروں کی پارٹی نہیں بلکہ عام آدمی کی جماعت ہے اسی لئے جمشید دستی جیسے عام آدمی کو ٹکٹ دیا گیا۔ مولوی صاحب یہ بات مجھ کو بہت بے چین کئے ہوئے ہے کہ مجھ جیسے سیدھے صاف اور محنتی آدمی کو تو پارٹی ٹکٹ نہیں دیتی لیکن جمشید دستی جو نہ صرف جعلی ڈگری رکھتا ہے بلکہ اس پر کئی ایف آئی آر بھی کٹی ہوئی ہیں کو پیپلز پارٹی نے عام آدمی کہہ کر ٹکٹ دے دیا۔ مولوی صاحب آخر ایسا کیوں ہے۔ برائے مہربانی جواب دے کر میری الجھن حل کریں۔ شکریہ
غلام رازق مظفرگڑھ
‘ جواب: بیٹا آپ نے جو سوال مجھ سے کئے ہیں۔ بہتر ہوتا کہ ان کے جواب آپ پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے پوچھتے۔ لیکن آپ کی بے چینی کو مدنظر رکھتے ہوئے میں اپنی سمجھ کے مطابق جواب بھی لکھ رہا ہوں اور علاج بھی۔ آپ نے جو جمشید دستی کو ٹکٹ دینے کی بات کی اور اس کے مقابلہ میں آپ کو ٹکٹ نہ ملنے کی بات کی تو اس کا جواب بڑا سادہ اور آسان ہے۔ اگر آپ نے وزیراعظم کی گجرات میں کی گئی حالیہ تقریر غور سے سنی ہوتی تو آپ کو اس میں اپنے سوال کا جواب مل گیا ہوتا۔ اس تقریر میں محترم وزیراعظم یوسف رضا گیلانی صاحب نے فرمایا تھاکہ وہ یتیم ہیں۔ جس کے ماں باپ نہیں بلکہ یتیم وہ ہے جو پڑھا لکھا نہیں۔ تو چونکہ جمشید دستی پڑھے لکھے نہیں اس لئے وزیراعظم کے کہنے کے مطابق وہ یتیم ہیں اور یتیموں کا خیال رکھنے کی تو ہمارا مذہب بھی تاکید کرتا ہے۔ بس شاید اسی لئے آپ پر جمشید دستی صاحب کو ترجیح دی گئی ہے۔ آپ بھی صبر سے کام لیں کیونکہ اب آپ پڑھ لکھ گئے ہیں اس لئے اب آپ یتیم تو نہیں بن سکتے لیکن آپ ناامید نہ ہوں اور آپ اپنے نام کے اندر موجود اللہ پاک کے نام ’’یارزاق‘‘ کا ورد کثرت سے کیا کریں اور اللہ پاک سے اچھی امید رکھیں کہ اللہ پاک آپ کے رزق میں اضافہ فرمائے اور آپ جلد دولت مند بن جائیں گے اور پھر آپ کی پہچان بھی وڈیروں میں ہو گی اور تب پیپلز پارٹی آپ کو وڈیروں کی کیٹیگری والی ٹکٹ ضرور دے گی۔
تیسرا خط:
محترم جناب مولوی قیصر صاحب! آپ کی خدمت میں آداب بجا لاتی ہوں۔ عرض ہے کے میرے والد صاحب کچھ عجیب بیماری میں مبتلا ہو گئے ہیں وہ سرکاری ملازمت کے بعد سیاستدان بن گئے ہیں اور اب ماشاء اللہ ہر دور میں ایم این اے بن جاتے ہیں اور حالات کے مطابق سیاسی جماعتیں تبدیل کرتے رہتے ہیں لیکن اس دفعہ چونکہ پی پی پی کا سورج چڑھتا نظر آتا تھا تو وہ بروقت پی پی میں شامل ہوگئے تھے اور اب بھی وہ ایک علیٰ عہدہ پر فائزر ہیں لیکن جب بھی وہ پیپلز پارٹی کی میٹنگ یا جلسہ کو اٹینڈ کرنے گئے اور وہاں نعرے بازی کے وقت جب نعرے لگے کہ زندہ ہے بھٹو زندہ ہے تو یہ نعرے سن کر میرے والد وہاں سے بھاگ آتے ہیں جس پر پیپلز پارٹی کے ممبران کو سخت اعتراض ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اس رات کو سوتے وقت وہ زور زور سے یہ چیختے ہوئے جاگ جاتے ہیں ’’کیسے‘‘ ’’آ’خر کیسے‘‘ چونکہ اس بیماری کا کوئی طبی علاج ہمیں نہیں مل سکا اس لئے برائے مہربانی روحانی علاج بتا کر ثواب دارین حاصل کریں۔ شکریہ
بختاور راولپنڈی
جواب: بیٹا آپ کے خط میں معلومات ادھوری محسوس ہو رہی ہیں۔ آپ کو بتانا چاہیے تھا کہ آپ کے والد ایم این اے بننے سے پہلے کس ملازمت سے منسلک تھے بظاہر تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ آپ کے والد یا تو تارہ مسیح ہیں یا پھر جنرل ضیاء الحق کے قریبی ساتھیوں میں سے۔ اسی لئے وہ جب بھی یہ نعرہ سنتے ہیں کہ ’’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے‘‘ تو وہ یہ سمجھ کر شاید بھٹو صاحب واقعی زندہ ہیں اور کہیں سے آ نا جائیں تو وہاں سے نو دو گیارہ ہو جاتے ہیں اور اسی خوف کے اثر سے وہ نیند میں یہ سوال کرتے ہیں کہ ’’کیسے‘‘ یعنی یہ کیونکر ممکن ہے کہ بھٹو صاحب زندہ ہوں کیونکہ ان کے سامنے شاید بھٹو صاحب کو رخصت کیا گیا ہو گا۔ اب آپ ایسے کریں کہ والد صاحب کو یہ تفصیل بتائیں کہ بھٹو صاحب کے لئے یہ نعرے محض کارکنوں میں جوش پیدا کرنے کے لئے لگائے جاتے ہیں کہ بھٹو صاحب پیپلز پارٹی والوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ اس لئے ان نعروں کو حقیقت نہ سمجھیں اس کے علاوہ والد صاحب کو کہیں کہ پانچ وقت کی نماز ادا کیا کریں اور استغفار کثرت سے کیا کریں اور اگر پھر بھی گھبراہٹ نہ جائے تو تیراکی میں استعمال ہونے والے پلاسٹک کے کان بند کرنے والے پرزے جیب میں رکھا کریں اور جب یہ نعرہ لگنے لگے تو کان فوراً بند کر لیا کریں
(نوٹ:5جون 2010 کو نواۓ وقت ملتان میں شاۓ ھوا )مستقل نام کالم “ادھر ادھر کی
![]()
زمرہ متفرق کے تحت شائع ہوا |
