خواب میں حقیقت

مصنف قیصر خان پتافی بتاریخ 15 دسمبر 2008 – 12:18 پی ایم ۔

اس دفعہ عیدالاضحی یعنی بکرا عید ہمارے لئے ذرا مختلف تھی اس سے پہلے بڑی عید پر قربانی کےلئے بکرے ہم اپنے گاٶں سے پلے ہوئے منگواتے تھے اور اس لئے ہمیں کوئی مشکل نہیں پیش آتی تھی نہ ہی مہنگے سستے کی فکر لاحق ہوتی لیکن اس بار چند ایک الجھنوں کے سبب ہم ایسا نہ کر سکے اس لئے جیسے جیسے بقر عید قریب آتی گئی تو ہماری بے چینی بڑھتی گئی کہ ہم نے ’’ابھی تک‘‘ بکرے نہیں خریدے۔ دراصل بکروں کی خریداری اس لئے موخر کئے رکھی کیونکہ ہمارے دوست احباب نے مشورہ دیا تھا کہ اگر ’’عید کی رات‘‘ کو بکرے خریدو گے تو آدھی قیمت میں ملیں گے پھر ’’ وہ رات‘‘ بھی آ گئی لیکن اس رات کو بارش شروع ہو گئی اور ہم بکرے خریدنے نہ جا سکے تب تو ہماری بے چینی حد سے بڑھ گئی اور عجیب و غریب خیالات دماغ میں آنے لگے کہ اگر صبح بھی بارش جاری رہی اور بکرے نہ ملے تو قربانی کیسے کریں گے ہم تو پہلے ہی ٹی وی پر حالات حاضرہ کی خبریں سن کر پریشان رہتے ہیں کہ یہ مزید پریشانی ہمارے سر ہو گئی۔ عام طور پر ہم رات کو خاصا دیر سے سوتے ہیں لیکن صبح عید تھی اس خاطر ہم جلدی سو گئے۔
صبح نماز عید پڑھنے کے بعد ہم نے فوری طور پر بکر منڈی کا رخ کیا۔ خدا کا شکر ادا کیا کہ بارش تھم چکی تھی لیکن جب بکر منڈی پہنچے تو پوری منڈی کیچڑ سے لت پت تھی ۔ ہمارے بھائی صاحب نے تو مشورہ دیا کہ واپس چلتے ہیں اور کل پھر آئیں گے لیکن ہماری بے آرامی اس حد تک بڑھ چکی تھی کہ ہم نے واپس جانے سے انکار کر دیا اور بھائی سے کہا کہ آپ بے شک گاڑی میں تشریف رکھیں لیکن میں تو بکرا لئے بغیر واپس نہیں جاٶں گا پھر میں نے شلوار اوپر کی اور آٶ دیکھا نہ تاٶ ’’ منڈی محاذ‘‘ میں گھس گیا۔ مختلف بکرے دیکھے لیکن کچھ بکرے پسند نہ آئے اور اور کچھ کی قیمت آخر جب ہم دلبرداشتہ ہو کر بھائی کے کہے کو درست مان کر واپس جانے کےلئے مڑے تو پیچھے سے کسی نے میرا نام لے کر آواز لگائی میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو کوئی ایسا شخص نظر نہ آیا جو کہ مجھ سے مخاطب ہو۔ میں نے وہم سمجھا اور واپس چل پڑا۔ اتنے میں پھر آواز آئی ’’قیصر پتافی صاحب ذرا بات تو سنیں‘‘ میرے قدم خودبخود رک گئے اور پیچھے مڑ کر دیکھا تو اس بار بھی کوئی نہ ملا۔ میں نے سمجھا کہ شاید کوئی مذاق کر رہا ہے میں نے زور سے کہا بھائی کون مذاق کر رہاہے۔ اتنے میں میرے پاس کھڑے ایک بکرے نے کہا کہ ’’قیصر صاحب‘‘ کوئی مذاق نہیں کر رہا یہ میں ہوں جو آپ سے مخاطب ہوں۔ میں حیران و پریشان رہ گیا کہ بکرا کیسے بول رہا ہے میں نے فوراً بکرے سے پوچھا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ تم مجھ سے باتیں کر رہے ہو؟ اس بکرے نے کہا کہ آپ پہلے مجھے میرے مالک سے خرید کر قربانی کےلئے لے چلیں تب میں آپ کو تفصیلی بتاتا ہوں۔ میں نے فوراً اس کے مالک سے قیمت پوچھی اور بغیر کوئی رعایت کروائے فوری پیسے دئیے اور اس بکرے کو گھر لے آیا اور اس سے سوال کیا کہ آخر اب تو بتاٶ کہ کیا ماجرا ہے؟
اس نے کہا کہ آپ پریشان نہ ہوں دراصل میں ایک پڑھا لکھا بکرا ہوں اس لئے آپ کی زبان بول سن سکتا ہوں۔ میں نے سوال کیا کہ تمہیں کس نے پڑھایا لکھایا؟ تو اس نے جواب دیا کہ میں دراصل ایک یونیورسٹی کے پروفیسر صاحب کے گھر میں موجود بکری کے ہاں پیدا ہوا اور وہ پروفیسر صاحب اپنے بچوں کی تعلیم پر خوب توجہ دیتے تھے۔ ان کے بچوں کے ساتھ کھیلتے بڑھتے میں بھی پڑھ لکھ گیا۔ اب کی بار میں نے اس سے پوچھا کہ پہلے تو کبھی اس طرح نہیں سنا کہ ایک بکرا تعلیم یافتہ ہو یہ انہونی کیا ہے۔ اس نے جواب دیا کہ صاحب مجھ سے سوال کرنا بند کرو اور یہ بتاٶ کہ پاکستان نے لشکر طیبہ کے خلاف کوئی آپریشن کیا کہ نہیں کیا؟ میں ایک بار پھر حیران ہو گیا کہ اسے تو حالات حاضرہ کا بھی بھرپور علم ہے خیر میں نے اس سے کہا ہاں مظفر آباد میں موجود لشکر طیبہ کے دفتر پر پاکستانی فوج نے آپریشن کیا ہے اور چند گرفتاریاں بھی کیں ہیں یہ بتانے کے بعد میں نے اس سے پوچھا نہ بکرے میاں یہ تمہیں حالات حاضرہ کا علم کس طرح سے ہے اور یہ بھی بتاٶ کہ میرا نام کیسے جانتے ہو؟ اس نے کہا کہ صاحب میرا مالک جب روزانہ میرے آگے گھاس ڈالنے لگتا تو پہلے ایک دو روز پرانے اخبار پھیلا دیتا اور اوپر گھاس رکھ دیتا۔ جب میں گھاس کھا لیتا ہوں تو اخبار پڑھتا رہتا ہوں اس لئے مجھے حالات حاضرہ کا علم رہتا ہے اور مجھے آپ کے نام کا علم بھی اسی خاطر تھا کہ میں آپ کا کالم اخبار میں پڑھتا رہتا ہوں۔ تب میں نے پھر اس سے سوال کیا کہ تم لشکر طیبہ کے بارے میں کیوں پوچھ رہے اس کے علاوہ بھی تو کئی معاملات آج کل گرم ہیں۔ اس نے کہا کہ صاحب دراصل ہم بکرے توحید پر یقین رکھتے ہیں تو اس لئے ہم بھی مسلمان ہوئے اور تمام مسلمان ایک جسم کی مانند ہوتے ہیں اگر جسم کے کسی بھی حصے کو تکلیف ہو تو پورے جسم کو درد ہوتا ہے اس لئے میں مسلمانوں کے آج کل کے حالات سے بہت پریشان ہوں خصوصاً اس وقت دنیا میں پاکستان کا جو کردار ہے اس پرمجھے بہت تشویش ہے اصل میں دنیا میں جتنے بھی مسلمان ممالک ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی ملک صرف اسلام کے نام پر نہیں بنا سوائے پاکستان کے اور اب دیکھو تو پاکستان ہی وہ واحد ملک ہے جو مسلمانوں کو امریکہ اور بھارت کی خوشنودی کےلئے چن چن کر مار رہا ہے۔
میں نے یہاں پر فوراً اسے ٹوکا اور کہا کہ یہ سب دہشت گرد ہیں اور ہم لوگ امریکہ اور بھارت کے کہنے پر نہیں بلکہ اپنے ملک کے فائدے کےلئے یہ ’’جنگ‘‘ لڑ رہے ہیں بکرا بولا ارے صاحب یہ با تیں آپ انسان تو شاید سوچ سکتے ہوں لیکن ہم جانور تو سیدھا سیدھا سوچتے ہیں میں تو بس اتنا جانتا ہوں کہ اگر یہ پاکستان کی اپنی جنگ ہوتی تو 9/11 سے پہلے شروع ہو چکی ہوتی یہ جنگ تو 9/11 کے واقعات کے بعد شروع ہوئی جب امریکہ نے دہشت گردی کی جنگ کا نعرہ لگایا تو اس د ہشت گردی کے خلاف جنگ کا خیال آپ پاکستانیوں کو پہلے کیوں نہ آیا؟ اور اب لشکر طیبہ کے خلاف آپریشن بھی آپ لوگوں نے ممبئی حملوں کے بعد شروع کیا اگر یہ تنظیم بھی پاکستان کےلئے مضر صحت تھی تو ممبئی حملوں سے پہلے اسی تنظیم پر اسی طرح سے آپریشن کیوں نہ ہوا۔ صاحب برا نہ ماننا میں کچھ سخت باتیں کہنے جارہا ہوں۔ ویسے تو مجھے بہت سے لوگوں سے گلے شکوے ہیں اکثر اوقات انسانوں کے لیڈروں سے اور علماء سے بھی اکثر خائف رہتا ہوں لیکن مجھے اصل گلہ تو تمہارے ملک کی فوج سے ہے کہ ’’پاکستان کی خاطر یہ فوج کبھی کام نہیں آئی‘‘ مجھے بہت غصہ آیا اور میں نے کہا کہ اس ملک کی فوج کو کچھ نہ کہو۔ تمہیں علم نہیں کہ اس فوج نے 65ء کی لڑائی کس طرح لڑی اور بھارت کو مار بھگایا بکرا جھٹ سے بوالا ارے صاحب کیسی باتیں کرتے ہو یہ تو تم وہی مثال دے رہے ہو جیسے کسی بچے نے بچین میں ماں باپ کو ’’الف‘‘ لکھ کر دکھا دیا اوراس بچے کے باپ نے اسے مہنگے سکول میں داخل کروا دیا کہ بچہ بڑا ذہین ہے اور پھر ہر ماہ اس مہنگے سکول کی مہنگی فیسیں بھرتا رہا لیکن بچہ اس دن کے بعد ہمیشہ فیل ہی ہوتا رہا اور جب اس کا باپ اس بچے کی ماں کو شکایت کرتا تو وہ کہتی کہ کیسی باتیں کرتے ہو تم نہیں جانتے کہ بچے نے ’’الف‘‘ لکھ کر تو دکھایا تھا۔ صاحب اب تم ہی بتاٶ کہ وہ الف کا لفظ ہی اس بچے کےلئے کافی ہے کیا؟ کیا تم 71ء کی شکست‘ بنگلہ دیش کا قیام اور کارگل کو بھول گئے ہو؟ صاحب تم تو بھول گئے ہو لیکن میرے مطابق یہ فوج اپنی ناکامیاں نہیں بھولتی۔ یہ فوج امریکہ سے تو جنگ کرنے سے رہی لیکن تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فوج اب بھارت سے بھی نہیں لڑنا چاہتی اس لئے تو اپنے ہی ملک کے مجاہدین کو دہشت گرد قرار دےکر ان کو پکڑ رہی ہے اور مار رہی ہے تاکہ بھارت سے کہیں لڑنا ہی نہ پڑ جائے؟ اگر یہی کچھ ہی کرنا تھا تو پھر کشمیر میں ایسے حالات کیوں پیدا کئے جن کی وجہ سے اسی ہزار مسلمان شہید ہو گئے سب جانتے ہیں کہ کشمیر کا جہاد افواج پاکستان کی مدد سے ہوا تھا میری مانو تو اب مقبوضہ کشمیر کو قصہ پارنیہ کی طر ح بھول جاٶ ۔ ان تلوں میں تیل نہیں جب تمہارے ملک کی فوج ہی ان دشمنوں کی دوست بن گئی تو تم دشمن رکھ کر کیا کرو گے؟
یہ باتیں کرنے کے بعد بکرے نے کہا صاحب ہم باتوں میں لگ گئے قربانی کا وقت جارہا ہے کوئی قصائی ہے یا پھر مجھے خود ہی حلال کرو گے میں چونک پڑا اور کہا کہ بکرے میاں تمہیں ڈر نہیں لگتا کہ تم خود ہی اپنی قربانی کی جلدی کر رہے ہو؟ تو بکرے نے جواب دیا کہ صاحب ہم تو اﷲ پر توکل کرتے ہیں یہ جان تو اسی ذات پاک کی خاطر ہے میرے والد نے اسی پاک ذات کی خاطر اپنی جان کی قربانی دی میری ماں نے بھی دی میرے بہن بھائیوں نے بھی دی اور میری بیوی نے بھی دی اب میں ہی باقی تھا اس لئے کافی بے چین تھا۔ میں نے اپنے بچوں کو بھی نصیحت کردی ہے کہ قربان ہونے کےلئے تیار رہنا۔ کیا آپ اسی بات سے حیران نہیں ہوتے کہ اتنی زیادہ تعداد میں قربانیوں کے باوجود ہماری نسل ختم یا کم نہیں ہوتی بلکہ ہماری نسل ہمیشہ مزید بڑھتی ہے اور یہ سب اﷲ کی طرف سے برکت کی وجہ سے ہے یہ یقیناً اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ہماری قربانیوں کی قبولیت کا صلہ ہے کہ ہم تعداد میں اور بڑھتے چلے جاتے ہیں میرا یہ یقین ہے کہ مسلمان کی زندگی تو شروع ہی مرنے کے بعد ہوتی ہے اور جو شہید ہو وہ تو زندہ رہتا ہے اﷲ پاک ان کو رزق بھی دیتا ہے اب میں بھی بہت بے چین ہوں کہ اﷲ کی راہ میں اپنی جان کی قربانی پیش کرنے کے بعد شہداء کے گھروں میں جا شامل ہوں اور ان اسی ہزار کشمیریوں سے جا سوال کروں کہ انہیں آج کے حالات دیکھنے کے بعد کیسا محسوس ہوتا ہے کہ کیا کہیں ان کو یہ محسوس نہیں ہوتا کہ ان کی جان کا نذرانہ بیکار گیا۔
+پھر اچانک اس بکرے نے فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو کہ اﷲ تعالیٰ نے سینگ ٹوٹے بکرے کی قربانی کیوں منع کی ہے پھر خود ہی جواب دیا کیونکہ اکثر آپس میں لڑتے ہوئے بکروں کے سینگ آپس میں الجھ کر ٹوٹ جاتے ہیں تو اصل بات یہی ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے اس بات کو ناپسند کیا ہے کہ آپس میں اپنوں سے لڑائی جھگڑا نہ رکھو تو پس جو بکرا اپنوں سے لڑ چکا ہو تا تو یقیناً اس لئے اس کا سینگ ٹوٹا ہو گا اور اس کی قربانی بھی قبول نہ ہوگی۔ جب آپس میں لڑنے والے گروپ کی قربانی قبول نہ ہوگی تو اﷲ تعالیٰ اس فوج کی قربانی کیا قبول کرے گا جو اپنے ہی لوگوں کو مار چکی ہوگی۔
میں نے اس بکرے کے منہ سے یہ سن کر حیرانی میں اپنے سر پر ہاتھ مارا تو اتنے میں میری آنکھ کھل گئی اور پتہ چلا کہ میں یہ خواب دیکھ رہا تھا پھر میں فوراً نہا دھو کر تیار ہوا اور عید نماز پڑھنے کے بعد بھائی کو لےکر بکرا منڈی پہنچا تو وہی خواب کے حالات نظر آئے اور ویسے ہی الفاظ بھائی نے کہے پھر جب منڈی کے اندر داخل ہوا تو اسی شکل کا بکرا مجھے نظر آیا میں نے اس کا سودا کیا اور گھر آ کر فوراً قصائی کو بلوایا اور اسے قربان کروا دیا کیونکہ میں ڈرا ہوا تھا کہ اگر واقعی اس بکرے نے بولنا شروع کردیا تو میرے پاس اس کے کسی سوال کا جواب نہیں ہے
(نوٹ:13دسمبر 2008 کو نواۓ وقت ملتان میں شاۓ ھوا )مستقل نام کالم “کچھ کھنا ھے”


زمرہ متفرق کے تحت شائع ہوا |


ایک تبصرہ برائے 'خواب میں حقیقت'

  1. ڈفر لکھتے ہیں:

    بہت عمدہ جناب :)

تبصرہ لکھیے