سزائے موت

مصنف قیصر خان پتافی بتاریخ 8 اکتوبر 2008 – 12:37 پی ایم ۔

?کچھ عرصہ قبل ٹیلی ویژن کے ایک نجی چینل کے پروگرام ’’جوابدہ‘‘ کے دوران پروگرام کے میزبان نے ریٹائرڈ جسٹس نسیم حسن شاہ سے پوچھا کہ ’’کیا یہ سچ ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو صاحب کے کیس میں اتنی گنجائش موجود تھی کہ وہ موت کی سزا سے بچ سکتے‘‘؟ تو جسٹس نسیم حسن شاہ نے یہ جواب دیا کہ ’’ہاں یہ گنجائش موجود تھی‘‘ تب اس پروگرام کے میزبان نے پھر سوال کیا کہ اگر کچھ بچت کی گنجائش موجود تھی تو پھر انہیں یہ سزائے موت کیوں دی گئی تھی جبکہ آپ خود بھی اس کیس کا فیصلہ کرنے والے ججوں میں سے تھے‘‘؟ جسٹس صاحب نے جواب دیا کہ ’’بھٹو صاحب نے ہمیں ناراض کر دیا تھا‘‘؟
یہ الفاظ سنتے ہی میرے پاٶں کے نیچے سے زمین سرک گئی اور میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ خدارا یہ کیسی عدالت ہے اور کیسے منصف؟ کہ اگرچہ ایک آدمی کو موت کی سزا سے بچایا جا سکتا تھا لیکن اسے صرف اس لئے سزائے موت دی گئی کہ موقعہ پر فیصلہ کرنے والے ججوں کو اس شخص نے ناراض کر دیا تھا یا دوسرے الفاظ میں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ اس شخص کو اس لئے پھانسی دی گئی کیونکہ فیصلہ دینے والے جج اس سے ناراض تھے۔ کیا یہی معیار ہوتا ہے کسی ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے اعلیٰ ترین ججوں کا؟ اور یہ بات مزید حیران کن ہو جاتی ہے کہ جب یہ اعتراف جسٹس نسیم حسن شاہ نے عوام کے سامنے ٹیلی ویژن پر کیا تب بھی کسی سیاست دان یا کسی جوڈیشل کونسل نے اس جج کے خلاف کچھ نہیں کیا۔ کوئی قانونی چارہ جوئی نہیں کی گئی …؟ اس طرح کے حیران کن واقعات سن کر تو محسوس ہوتا ہے کہ واقعی اس ملک میں سزائے موت ہونی ہی نہیں چاہیے۔ جیسا کہ ہمارے ملک کے وزیر قانون فاروق نائیک صاحب نے سربجیت سنگھ (ہندوستانی جاسوس جو کہ بم دھماکے کرنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا) سے جیل میں ملاقات کے بعد بیان دیا کہ اس سیاسی حکومت نے اصولی فیصلہ کر لیا ہے کہ سزائے موت کو اس ملک میں ختم کر دینا چاہیے۔ موازنہ کیا جائے تو عجیب سا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے ملک کا مقبول لیڈر جو کہ کسی حد تک موت کی سزا سے بچ سکتا تھا اسے تو سزائے موت دے دی گئی اور کئی معصوم بے گناہ جانوں کا قاتل جو کہ دراصل ایک غیر ملکی جاسوس اور دشمن بھی ہے اس کو بچانے کی خاطر سزائے موت کو ختم کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں یعنی پورا قانون اس شخص کے لئے بدلا جا رہا ہے جو خود ایک ایسے ملک کا شہری ہے جہاں سے ہمیشہ ہمارے قیدیوں کی لاشیں ہی واپس آتی ہیں یا پھر ان بے گناہ قیدیوں پر اتنے مظالم ڈھائے جاتے ہیں کہ سپاہی مقبول حسین کی طرح بغیر کسی جرم کے صرف پاکستانی ہونے کی بنا پر اس کو چالیس سال ہندوستان کی جیلوں میں اس قدر صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑا کہ وہ اپنا ذہنی توازن ہی کھو بیٹھا۔ ایک معروف کالم نگار کا کالم ’’موت‘‘ پڑھنے کے بعد یہ محسوس ہوتا ہے کہ شاید ایک بار سزائے موت کے فیصلے کے بعد موت کے گھاٹ چڑھنا مشکل تو ہو گا لیکن اس اذیت سے کم ہو جو اس انتظار سے ملتی ہے کہ سزائے موت آج ملنی ہے یا کل؟ اور کبھی کبھی تو اس شش و پنج میں برسوں بیت جاتے ہیں۔ روز بروز خون خشک ہو اور اس پر جیل کی رہائش ایسی کہ جانور بھی وہاں نہ رہ پائیں غرضیکہ انتہائی تکلیف دہ وقت ہو۔ جب سے یہ بات فضا میں گردش کر رہی ہے کہ اس ملک سے سزائے موت کو ختم کیا جا رہا ہے تب سے مجھے کئی لوگوں نے کہا کہ اس بارے میں لکھوں کہ یہ تو شریعت کے منافی ہے۔ تب میرا بھی ان صاحبان سے ایک ہی سوال ہوتا تھا کہ کیا اس ملک میں کچھ بھی ایسا ہو رہا ہے کہ جسے شریعت کے عین مطابق کہا جا سکے۔
ہمارا وطن پاکستان اسلام کے نام پر بنایا گیا لیکن شاید اس وقت ایک بھی ایسا عمل ہمارے ملک میں نافذ نہیں جسے ہم شریعت کے عین مطابق کہہ سکیں۔ میں ذاتی طور پر اس بات کا قائل ہوں کہ خواہ کئی گناہگار سزا سے بچ جائیں کیونکہ آخر کار قیامت والے دن اللہ کی عدالت میں تو وہ اپنے انجام تک پہنچائے جائیں گے لیکن ایک بھی بے گناہ سزا نہ پائے کیونکہ اس ایک بے گناہ کی آہ پوری قوم و نظام کو تباہ کرنے کے لئے کافی ہے لیکن سزائے موت کے قانون کو ختم کرنے کے بارے میں میرا نقطہ نظر صحیح معنوں میں صرف ایک شخص کی ملاقات سے تبدیل ہوا۔
اس لئے میں نے یہ لازم سمجھا کہ اس ساٹھ سالہ شخص نے مجھے جو اپنی غمگین سچی دکھ بیتی سنائی وہ آپ تک بھی پہنچاٶں۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ اس بوڑھے آدمی کا بیٹا کالج میں پڑھتا تھا اور دوران تعلیم اس کے دو ہم جماعتوں نے اس کی گاڑی ہتھیانے کی خاطر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ یہ گاڑی جو اس کے باپ نے اسے کالج آنے جانے کے استعمال کے لئے بڑے چاٶ سے لے کر دی تھی لیکن اس بدنصیب باپ کو کیا پتہ تھا کہ یہی چیز اس کے بیٹے کی زندگی کی دشمن بن جائے گی۔ آج اس کے بیٹے کو قتل ہوئے تقریباً 9 سال گزر چکے ہیں لیکن اس کی آنکھوں میں آنسو اس طرح تازے تھے جیسے نو سالوں سے اس شخص کو روز قتل کیا جاتا ہو۔ ایک لمبی آہ کھینچ کر اس آدمی نے بتایا کہ اس نے اپنے بیٹے کو کتنی ہی مشکلات اور تنگ دستی کے زمانے میں پالا پوسا‘ اسے تعلیم دلوائی۔ اس نے بتایا کہ اس کا بیٹا بچپن میں بیمار ہوتا تو صبح پانچ بجے وہ اپنے بیٹے کو لے کر ڈاکٹر کے گھر کے دروازے پر جا بیٹھتا تھا کئی گھنٹوں بعد جب ڈاکٹر نکلتا تو بچے کو چیک کرتا تھا کیونکہ جس قصبے میں وہ رہتا تھا وہاں کوئی اور ڈاکٹر نہ تھا اور جب علاج سے بچہ صحت مند ہو جاتا تو بچے کو ہنستا مسکراتا کھلکھلاتا دیکھ کر میں اپنی زندگی کی ساری مصیبتیں تکلیفیں بھول جایا کرتا تھا۔ پر 9 سال قبل میرے بیٹے کے دو ظالم سفاک ہم جماعتوں نے اسے ایک کار کی خاطر قتل کر دیا اور میری ساری زندگی کی محنت مٹی میں ملا دی۔ اگر ان کو گاڑی چاہیے تھی تو وہ مجھ سے مانگ لیتے میں اپنا سب کچھ ان کو دے دیتا لیکن وہ میرے بیٹے کی جان نہ لیتے اور اس سے بڑا ظلم کیا ہو گا کہ وہ لوگ آج بھی زندہ ہیں اور پاکستانی عدالتی نظام کے باعث وہ اپنے انجام تک نہیں پہنچ سکے۔ وہ تو مجرم ہیں اور اپنے بچاٶ کی خاطر پیسہ خرچ کر رہے ہیں لیکن میرا تو پہلے ہی اتنا بڑا نقصان ہو چکا ہے جو ناقابل تلافی ہے اس کے باوجود مجھے انصاف کے حصول کی خاطر روز وکیلوں کی فیس کی صورت میں بے تحاشہ پیسہ خرچ کرنا پڑ رہا ہے جو کماتا ہوں وہ سب لگ جاتا ہے اور جمع پونجی تو پہلے ہی لگ چکی ہے کبھی تو ناامید ہو جاتا ہوں اور سوچتا ہوں کہ کہاں ٹکریں مار رہا ہوں یہاں سے انصاف نہیں ملنے والا پھر مجھے میرے مظلوم بیٹے کی میت آنکھوں میں آ جاتی ہے تو خون کھول اٹھتا ہے اور میں پھر انصاف کی امید لئے عدالت پہنچ جاتا ہوں۔ مجھے ہر وقت دھمکیاں بھی ملتی رہتی ہیں اور مجھ پر دباٶ ڈالا جاتا ہے کہ اپنا کیس واپس لے لو ورنہ تمہارا اور تمہارے باقی خاندان کا بھی وہی حال ہو گا جو تمہارے بیٹے کا ہوا۔
ان سب باتوں نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ کیا واقعی ہی اس ملک سے سزائے موت کے قانون کا خاتمہ ہونا چاہیے یا نہیں۔ دراصل اس ملک سے سزائے موت کے خاتمے سے بہتر انصاف کرنے والے ججوں کو اور عدالتی نظام کو درست کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کوئی جج یہ الفاظ استعمال نہ کر سکے کہ
مجرم نے ہمیں ناراض کر دیا تھا اس لئے اسے سزائے موت دے دی گئی اور نہ ہی کوئی بم دھماکہ کرنے والا ہندوستان کا جاسوس باعزت رہا کر دیا جائے اور نہ ہی کوئی بوڑھا باپ اپنے جوان بیٹے کے قاتلوں کو انجام تک پہنچانے کی خاطر نو سالوں سے عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹاتا پھرے


زمرہ متفرق کے تحت شائع ہوا |


ایک تبصرہ برائے 'سزائے موت'

  1. وحید مھران پتافی میرپور ماتھعلو لکھتے ہیں:

    اآپ کا کالم پڑھا بھت اچھا لکھا ھے دراول یھ جج و صاحبان ذوالفقار ہلی بھٹہ کو نھین بلکھ پوری سندھی قہم کہ قتل کرنا چاھتے تھے۔

تبصرہ لکھیے