ذہنی دباؤ

مصنف قیصر خان پتافی بتاریخ 9 نومبر 2008 – 11:27 اے ایم ۔

دیکھا جائے تو انسان کا ایک بچہ بھی بڑی خوفناک بھینس کو پکڑ کر کھینچ لیتا ہے یا پھر اسے قابو میں کر کے اس کا دودھ نکال سکتا ہے۔ پر آخر کیا چیز ایسی ہے کہ اتنی بڑی بھینس ایک چھوٹے سے بچے کے قابو میں باآسانی آ جاتی ہے عام طورپر لوگ کہتے ہیں کہ عقل کی بنیاد پر ایسا ہوتا ہے لیکن اگر ہم انسان کا موازنہ جانور سے کرنے کی بجائے جانور کا جانور سے کریں تو شاید عقل کو بنیاد بنائے بغیر موازنہ کیا جا سکے اگر ہم جنگل کی دنیا پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ ایک شیر جو خود جسامت میں گھوڑے‘ گدھے‘ بیل یا زرافے سے چھوٹا ہوتا ہے لیکن وہ ان جانوروں پر باآسانی قابو پا لیتا ہے اور منٹوں میں ان کو ہلاک کر کے کھا جاتا ہے۔ اگر ہم بیل سے شیر کا موازنہ کریں تو بیل کے پاس بھی شیر کی طرح دانت موجود ہیں بیل طاقت میں بھی شاید شیر سے کم نہ ہو اور جسامت میں تو شیر سے بیل بڑا ہی ہوتا ہے اور جہاں تک بات رہی شیر کے پنجوں کی تو بیل کے پاس وہ موجود نہیں ہوتے لیکن بدلے میں بیل کے پاس دو بڑے بڑے نوکیلے سینگ ہوتے ہیں گو شیر سے بیل بھی کچھ کم نہیں لیکن پھر بھی جب جنگل میں بیل کسی شیر کو دیکھتا ہے تو وہاں سے دوڑ لگا دیتا ہے شیر اس کا پیچھا کرتا ہے اور باآسانی اسے اپنا شکار بنا لیتا ہے آخر ایسی کیا چیز ہے کہ ہمیشہ شیر ہی بیل کا شکار کرتا ہے کبھی یہ نہیں سنا نہ دیکھا کہ بیل نے کسی شیر کا شکار کیا ہو۔
میرا قیاس کہتا ہے کہ ہو نہ ہو دنیا کا یہ کھیل صرف ذہنی دباؤ کا ہے جو بڑا بن گیا اور جس نے اپنے آپ کو طاقت ور ثابت کر دیا تو دوسرا چاہے اس سے طاقت میں زیادہ ہی کیوں نہ ہو اس سے ڈرتا ہے۔
دنیا میں بھی امریکہ جیسی طاقتیں اس لئے راج کر رہی ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے آپ کو دوسروں سے زیادہ طاقتور ثابت کر دیا ہے جیسا کہ جنگ عظیم میں امریکہ نے جاپان پر ایٹم بم پھینک کر ثابت کر دیا۔ یہ مثال بالکل ایسی ہی ہے کہ جیسے کوئی کھلاڑی کھیل کے دوران صرف اس لئے دوسرے کھلاڑی سے شکست کھا جائے کہ سامنے والا بہترین کھلاڑی کے طورپر مشہور ہو اس کی زندہ مثال موجود ہے کہ لان ٹینس کا کھلاڑی فیڈرر بہت اچھا کھلاڑی ہے لیکن جب دنیا کا نمبر ایک کھلاڑی نڈال اس کے مدمقابل ہوتا ہے تو اکثر وہ اس سے مار کھا جاتا ہے جیسا کہ ومبلڈن کے فائنل میں ہوا لیکن وہی فیڈرر امریکن اوپن ٹینس چیمپئن شپ میں اینڈی مرے نامی کھلاڑی کو فائنل میں باآسانی شکست دے کر چیمپئن شپ جیت گیا جس کھلاڑی نے سیمی فائنل میں دنیا کے نمبر ایک کھلاڑی نڈال کو شکست دی تھی اب اگر اسی مثال پر غور کیا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ اگر کوئی اپنا لوہا منوا چکا ہو تو اس کامدمقابل عموماً ذہنی دباٶ کا شکار ہو جاتا ہے اور شکست کو کھیل کی ابتداء میں ہی تسلیم کر لیتا ہے۔
ہم پاکستانی امریکیوں سے تقریباً ہر شے میں بہتر ہوں گے لیکن صرف ذہنی دباؤ کا شکار ہیں ہم پاکستانیوں کی علم کی یہ انتہا ہے کہ ہمیں اپنے ملک کے سیاسی حالات سے تو آگاہی ہوتی ہی ہے لیکن ہمیں دنیا کے معاملات میں بھی بہت تشویش رہتی ہے جسا کہ ہمیں افغانستان‘ عراق اور فلسطینیوں کی ہر وقت فکر رہتی ہے جب امریکی یا برطانوی الیکشن ہوتے ہیں تو ہر محفل‘ ہر مقام جہاں چار لوگ اکٹھے ہوں وہاں صرف یہی باتیں ہو رہی ہوتی ہیں کہ یہ جیتا کہ وہ۔ اوباما بہتر ہے یا مکین لیکن اگر ہم امریکی عوام سے دنیا کے بارے میں چند سوالات کریں تو پتہ چلتا ہے کہ انہیں نہ تو دنیا کی فکر ہے اور نہ علم۔ ان کو تو صرف اپنی ذات کی فکر ہوتی ہے امریکیوں کی اکثریت ایسے ہی ہیں چند روز قبل مجھے ای میل کے ذریعے کسی نے ایک ویڈیو بھیجی اور اس ای میل میں یہ الفاظ تحریر تھے۔
’’مجھے یہ وڈیو دیکھنے کے بعد پتہ چلا ہے کہ امریکیوں نے دوسری بار بش کو ووٹ کیوں ڈالے جبکہ انہیں علم تھا کہ وہ کتنا ظالم آدمی ہے‘‘
جب میں نے وہ وڈیو دیکھنا شروع کی تو معلوم ہوا کہ یہ پروگرام امریکہ کے ایک نجی چینل نے بنایا تھا جس میں پروگرام کے میزبان نے مائیک پکڑا ہوا تھا اور امریکہ کی سڑکوں پر پھر رہا تھا اور عوام سے ہلکے پھلکے سوالات پوچھ رہا تھا حیرت انگیز بات یہ تھی کہ وہاں پر کسی بھی امریکی کو ان سوالات کے جوابات معلوم نہیں تھے سوال کچھ اسی قسم کے تھے کہ اسرائیل کا مذہب کیا ہے کسی نے جواب دیا کہ اسرائیلی اور کسی نے کہا مسلم‘ عراق اور پاکستان کا پوچھا گیا تو معلوم ہوا کہ انہیں پتہ ہی نہ تھا کہ پاکستان اور عراق دنیا کے کسی خطہ میں ہیں۔ امریکی بے چارے برائلر مرغیوں کی طرح امریکہ میں رہتے ہیں انہیں اپنے کھانے پینے اور اپنی تفریح کے علاوہ اور کوئی فکر نہیں وہ اس پر یقین رکھتے ہیں کہ جو انہیں دکھایا جاتا ہے صرف چند امریکی ایسے ہیں جو عقل و علم کی بنیاد پر امریکہ پر راج کرتے ہیں۔
مختصراً یہ کہ ہم پاکستانی وسائل کے ہوتے ہوئے اور افرادی قوت کے موجود ہوتے ہوئے کیوں اس بھینس کی طرح امریکیوں کے قابو میں رہتے ہیں کیونکہ ہم صرف ذہنی دباٶ میں آچکے ہیں ہمیں اب سوچنا ہے کہ اوباما ہو یا مکین ہماری ترقی کے لئے کسی نے کوشش نہیں کرنی وہ صرف اپنے مفاد کی خاطر ہمارا استعمال کرتے ہیں لیکن ہمیں اب امریکیوں کی غلامی سے نکلنے کے لئے اپنی ذہنی کیفیت کو تبدیل کرنا ہے اگر اس ذہنی دباٶ کی کیفیت سے نکلنا ہے جو ہمارے دل و دماغ پر حاوی ہو چکی ہے ہمیں امریکی غلامی سے نکلنا ہے اور ان کے احکامات سے انکار کرنے کی ہمت پیدا کرنی ہے۔ کیونکہ اگر امریکہ اتنا ہی طاقتور ہوتا تو ویت نام میں شکست نہ کھاتا اور اسامہ بن لادن کو گرفتار کرنے میں تو ضرور کامیاب ہو جاتا لیکن ان سے یہ بھی نہ ہو سکا اسی طرح امریکہ نے ایران کا کیا بگاڑ لیا لیکن ہم پاکستانیوں نے امریکہ کے خوف سے اپنا سب کچھ برباد کر لیا کہ کہیں وہ ہمیں پتھر کے دور میں واپس نہ پہنچا دے ہم ایٹمی اثاثوں کی فکر میں لگے رہے جو کہ ہماری طاقت تھے یہ تو وہی بات ہوئی کہ کوئی شخص بندوق خرید کر لائے تاکہ اگر چور یا ڈاکو آگئے تو یہ کام آئے گی لیکن جب ڈاکو آئے تو وہ شخص اس بندوق کو استعمال کرنے کی بجائے اسے چھپاتا پھرے کہ ڈاکو اس بندوق کو لوٹ کر نہ لے جائیں۔
ہمیں اب فیصلہ کرنا ہے کہ ہمیں ان کالے امریکن غلاموں کی طرح آزادی لینی ہے جو آج اس قابل ہو چکے ہیں کہ انہی کی نسل آج امریکہ پر حکمران ہونے جارہی ہے یا پھر اس بھینس کی طرح رہنا ہے جسے کوئی بچہ بھی قابو میں کر لیتا ہے۔

(نوٹ: 6نومبر 2008 کو نواۓ وقت ملتان میں شاۓ ھوا )مستقل نام کالم “کچھ کھنا ھے”


زمرہ متفرق کے تحت شائع ہوا |


ایک تبصرہ برائے 'ذہنی دباؤ'

  1. عبدالحفیظ خاں لکھتے ہیں:

    آپ نے اپنے اس مضمون میں ایک ایسی حقیقت کو آشکارا کیا ہے جو وقت کا ایک اہم تقاضا ہے۔ کاش ہمارے ملک کے صاحب اقتدار لیڈر اپنی قوم کو امریکہ کے چنگل سے نجات دلانے کے لئےاس پر عمل پیرا ہو سکیں۔

تبصرہ لکھیے